هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ ، أَبِي ، جَعْفَرٌ يَعْنِي ابْنَ بُرْقَانَ ، يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ الْأَصَمِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ يَعْنِي ابْنَ بُرْقَانَ، عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ الْأَصَمِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَرْفَعُهُ، قَالَ:" الْأَرْوَاحُ جُنُودٌ مُجَنَّدَةٌ فَمَا تَعَارَفَ مِنْهَا ائْتَلَفَ وَمَا تَنَاكَرَ مِنْهَا اخْتَلَفَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”روحیں (عالم ارواح میں) الگ الگ جھنڈوں میں ہوتی ہیں یعنی (بدن کے پیدا ہونے سے پہلے روحوں کے جھنڈ الگ الگ ہوتے ہیں) تو ان میں سے جن میں آپس میں (عالم ارواح میں) جان پہچان تھی وہ دنیا میں بھی ایک دوسرے سے مانوس ہوتی ہیں اور جن میں اجنبیت تھی وہ دنیا میں بھی الگ الگ رہتی ہیں“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4834]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/البر والصلة 49 (3638)، (تحفة الأشراف: 14820)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/295، 527، 539) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم (2638)
الحكم: صحيح