سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيدٍ ، حَمَّادٌ ، مُسَدَّدٌ ، عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، أَبِي جَمْرَةَ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: وَقَالَ مُسَدَّدٌ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَهَذَا حَدِيثُ سُلَيْمَانَ، قَالَ:" قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا هَذَا الْحَيَّ مِنْ رَبِيعَةَ قَدْ حَالَ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ كُفَّارُ مُضَرَ، وَلَسْنَا نَخْلُصُ إِلَيْكَ إِلَّا فِي شَهْرٍ حَرَامٍ، فَمُرْنَا بِشَيْءٍ نَأْخُذُ بِهِ وَنَدْعُو إِلَيْهِ مَنْ وَرَاءَنَا، قَالَ:" آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ: الْإِيمَانُ بِاللَّهِ، وَشَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَعَقَدَ بِيَدِهِ وَاحِدَةً، وَقَالَ مُسَدَّدٌ: الْإِيمَانُ بِاللَّهِ؟ ثُمَّ فَسَّرَهَا لَهُمْ" شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامُ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ، وَأَنْ تُؤَدُّوا الْخُمُسَ مِمَّا غَنِمْتُمْ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ: الدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالْمُزَفَّتِ، وَالْمُقَيَّرِ"، وَقَالَ ابْنُ عُبَيْدٍ: النَّقِيرُ: مَكَانَ الْمُقَيَّرِ، وَقَالَ مُسَدَّدٌ: وَالنَّقِيرُ وَالْمُقَيَّرُ وَلَمْ يَذْكُرِ الْمُزَفَّتِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: أَبُو جَمْرَةَ نَصْرُ بْنُ عِمْرَانَ الضُّبَعِيُّ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس عبدالقیس کا وفد آیا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم لوگ بنو ربیعہ کا ایک قبیلہ ہیں، ہمارے اور آپ کے درمیان مضر کے کفار حائل ہیں، ہم آپ تک حرمت والے مہینوں ۱؎ ہی میں پہنچ سکتے ہیں، اس لیے آپ ہمیں کچھ ایسی چیزوں کا حکم دے دیجئیے کہ جن پر ہم خود عمل کرتے رہیں اور ان لوگوں کو بھی ان پر عمل کے لیے کہیں جو اس وفد کے ساتھ نہیں آئے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں چار باتوں کا حکم دیتا ہوں، اور چار چیزوں سے منع کرتا ہوں (جن کا حکم دیتا ہوں وہ یہ ہیں) اللہ پر ایمان لانا اور اس بات کی گواہی دینی کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں (اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہاتھ سے ایک کی گرہ بنائی، مسدد کہتے ہیں: آپ نے اللہ پر ایمان لانا، فرمایا، پھر اس کی تفسیر کی کہ اس کا مطلب) اس بات کی گواہی دینا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی بندگی کے لائق نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں، اور نماز قائم کرنا، زکاۃ ادا کرنا، اور مال غنیمت سے پانچواں حصہ دینا ہے، اور میں تمہیں دباء، حنتم، مزفت اور مقیر سے منع کرتا ہوں“۔ ابن عبید نے لفظ مقیر کے بجائے نقیر اور مسدد نے نقیر اور مقیر کہا، اور مزفت کا ذکر نہیں کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوجمرہ کا نام نصر بن عمران ضبعی ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 3692]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الإیمان40 (53)، العلم 25 (187)، المواقیت 2 (523)، الزکاة 1 (1398)، المناقب 5 (3510)، المغازي 69 (4369)، الأدب 98 (6176)، خبر الواحد 5 (7266)، التوحید 56 (7556)، صحیح مسلم/ الإیمان 6 (17)، الأشربة 6 (1995)، سنن الترمذی/السیر 39 (1599)، الإیمان 5 (2611)، سنن النسائی/الإیمان 25 (5034)، الأشربة 5 (5551)، (تحفة الأشراف: 6524)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/128، 274، 291، 304، 334، 340،352، 361)، سنن الدارمی/الأشربة 14 (5662)، ویأتی بعضہ فی السنة (4677) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: حرمت والے مہینوں سے مراد ذی قعدہ، ذی الحجہ، محرم اور رجب کے مہینے ہیں۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (523) صحيح مسلم (17 بعد ح1995)
الحكم: صحيح