ابْنُ بَشَّارٍ ، أَبُو دَاوُدَ يَعْنِي الطَّيَالِسِيَّ ، شُعْبَةُ ، عَاصِمٍ ، أَبِي حَاجِبٍ ، الْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو وَهُوَ الْأَقْرَعُ
حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ يَعْنِي الطَّيَالِسِيَّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي حَاجِبٍ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو وَهُوَ الْأَقْرَعُ،" أن النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَتَوَضَّأَ الرَّجُلُ بِفَضْلِ طَهُورِ الْمَرْأَةِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
حکم بن عمرو یعنی اقرع سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مرد کو عورت کے بچے ہوئے پانی سے وضو کرنے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 82]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن الترمذی/الطھارة 47 (64)، سنن النسائی/المیاہ 11 (344)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 34 (373)، (374) ولفظه: ’’عبدالله بن سرجس‘‘، (تحفة الأشراف: 3421)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/213، 5/66) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: مرد اور عورت کے بچے ہوئے پانی سے پاکی حاصل کرنے کی ممانعت اور جواز سے متعلق روایات میں تطبیق کی ایک صورت یہ ہے کہ ممانعت کی روایتوں کو اس پانی پر محمول کیا جائے جو اعضاء کو دھوتے وقت گرا ہو، اور جواز کی روایتوں کو اس پانی پر جو برتن میں بچا ہو، دوسری صورت یہ ہے کہ ممانعت کی روایتوں کو نہی تنزیہی پر محمول کیا جائے۔
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
مشكوة المصابيح (471)
الحكم: صحيح