بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابو داؤد

حدیث نمبر: 3508 — باب: ایک شخص نے غلام خریدا اور اسے کام پر لگایا پھر اس میں عیب کا پتہ چلا تو اس کی اجرت خریدار کے ذمہ ہے۔
کتب سنن ابو داؤد کتاب: اجارے کے احکام و مسائل باب: ایک شخص نے غلام خریدا اور اسے کام پر لگایا پھر اس میں عیب کا پتہ چلا تو اس کی اجرت خریدار کے ذمہ ہے۔ حدیث 3508
حدیث نمبر: 3508 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، مَخْلَدِ بْنِ خُفَافٍ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ مَخْلَدِ بْنِ خُفَافٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْخَرَاجُ بِالضَّمَانِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: خراج ضمان سے جڑا ہوا ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَابُ الْإِجَارَةِ/حدیث: 3508]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن الترمذی/البیوع 53 (1285)، سنن النسائی/ البیوع 13 (4495)، سنن ابن ماجہ/التجارات 43 (2242، 2243)، (تحفة الأشراف: 16755)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/49، 208، 237) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: مثلاً خریدار نے ایک غلام خریدا اسی دوران غلام نے کچھ کمائی کی تو اس کا حق دار مشتری ہو گا بائع نہیں کیونکہ غلام کے کھو جانے یا بھاگ جانے کی صورت میں مشتری ہی اس کا ضامن ہے۔
قال الشيخ الألباني
حسن
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
مشكوة المصابيح (2879)
أخرجه الترمذي (1285 وسنده حسن) والنسائي (4495 وسنده حسن) وابن ماجه (2242 وسنده حسن)
الحكم: حسن
← پچھلی حدیث (3507) باب پر واپس اگلی حدیث (3509) →