بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابو داؤد

حدیث نمبر: 2264 — باب: ولد الزنا کے مدعی ہونے کا بیان۔
کتب سنن ابو داؤد کتاب: طلاق کے فروعی احکام و مسائل باب: ولد الزنا کے مدعی ہونے کا بیان۔ حدیث 2264
حدیث نمبر: 2264 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، مُعْتَمِرٌ ، سَلْمٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الزَّيَّادِ ، بَعْضُ أَصْحَابِنَا ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ سَلْمٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الزَّيَّادِ، حَدَّثَنِي بَعْضُ أَصْحَابِنَا، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا مُسَاعَاةَ فِي الْإِسْلَامِ، مَنْ سَاعَى فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَقَدْ لَحِقَ بِعَصَبَتِهِ، وَمَنِ ادَّعَى وَلَدًا مِنْ غَيْرِ رِشْدَةٍ فَلَا يَرِثُ وَلَا يُورَثُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسلام میں اجرت پر بدکاری اور زنا نہیں ہے، جس نے زمانہ جاہلیت میں بدکاری اور زنا سے کمائی کی، تو زنا سے پیدا ہونے والا بچہ اپنے عصبہ (مالک) سے مل جائے گا اور جس نے بغیر نکاح یا ملک کے کسی بچے کا دعویٰ کیا تو نہ تو (بچہ) اس کا وارث ہو گا اور نہ وہ بچے کا۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2264]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 5656)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/362) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے سند میں ایک مبہم راوی ہے)
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
’’ بعض أصحابنا ‘‘ لم أعرفه وقال المنذري :’’ في إسناده رجل مجهول ‘‘ (عون المعبود 247/2)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 86
الحكم: ضعيف
← پچھلی حدیث (2263) باب پر واپس اگلی حدیث (2265) →