عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، ابْنِ عَقِيلٍ ، مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ ، عَلِيٍّ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ ابْنِ عَقِيلٍ، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مِفْتَاحُ الصَّلَاةِ الطُّهُورُ، وَتَحْرِيمُهَا التَّكْبِيرُ، وَتَحْلِيلُهَا التَّسْلِيمُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”نماز کی کنجی طہارت، اس کی تحریم تکبیر کہنا، اور تحلیل سلام پھیرنا ہے“ ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 61]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن الترمذی/الطھارة 3 (3)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 3 (275)، (تحفة الأشراف: 10265)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/123)، سنن الدارمی/الطھارة 22 (714) (حسن صحیح)»
وضاحت
۱؎: تحریم سے مراد ان سارے افعال کو حرام کرنا ہے جنہیں اللہ تعالی نے نماز میں حرام کیا ہے، اسی طرح تحلیل سے مراد ان سارے افعال کو حلال کرنا ہے جنہیں اللہ تعالی نے نماز سے باہر حلال کیا ہے، یہ حدیث جس طرح اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ نماز کا دروازہ بند ہے جسے انسان وضو کے بغیر کھول نہیں سکتا اسی طرح اس پر بھی دلالت کرتی ہے کہ اللہ اکبر کے علاوہ کسی اور دوسرے جملہ سے تکبیر تحریمہ نہیں ہو سکتی اور سلام کے علاوہ آدمی کسی اور چیز کے ذریعہ نماز سے نکل نہیں سکتا۔
قال الشيخ الألباني
حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
مشكوة المصابيح (312)
ابن عقيل ضعفه الجمھور وللحديث شواھد كثيرة منھا قول ابن مسعود رضي الله عنه، رواه البيهقي (2/ 16) وسنده صحيح وله حكم المرفوع، فالحديث حسن
الحكم: حسن صحيح