مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيِّ ، يُونُسَ بْنِ عُبَيدٍ ، الْحَسَنِ ، أُمِّهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيِّ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيدٍ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" كَانَ يُنْبَذُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سِقَاءٍ يُوكَأُ أَعْلَاهُ، وَلَهُ عَزْلَاءُ يُنْبَذُ غُدْوَةً فَيَشْرَبُهُ عِشَاءً، وَيُنْبَذُ عِشَاءً فَيَشْرَبُهُ غُدْوَةً".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لیے ایک ایسے چمڑے کے برتن میں نبیذ تیار کی جاتی تھی جس کا اوپری حصہ باندھ دیا جاتا، اور اس کے نیچے کی طرف بھی منہ ہوتا، صبح میں نبیذ بنائی جاتی تو اسے شام میں پیتے اور شام میں نبیذ بنائی جاتی تو اسے صبح میں پیتے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 3711]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الأشربة 9 (2005)، سنن الترمذی/الأشربة 7 (1871)، (تحفة الأشراف: 17836) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: فجر سے لیکر سورج چڑہنے تک کے درمیانی وقت کو «غدوۃ» کہتے ہیں، اور زوال کے بعد سے سورج ڈوبنے تک کے وقت کو «عشاء» کہتے ہیں۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم (2005)
الحكم: صحيح