أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ ، ابْنُ وَهْبٍ ، عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْفِهْرِيِّ ، ابْنِ شِهَابٍ ، سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْفِهْرِيِّ، وَغَيْرِهِ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، فِي هَذَا الْخَبَرِ، قَالَ: فَطَلَّقَهَا ثَلَاثَ تَطْلِيقَاتٍ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْفَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ مَا صُنِعَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُنَّةٌ، قَالَ سَهْلٌ: حَضَرْتُ هَذَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَضَتِ السُّنَّةُ بَعْدُ فِي الْمُتَلَاعِنَيْنِ أَنْ يُفَرَّقَ بَيْنَهُمَا ثُمَّ لَا يَجْتَمِعَانِ أَبَدًا.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
اس سند سے بھی سہل بن سعد رضی اللہ عنہما سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: انہوں (عاصم بن عدی) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی موجودگی میں اسے تین طلاق دے دی تو رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے نافذ فرما دیا، اور جو کام آپ کی موجودگی میں کیا گیا ہو وہ سنت ہے۔ سہل رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس اس وقت میں موجود تھا، اس کے بعد لعان کرنے والے مرد اور عورت کے سلسلہ میں طریقہ ہی یہ ہو گیا کہ انہیں جدا کر دیا جائے، اور وہ دونوں پھر کبھی اکٹھے نہ ہوں۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2250]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم (2245)، (تحفة الأشراف: 4805) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
ونُقل عن الساجي ما ملخصه :’’ روي ابن وھب عن عياض بن عبد اللّٰه الفهري أحاديث فيھا نظر ‘‘ انظر تهذيب التهذيب (201/8)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 85
الحكم: صحيح