مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ ، أَبِي ، مُحَمَّدِ بْنِ رَاشِدٍ
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَاشِدٍ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، زَادَ:" وَهُوَ وَلَدُ زِنَا لِأَهْلِ أُمِّهِ مَنْ كَانُوا حُرَّةً أَوْ أَمَةً، وَذَلِكَ فِيمَا اسْتُلْحِقَ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ، فَمَا اقْتُسِمَ مِنْ مَالٍ قَبْلَ الْإِسْلَامِ فَقَدْ مَضَى".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
اس سند سے بھی محمد بن راشد سے اسی مفہوم کی روایت منقول ہے لیکن اس میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ وہ ولد الزنا ہے اور اپنی ماں کے خاندان سے ملے گا چاہے وہ آزاد ہوں یا غلام، یہ شروع اسلام میں پیش آمدہ معاملہ کا حکم ہے، رہا جو مال قبل از اسلام تقسیم ہو چکا اس سے کچھ سروکار نہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2266]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 8712) (حسن)»
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
انظر الحديث السابق (2265)
الحكم: حسن