عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، مُسْلِمٍ ، مَسْرُوقٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ عُثْمَانُ: حَدَّثَنَا، وَقَالَ ابْنُ الْعَلَاءِ: أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" مَنْ شَاءَ لَاعَنْتُهُ لَأُنْزِلَتْ سُورَةُ النِّسَاءِ الْقُصْرَى بَعْدَ الْأَرْبَعَةِ الْأَشْهُرِ وَعَشْرًا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جو بھی چاہے مجھ سے اس بات پر لعان ۱؎ کر لے کہ چھوٹی سورۃ نساء (سورۃ الطلاق) چار مہینے دس دن والے حکم کے بعد نازل ہوئی ۲؎۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2307]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/ تفسیرسورة الطلاق 2 (4909)، سنن النسائی/الطلاق 56 (3552)، سنن ابن ماجہ/الطلاق 7 (2030)، (تحفة الأشراف: 9578) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اس سے مراد مباہلہ ہے۔
۲؎: جو کہ سورہ البقرہ میں ہے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا مطلب یہ کہ ” عام متوفی عنہا زوجہا کے چار ماہ دس دن عدت گزارنے کا حکم سورہ بقرہ میں ہے “، اور ”حاملہ متوفی عنہا زوجہا کی عدت صرف وضع حمل تک ہے “ کا تذکرہ سورہ طلاق کے اندر ہے جو کہ سورہ بقرہ کے بعد اتری ہے اس لئے یہ حکم خاص اس حکم عام کو خاص کرنے والا ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (2030)
الأعمش مدلس وعنعن
وللحديث شواھد ضعيفة (انظر ضعيف سنن النسائي : 3552)
وحديث البخاري (4532) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 86
الحكم: صحيح