بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابو داؤد

حدیث نمبر: 1653 — باب: بنی ہاشم کو صدقہ دینا کیسا ہے؟
کتب سنن ابو داؤد کتاب: زکوۃ کے احکام و مسائل باب: بنی ہاشم کو صدقہ دینا کیسا ہے؟ حدیث 1653
حدیث نمبر: 1653 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ ، مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، الْأَعْمَشِ ، حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، كُرَيْبٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" بَعَثَنِي أَبِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِبِلٍ أَعْطَاهَا إِيَّاهُ مِنَ الصَّدَقَةِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مجھے میرے والد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس اس اونٹ کے سلسلہ میں بھیجا جو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں صدقے میں سے دیا تھا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1653]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:6344)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الکبری/ قیام اللیل 27 (1339)، مسند احمد (1/364) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: عباس رضی اللہ عنہ بنی ہاشم میں سے ہیں اور بنی ہاشم کے لئے صدقہ جائز نہیں، اسی وجہ سے خطابی نے یہ تاویل کی ہے کہ ہو سکتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عباس رضی اللہ عنہ سے یہ اونٹ بطور قرض لیا ہو، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس صدقہ کے اونٹ آ گئے ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسی قرض کو صدقہ کے اونٹ سے واپس کیا ہو، اور بیہقی نے ایک تاویل یہ بھی کی ہے کہ ہو سکتا ہے کہ یہ بنی ہاشم پر صدقہ حرام ہونے سے پہلے کی بات ہو۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
الأعمش وحبيب مدلسان وعنعنا
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 66
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (1652) باب پر واپس اگلی حدیث (1654) →