بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابو داؤد

حدیث نمبر: 3256 — باب: قسم کھانے میں توریہ کرنا یعنی اصل بات چھپا کر دوسری بات ظاہر کرنا کیسا ہے؟
کتب سنن ابو داؤد کتاب: قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل باب: قسم کھانے میں توریہ کرنا یعنی اصل بات چھپا کر دوسری بات ظاہر کرنا کیسا ہے؟ حدیث 3256
حدیث نمبر: 3256 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ ، أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، إِسْرَائِيلُ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى ، جَدَّتِهِ ، أَبِيهَا سُوَيْدِ بْنِ حَنْظَلَةَ
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ جَدَّتِهِ، عَنْ أَبِيهَا سُوَيْدِ بْنِ حَنْظَلَةَ، قَالَ:" خَرَجْنَا نُرِيدُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَعَنَا وَائِلُ بْنُ حُجْرٍ، فَأَخَذَهُ عَدُوٌّ لَهُ، فَتَحَرَّجَ الْقَوْمُ أَنْ يَحْلِفُوا، وَحَلَفْتُ أَنَّهُ أَخِي، فَخَلَّى سَبِيلَهُ، فَأَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْتُهُ أَنَّ الْقَوْمَ تَحَرَّجُوا أَنْ يَحْلِفُوا، وَحَلَفْتُ أَنَّهُ أَخِي، قَالَ: صَدَقْتَ الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
سوید بن حنظلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم نکلے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس جانے کا ارادہ کر رہے تھے، اور ہمارے ساتھ وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بھی تھے، انہیں ان کے ایک دشمن نے پکڑ لیا تو اور ساتھیوں نے انہیں جھوٹی قسم کھا کر چھڑا لینے کو برا سمجھا (لیکن) میں نے قسم کھا لی کہ وہ میرا بھائی ہے تو اس نے انہیں آنے دیا، پھر جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بتایا کہ اور لوگوں نے تو قسم کھانے میں حرج و قباحت سمجھی، اور میں نے قسم کھا لی کہ یہ میرے بھائی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم نے سچ کہا، ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 3256]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/الکفارات 14 (2119)، (تحفة الأشراف: 4809)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/79) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
أخرجه ابن ماجه (2119 وسنده حسن) جدة إبراھيم بن عبد الأعلٰي وثقھا الحاكم والذهبي
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (3255) باب پر واپس اگلی حدیث (3257) →