عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ ، نَافِعٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا كَانَ ثَلَاثَةٌ فِي سَفَرٍ فَلْيُؤَمِّرُوا أَحَدَهُمْ"، قَالَ نَافِعٌ: فَقُلْنَا لِأَبِي سَلَمَةَ: فَأَنْتَ أَمِيرُنَا.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تین افراد کسی سفر میں ہوں تو ان میں سے کسی کو امیر بنا لیں ۱؎“، نافع کہتے ہیں: تو ہم نے ابوسلمہ سے کہا: آپ ہمارے امیر ہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2609]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15349) (حسن صحیح)»
وضاحت
۱؎: آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ حکم اس لئے دیا تا کہ ان میں آپس میں اجتماعیت برقرار رہے اور اختلاف کی نوبت نہ آئے اور ایسا جبھی ممکن ہے جب وہ کسی امیر کے تابع ہوں گے۔
قال الشيخ الألباني
حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق (2608) لعلته وللحديث طرق ضعيفة
وأخرج الطبراني (الكبير 208/9 ح 8915) بإسناد حسن عن ابن مسعود قال : ’’ إذا كنتم ثلاثة في سفر فأمروا عليكم أحد كم ‘‘ إلخ
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 95
الحكم: حسن صحيح