بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابو داؤد

حدیث نمبر: 1654 — باب: بنی ہاشم کو صدقہ دینا کیسا ہے؟
کتب سنن ابو داؤد کتاب: زکوۃ کے احکام و مسائل باب: بنی ہاشم کو صدقہ دینا کیسا ہے؟ حدیث 1654
حدیث نمبر: 1654 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ ، أَبِيهِ ، الْأَعْمَشِ ، سَالِمٍ ، كُرَيْبٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا:حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، نَحْوَهُ، زَادَ" أَبِي يُبَدِّلُهَا لَهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
اس سند سے بھی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی طرح کی روایت مروی ہے البتہ اس میں (ابوعبیدہ نے) یہ اضافہ کیا ہے کہ میرے والد اسے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بدل رہے تھے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1654]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:6350) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میرے والد عباس رضی اللہ عنہ نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس اس لئے بھیجا کہ آپ اس اونٹ کو جو آپ نے انہیں دیا تھا صدقہ کے اونٹ سے بدل دیں اس مفہوم کے لحاظ سے «من الصدقة يبدلها» سے متعلق ہو گا، ناکہ «أعطاها» سے، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں یہ اونٹ صدقہ کے علاوہ مال سے دیا تھا، پھر جب صدقہ کے اونٹ آئے تو انہوں نے اسے بدلنا چاہا اس صورت میں خطابی اور بیہقی کی اس تاویل کی ضرورت نہیں جو انہوں نے اوپر والی حدیث کے سلسلہ میں کی ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
الأعمش وحبيب مدلسان وعنعنا
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 66
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (1653) باب پر واپس اگلی حدیث (1655) →