مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ ، الْأَعْمَشِ ، سَالِمٍ ، كُرَيْبٍ ، ابْنُ عَبَّاسٍ ، مَيْمُونَةَ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ، عَنْ خَالَتِهِ مَيْمُونَةَ، قَالَتْ:" وَضَعْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُسْلًا يَغْتَسِلُ بِهِ مِنَ الْجَنَابَةِ، فَأَكْفَأَ الْإِنَاءَ عَلَى يَدِهِ الْيُمْنَى فَغَسَلَهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، ثُمَّ صَبَّ عَلَى فَرْجِهِ فَغَسَلَ فَرْجَهُ بِشِمَالِهِ، ثُمَّ ضَرَبَ بِيَدِهِ الْأَرْضَ فَغَسَلَهَا، ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ، ثُمَّ صَبَّ عَلَى رَأْسِهِ وَجَسَدِهِ، ثُمَّ تَنَحَّى نَاحِيَةً فَغَسَلَ رِجْلَيْهِ، فَنَاوَلْتُهُ الْمِنْدِيلَ فَلَمْ يَأْخُذْهُ وَجَعَلَ يَنْفُضُ الْمَاءَ عَنْ جَسَدِهِ"، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِإِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ: كَانُوا لَا يَرَوْنَ بِالْمِنْدِيلِ بَأْسًا، وَلَكِنْ كَانُوا يَكْرَهُونَ الْعَادَةَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ مُسَدَّدٌ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ دَاوُدَ: كَانُوا يَكْرَهُونَهُ لِلْعَادَةِ، فَقَالَ: هَكَذَا هُوَ، وَلَكِنْ وَجَدْتُهُ فِي كِتَابِي هَكَذَا.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لیے غسل جنابت کا پانی رکھا، تاکہ آپ غسل کر لیں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے برتن کو اپنے داہنے ہاتھ پر جھکایا اور اسے دوبار یا تین بار دھویا، پھر اپنی شرمگاہ پر پانی ڈالا، اور بائیں ہاتھ سے اسے دھویا، پھر اپنے ہاتھ کو زمین پر مارا اور اسے دھویا، پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور چہرہ اور دونوں ہاتھ دھوئے، پھر اپنے سر اور جسم پر پانی ڈالا، پھر کچھ ہٹ کر اپنے دونوں پاؤں دھوئے، میں نے بدن پونچھنے کے لیے رومال دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے نہیں لیا، اور پانی اپنے بدن سے جھاڑنے لگے۔ اعمش کہتے ہیں: میں نے اس کا ذکر ابراہیم سے کیا، تو انہوں نے کہا: رومال سے بدن پونچھنے میں لوگ کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے، لیکن اسے عادت بنا لینا برا جانتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مسدد نے کہا: اس پر عبداللہ بن داود سے میں نے پوچھا «العادة» یا «للعادة» ؟ تو انہوں نے جواب دیا «للعادة» ہی صحیح ہے، لیکن میں نے اپنی کتاب میں اسی طرح پایا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 245]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«* تخريج:صحیح البخاری/الغسل 1 (249)، 5 (257)، 7 (259)، 8 (260)، 10 (265)، 11 (266)، 16 (274)، 18 (276)، 21 (281)، صحیح مسلم/الحیض 9 (317)، سنن الترمذی/الطھارة 76 (103)، سنن النسائی/الطھارة 161 (254)، الغسل 7 (408)، 14 (418)، 15(419)، 22 (428)، سنن ابن ماجہ/ الطہارة 94 (573)، (تحفة الأشراف: 18064)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/330، 335، 336)، سنن الدارمی/الطھارة 39 (738)، 66 (774) (صحیح)»
وضاحت
غسل جنابت ہو یا عام غسل، مسنون طریقہ یہی ہے جو ان احادیث میں آیا ہے کہ پہلے استنجا اور زیریں جسم دھویا جائے، بعد ازاں وضو کر کے باقی جسم پر پانی بہایا جائے۔ اس وضو میں سر پر مسح کرنے کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے غسل جنابت سے پہلے وضو میں سر کے مسح کا ذکر نہیں ملتا، صرف تین مرتبہ سر پر پانی بہانے کا ذکر ہے۔ اسی لیے امام نسائی نے باب باندھا ہے ”غسل جنابت سے پہلے وضو میں سر کے مسح کا چھوڑ دینا“ اس باب کے تحت حدیث میں وضو کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے۔ ”یہاں تک کہ جب آپ سر پر پہنچے تو اس کا مسح نہیں کیا، بلکہ اس پر پانی بہایا“ (سنن نسائی حدیث ۴۲۲) غسل کے بعد تولیہ کا استعمال مباح ہے۔ نہ کرے تو سنت رسول پر عمل کر کے ثواب کا امیدوار ہونا چاہیے۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (249) صحيح مسلم (317)
الحكم: صحيح