مُسَدَّدٌ ، حُصَيْنُ بْنُ نُمَيْرٍ ، سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ، عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ الْمَعْنَى ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حُصَيْنُ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ. ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ الْمَعْنَى، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ أَدْخَلَ فَرَسًا بَيْنَ فَرَسَيْنِ يَعْنِي وَهُوَ لَا يُؤْمَنُ أَنْ يَسْبِقَ فَلَيْسَ بِقِمَارٍ، وَمَنْ أَدْخَلَ فَرَسًا بَيْنَ فَرَسَيْنِ وَقَدْ أُمِنَ أَنْ يَسْبِقَ فَهُوَ قِمَارٌ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص دو گھوڑوں کے درمیان ایک گھوڑا داخل کر دے اور گھوڑا ایسا ہو کہ اس کے آگے بڑھ جانے کا یقین نہ ہو تو وہ جوا نہیں، اور جو شخص ایک گھوڑے کو دو گھوڑوں کے درمیان داخل کرے اور وہ اس کے آگے بڑھ جانے کا یقین رکھتا ہو تو وہ جوا ہے“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2579]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابن ماجہ/الجھاد 44 (2876)، (تحفة الأشراف: 1321)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/505) (ضعیف) (’’سفیان بن حسین“ زہری سے روایت میں ضعیف ہیں یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اِسے متصل بنا دیا ہے جبکہ زہری کے ثقہ تلامذہ نے اس کو مرسلا روایت کیا ہے، جیسا کہ مؤلف نے بیان کیا ہے)»
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (2876)
سفيان بن حسين ثقة لكنه ضعيف عن الزهري
انظر تھذيب التهذيب (108/4) وتقريب التهذيب (2437)
قال ابن عبد الھادي : الأكثر علي تضعيفه في روايته عن الزھري (تنقيح التحقيق 106/3 ح 1597،و في نسخة 236/2،المكتبة الشاملة) وقال ابن حجر : ثقة في غير الزھري باتفاقھم (تقريب التهذيب : 2437)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 94
الحكم: ضعيف