عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ، ابْنُ الْمُبَارَكِ ، حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ، سَالِمِ بْنِ غَيْلَانَ ، الْوَلِيدِ بْنِ قَيْسٍ ، أَبِي سَعِيدٍ ، أَبِي الْهَيْثَمِ ، أَبِي سَعِيدٍ
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ غَيْلَانَ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَوْ عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تُصَاحِبْ إِلَّا مُؤْمِنًا وَلَا يَأْكُلْ طَعَامَكَ إِلَّا تَقِيٌّ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کے سوا کسی کو ساتھی نہ بناؤ ۱؎، اور تمہارا کھانا سوائے پرہیزگار کے کوئی اور نہ کھائے“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4832]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن الترمذی/الزہد 55 (2395)، (تحفة الأشراف: 4399)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/38) (حسن)»
وضاحت
۱؎: اس میں کفار و منافقین کی مصاحبت سے ممانعت ہے کیونکہ ان کی مصاحبت دین کے لئے ضرر رساں ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (5018)
أخرجه الترمذي (2395 وسنده صحيح)
الحكم: حسن