قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ الْعَسْقَلَانِيُّ ، مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى بْنِ قَيْسٍ الْمَأْرِبِيَّ ، أَبِي ، ثُمَامَةَ بْنِ شَرَاحِيلَ ، سُمَيِّ بْنِ قَيْسٍ ، شُمَيْرٍ ، أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ الْعَسْقَلَانِيُّ، الْمَعْنَى وَاحِد أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى بْنِ قَيْسٍ الْمَأْرِبِيَّ حَدَّثَهُمْ، أَخْبَرَنِي أَبِي،عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ شَرَاحِيلَ، عَنْ سُمَيِّ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ شُمَيْرٍ، قَالَ ابْنُ الْمُتَوَكِّلِ ابْنِ عَبْدِ الْمَدَانِ، عَنْ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ، أَنَّهُ وَفَدَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَقْطَعَهُ الْمِلْحَ، قَالَ ابْنُ الْمُتَوَكِّلِ: الَّذِي بِمَأْرِبَ فَقَطَعَهُ لَهُ فَلَمَّا أَنْ وَلَّى، قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْمَجْلِسِ: أَتَدْرِي مَا قَطَعْتَ لَهُ إِنَّمَا قَطَعْتَ لَهُ الْمَاءَ الْعِدَّ، قَالَ: فَانْتَزَعَ مِنْهُ، قَالَ وَسَأَلَهُ عَمَّا يُحْمَى مِنَ الأَرَاكِ، قَالَ: مَا لَمْ تَنَلْهُ خِفَافٌ وَقَالَ ابْنُ الْمُتَوَكِّلِ: أَخْفَافُ الإِبِلِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابیض بن حمال ماربی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے نمک کی کان کی جاگیر مانگی (ابن متوکل کی روایت میں ہے: جو مآرب ۱؎ میں تھی) تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں دے دی، لیکن جب وہ واپس مڑے تو مجلس میں موجود ایک شخص نے عرض کیا: جانتے ہیں کہ آپ نے ان کو کیا دے دیا ہے؟ آپ نے ان کو ایسا پانی دے دیا ہے جو ختم نہیں ہوتا، بلا محنت و مشقت کے حاصل ہوتا ہے ۲؎ وہ کہتے ہیں: تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے واپس لے لیا، تب انہوں نے آپ سے پوچھا: پیلو کے درختوں کی کون سی جگہ گھیری جائے؟ ۳؎، آپ نے فرمایا: ”جہاں جانوروں کے پاؤں نہ پہنچ سکیں“ ۴؎۔ ابن متوکل کہتے ہیں: خفاف سے مراد «أخفاف الإبل» (یعنی اونٹوں کے پیر) ہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ/حدیث: 3064]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن الترمذی/الأحکام 39 (1380)، سنن ابن ماجہ/الرھون 17 (2475)، (تحفة الأشراف: 1)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/البیوع 66 (2650) (حسن لغیرہ)» (یہ سند مسلسل بالضعفاء ہے: ثمامہ لیّن، سمی مجہول اور شمیر لین ہیں، لیکن آنے والی حدیث (3066) سے تقویت پا کر یہ حسن ہوئی، اس کی تصحیح ابن حبان نے کی ہے، البانی نے دوسرے طریق کی وجہ سے اس کی تحسین کی ہے، «ما لَمْ تَنَلْهُ خِفَافٌ» کے استثناء کے ساتھ، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود 8؍ 388)
وضاحت
۱؎: یمن کے ایک گاؤں کا نام ہے۔
۲؎: یعنی یہ چیز تو سب کے استعمال و استفادہ کی ہے اسے کسی خاص شخص کی جاگیر میں دے دینا مناسب نہیں۔
۳؎: کہ جس میں اور لوگ نہ آ سکیں اور اپنے جانور وہاں نہ چرا سکیں۔
۴؎: یعنی جو آبادی اور چراگاہ سے دور ہو۔
قال الشيخ الألباني
حسن لغيره
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: حسن لغيره