مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي عُمَرَ يَحْيَى الْبَهْرَانِيِّ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي عُمَرَ يَحْيَى الْبَهْرَانِيِّ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" كَانَ يُنْبَذُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الزَّبِيبُ، فَيَشْرَبُهُ الْيَوْمَ وَالْغَدَ وَبَعْدَ الْغَدِ إِلَى مَسَاءِ الثَّالِثَةِ، ثُمَّ يَأْمُرُ بِهِ، فَيُسْقَى الْخَدَمُ أَوْ يُهَرَاقُ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: مَعْنَى يُسْقَى الْخَدَمُ: يُبَادَرُ بِه الْفَسَادَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: أَبُو عُمَرَ يَحْيَى بْنُ عُبَيْدٍ الْبَهْرَانِيُّ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لیے کشمش کی نبیذ تیار کی جاتی تو آپ اس دن پیتے، دوسرے دن پیتے اور تیسرے دن کی شام تک پیتے پھر حکم فرماتے تو جو بچا ہوتا اسے خدمت گزاروں کو پلا دیا جاتا یا بہا دیا جاتا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: خادموں کو پلانے کا مطلب یہ ہے کہ خراب ہونے سے پہلے پہلے انہیں پلا دیا جاتا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 3713]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الأشربة 9 (2004)، سنن النسائی/الأشربة 55 (5740)، سنن ابن ماجہ/الأشربة 12 (3399)، (تحفة الأشراف: 6548)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/232، 240، 287،355) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم (2004)
الحكم: صحيح