أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ ، مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبُو قِلَابَةَ ، ثَابِتَ بْنَ الضَّحَّاكِ
حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو قِلَابَةَ، أَنَّ ثَابِتَ بْنَ الضَّحَّاكِ، أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ حَلَفَ بِمِلَّةٍ غَيْرِ مِلَّةِ الْإِسْلَامِ كَاذِبًا فَهُوَ كَمَا قَالَ، وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ عُذِّبَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَيْسَ عَلَى رَجُلٍ نَذْرٌ فِيمَا لَا يَمْلِكُهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انہوں نے درخت کے نیچے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بیعت کی ۱؎، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص ملت اسلام کے سوا کسی اور ملت میں ہونے کی جھوٹی قسم کھائے تو وہ ویسے ہی ہو جائے گا جیسا اس نے کہا ہے، اور جو شخص اپنے آپ کو کسی چیز سے ہلاک کر ڈالے (یعنی خودکشی کر لے) تو قیامت میں اس کو اسی چیز سے عذاب دیا جائے گا، اور اس آدمی کی نذر نہیں مانی جائے گی جو کسی ایسی چیز کی نذر مانے جو اس کے اختیار میں نہ ہو ۲؎“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 3257]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الجنائز 83 (1363)، الأدب 44 (6047)، 73 (6105)، الایمان 7 (6652)، صحیح مسلم/الإیمان 47 (110)، سنن الترمذی/الأیمان 15 (1543)، سنن النسائی/الأیمان 6 (3801)، سنن ابن ماجہ/الکفارات 3 (2098)، (تحفة الأشراف: 2062، 2063)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/33، 34) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: بیعت سے مراد بیعت رضوان ہے، جو صلح حدیببہ کے موقع پر لی گئی۔
۲؎: مثلا یوں کہتے ہیں کہ اگر میں یہ کروں تو یہودی ہو جاؤں، مثلاً دوسرے کے غلام یا لونڈی کو آزاد کرنے کی نذر مانے۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (4171) صحيح مسلم (110)
الحكم: صحيح