مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وُهَيْبٌ ، دَاوُدَ ، عَامِرٍ ، عَلْقَمَةَ ، لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ:" مَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْجِنِّ؟ فَقَالَ: مَا كَانَ مَعَهُ مِنَّا أَحَدٌ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
علقمہ کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھا: «ليلة الجن» (جنوں والی رات) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ آپ لوگوں میں سے کون تھا؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ہم میں سے کوئی نہ تھا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 85]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الصلاة 33 (450)، سنن الترمذی/تفسیرالقرآن 46 (3258)، (تحفة الأشراف: 9463)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/436) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا جنوں کے پاس جانا چھ مرتبہ ثابت ہے، پہلی بار کا واقعہ مکہ میں پیش آیا اس وقت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نہیں تھے جیسا کہ مسلم اور ترمذی کے اندر سورہ احقاف کی تفسیر میں مذکور ہے، دوسری مرتبہ کا واقعہ مکہ ہی میں جبل حجون پر پیش آیا، تیسرا واقعہ اعلی مکہ میں پیش آیا، جب کہ چوتھا مدینہ میں بقیع غرقد کا ہے، ان تینوں راتوں میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ تھے، پانچواں واقعہ مدنی زندگی میں مدینہ سے باہر پیش آیا اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ تھے، چھٹا واقعہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کسی سفر کا ہے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ بلال بن الحارث رضی اللہ عنہ تھے (ملاحظہ ہو: الکوکب الدری شرح الترمذی)۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم (450)
الحكم: صحيح