عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ ، مَالِكٍ ، نَافِعٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُسَافَرَ بِالْقُرْآنِ إِلَى أَرْضِ الْعَدُوِّ"، قَالَ مَالِكٌ: أُرَاهُ مَخَافَةَ أَنْ يَنَالَهُ الْعَدُوُّ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قرآن کو دشمن کی سر زمین میں لے کر سفر کرنے سے منع فرمایا ہے، مالک کہتے ہیں: میرا خیال ہے اس واسطے منع کیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ دشمن اسے پا لے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2610]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الجھاد 129 (2990)، (ولیس عندہ قول مالک)، صحیح مسلم/الإمارة 24 (1869)، سنن ابن ماجہ/الجھاد 45 (2879)، (تحفة الأشراف: 8347)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجھاد 2 (7)، مسند احمد (2/6، 7، 10، 55، 63، 76، 128) (صحیح)» (صحیح مسلم میں آخری ٹکڑا اصلِ حدیث میں سے ہے نہ کہ قولِ مالک سے)
وضاحت
۱؎: اور اس کی بے حرمتی کرے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح ق دون
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (2990) صحيح مسلم (1869)
الحكم: صحيح ق دون