مُسَدَّدٌ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَمْرَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كَانَ النَّاسُ مُهَّانَ أَنْفُسِهِمْ، فَيَرُوحُونَ إِلَى الْجُمُعَةِ بِهَيْئَتِهِمْ، فَقِيلَ لَهُمْ: لَوِ اغْتَسَلْتُمْ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ لوگ اپنے کام خود کرتے تھے، اور جمعہ کے لیے اسی حالت میں چلے جاتے تھے (ان کی بو سے لوگوں کو تکلیف ہوتی تھی، جب اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ہوا) تو ان لوگوں سے کہا گیا: ”کاش تم لوگ غسل کر کے آتے“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 352]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الجمعة 16 (903)، والبیوع 15 (2071)، صحیح مسلم/الجمعة 1 (847)، (تحفة الأشراف: 17935)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الجمعة 9 (1380)، مسند احمد (6/62) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (903) صحيح مسلم (847)
الحكم: صحيح