حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُخْتَارِ ، مُوسَى بْنِ أَنَسٍ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُخْتَارِ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسٍ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّهُ وَامْرَأَةً مِنْهُمْ، فَجَعَلَهُ عَنْ يَمِينِهِ وَالْمَرْأَةَ خَلْفَ ذَلِكَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کی اور ان کے گھر کی ایک عورت کی امامت کی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں (یعنی انس رضی اللہ عنہ کو) اپنے داہنی طرف کھڑا کیا، اور عورت کو پیچھے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 609]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/المساجد 48 (660)، سنن النسائی/الإمامة 20 (804)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 44 (975)، (تحفة الأشراف: 1609)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/194، 258، 261) (صحیح)»
وضاحت
بعض اوقات نفل نماز کی جماعت ہو سکتی ہے۔ اور ہو سکتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے برکت رسانی کے ارادے سے نماز پڑھائی ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں نماز کی تعلیم کے لیے ایسے کیا ہو تاکہ عورتیں بھی قریب سے آپ کی نماز کا مشاہدہ کر لیں (نووی)۔ جماعت میں دو مرد ہوں تو دونوں کی ایک صف ہو گی۔ امام بائیں جانب اور مقتدی اس سے دائیں جانب کھڑا ہو گا۔ اور عورت خواہ اکیلی ہو یا زیادہ ان کی علیحدہ صف ہو گی۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم (660)
الحكم: صحيح