عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، فُلَيْحٌ ، سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنِي فُلَيْحٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ عَلَى رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ، وَهُوَ يُحَوِّلُ الْمَاءَ فِي حَائِطِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنْ كَانَ عِنْدَكَ مَاءٌ بَاتَ هَذِهِ اللَّيْلَةَ فِي شَنٍّ وَإِلَّا كَرَعْنَا، قَالَ: بَلْ عِنْدِي مَاءٌ بَاتَ فِي شَنٍّ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور آپ کے اصحاب میں سے ایک شخص ایک انصاری کے پاس آئے وہ اپنے باغ کو پانی دے رہا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تمہارے پاس مشکیزہ میں رات کا باسی پانی ہو تو بہتر ہے، ورنہ ہم منہ لگا کر نہر ہی سے پانی پی لیتے ہیں“ اس نے کہا: نہیں بلکہ میرے پاس مشکیزہ میں رات کا باسی پانی موجود ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 3724]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الأشربة 20 (5613)، سنن ابن ماجہ/الأشربة 25 (3432)، (تحفة الأشراف: 2250)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/328، 343، 344)، سنن الدارمی/الأشربة 22 (2169) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نہر، نالی اور دریا سے منہ لگا کر پانی پی لینا اس صورت میں صحیح ہے کہ جب کوئی برتن ساتھ میں نہ ہو، لیکن ہاتھ سے پینا بہتر ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (5621)
الحكم: صحيح