بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابو داؤد

حدیث نمبر: 610 — باب: جب دو آدمیوں میں سے ایک امامت کرے تو دونوں کیسے کھڑے ہوں؟
کتب سنن ابو داؤد کتاب: نماز کے احکام و مسائل باب: جب دو آدمیوں میں سے ایک امامت کرے تو دونوں کیسے کھڑے ہوں؟ حدیث 610
مُسَدَّدٌ ، يَحْيَى ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَطَاءٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" بِتُّ فِي بَيْتِ خَالَتِي مَيْمُونَةَ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ فَأَطْلَقَ الْقِرْبَةَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ أَوْكَأَ الْقِرْبَةَ ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ، فَقُمْتُ فَتَوَضَّأْتُ كَمَا تَوَضَّأَ ثُمَّ جِئْتُ، فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخَذَنِي بِيَمِينِهِ فَأَدَارَنِي مِنْ وَرَائِهِ فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ فَصَلَّيْتُ مَعَهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر رات بسر کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کو اٹھے، مشک کا منہ کھول کر وضو کیا پھر اس میں ڈاٹ لگا دی، پھر نماز کے لیے کھڑے ہوئے، پھر میں بھی اٹھا اور اسی طرح وضو کیا جس طرح آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وضو کیا تھا، پھر میں آ کر آپ کے بائیں جانب کھڑا ہو گیا، تو آپ نے اپنے داہنے ہاتھ سے مجھے پکڑا، اور اپنے پیچھے سے لا کر اپنی داہنی طرف کھڑا کر لیا، پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 610]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح مسلم/المسافرین 26 (763)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 44 (973)، (تحفة الأشراف: 5908)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العلم 41 (117)، والأذان 57 (697)، 59 (699)، 79 (728)، واللباس 71 (5919)، سنن النسائی/الغسل 29 (443)، الإمامة 22 (807)، وقیام اللیل 9 (1621)، مسند احمد (1/215، 252، 258، 287، 341، 347، 354، 357، 360، 365)، سنن الدارمی/الصلاة 43 (1290) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
اس میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کی فضیلت کا اثبات ہے کہ انہیں اوائل عمر ہی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے معمولات کے مشاہدہ کا شوق تھا۔ ایک شخص جو اپنی نماز پڑھ رہا ہو، اس کو امام بنانا جائز ہے خواہ اس نے امام بننے کی نیت نہ کی ہو۔ بعض اوقات تہجد یا نفل نماز کی جماعت کرائی جا سکتی ہے۔ دو آدمیوں کی جماعت بھی درست ہے اور اس صورت میں وہ دونوں ایک صف میں برابر کھڑے ہوں گے۔ اثنائے نماز میں کوئی ضروری اصلاح ممکن ہو تو کر دینے اور قبول کر لینے میں کوئی حرج نہیں۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم (763)
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (609) باب پر واپس اگلی حدیث (611) →