مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، أَبُو أَحْمَدَ ، سُفْيَانُ ، عَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ ، قَيْسُ بْنُ حَبْتَرٍ النَّهْشَلِيُّ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ، حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ حَبْتَرٍ النَّهْشَلِيُّ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ، قَالُوا:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، فِيمَ نَشْرَبُ؟، قَالَ: لَا تَشْرَبُوا فِي الدُّبَّاءِ، وَلَا فِي الْمُزَفَّتِ، وَلَا فِي النَّقِيرِ، وَانْتَبِذُوا فِي الْأَسْقِيَةِ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَإِنِ اشْتَدَّ فِي الْأَسْقِيَةِ؟، قَالَ: فَصُبُّوا عَلَيْهِ الْمَاءَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ لَهُمْ فِي الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ: أَهْرِيقُوهُ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَيَّ أَوْ حُرِّمَ الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْكُوبَةُ، قَالَ: وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ"، قَالَ سُفْيَانُ: فَسَأَلْتُ عَلِيَّ بْنَ بَذِيمَةَ عَنْ الْكُوبَةِ، قَالَ: الطَّبْلُ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں وفد عبدالقیس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم کس برتن میں پیئیں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”دباء، مزفت اور نقیر میں مت پیو، اور تم نبیذ مشکیزوں میں بنایا کرو“ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول اگر مشکیزے میں تیزی آ جائے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اس میں پانی ڈال دیا کرو“ وفد کے لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! (اگر پھر بھی تیزی نہ جائے تو) آپ نے ان سے تیسری یا چوتھی مرتبہ فرمایا: ”اسے بہا دو ۱؎“ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھ پر شراب، جوا، اور ڈھولک کو حرام قرار دیا ہے“ یا یوں کہا: ”شراب، جوا، اور ڈھول ۲؎ حرام قرار دے دی گئی ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے“۔ سفیان کہتے ہیں: میں نے علی بن بذیمہ سے کوبہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: وہ ڈھول ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 3696]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم:(3690)، (تحفة الأشراف: 6333)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/274، 289، 350) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نبیذ کا استعمال صرف اس وقت تک درست ہے جب تک کہ اس میں تیزی سے جھاگ نہ اٹھنے لگے، اگر اس میں تیزی کے ساتھ جھاگ اٹھنے لگے تو اس کا استعمال جائز نہیں ہے۔
۲؎: حدیث میں «کوبۃ» کا لفظ ہے جس کے معنی: شطرنج، نرد، ڈگڈگی، بربط اور دوا وغیرہ پیسنے کے بٹہ کے آتے ہیں، یہاں پر علی بن بذیمۃ کی تفسیر کے مطابق «کوبۃ» کا ترجمہ ”ڈھول“ سے کیا گیا ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (4503)
الحكم: صحيح