مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، أَبِي ، قَتَادَةَ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ، قَالَ: كَانَتْ قَبِيعَةُ سَيْفِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِضَّةً، قَالَ قَتَادَةُ: وَمَا عَلِمْتُ أَحَدًا تَابَعَهُ عَلَى ذَلِكَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
(حسن بصری کے بھائی) سعید بن ابوالحسن کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تلوار کے دستہ کی خول چاندی کی تھی۔ قتادہ کہتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ اس پر ان کی متابعت کسی اور شخص نے کی ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2584]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 1146، 18688) (پچھلی روایت سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہے ورنہ خود یہ روایت مرسل ہے) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
وللحديث شاھد عند النسائي (5375 وسنده صحيح)
الحكم: صحيح لغيره