مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، ابْنُ إِدْرِيسَ ، ابْنَ أَبْجَرَ ، إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ ، أَبِي رِمْثَةَ فِي هَذَا الْخَبَرِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبْجَرَ، عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ فِي هَذَا الْخَبَرِ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ أَبِي: أَرِنِي هَذَا الَّذِي بِظَهْرِكَ فَإِنِّي رَجُلٌ طَبِيبٌ، قَالَ: اللَّهُ الطَّبِيبُ بَلْ أَنْتَ رَجُلٌ رَفِيقٌ طَبِيبُهَا الَّذِي خَلَقَهَا.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
اس سند سے ابورمثہ رضی اللہ عنہ سے اس حدیث میں مروی ہے کہ میرے والد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا کہ مجھے آپ اپنی وہ چیز دکھائیں جو آپ کی پشت پر ہے کیونکہ میں طبیب ہوں، آپ نے فرمایا: ”طبیب تو اللہ ہے، بلکہ تو رفیق ہے (مریض کو تسکین اور دلاسے دیتا ہے) طبیب تو وہی ہے جس نے اسے پیدا کیا ہے“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب التَّرَجُّلِ/حدیث: 4207]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: (4065)، (تحفة الأشراف: 12036) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
انظر الحديث السابق (4065)
الحكم: صحيح