بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: صور کے دونوں پھونک میں کتنا فاصلہ ہو گا۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم فتنے اور علامات قیامت باب: صور کے دونوں پھونک میں کتنا فاصلہ ہو گا۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 6
حدیث نمبر: 2955 صحیح مسلم
أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا بَيْنَ النَّفْخَتَيْنِ أَرْبَعُونَ "، قَالُوا يَا أَبَا هُرَيْرَةَ: أَرْبَعُونَ يَوْمًا، قَالَ: أَبَيْتُ، قَالُوا: أَرْبَعُونَ شَهْرًا، قَالَ: أَبَيْتُ، قَالُوا: أَرْبَعُونَ سَنَةً، قَالَ: أَبَيْتُ، ثُمَّ يُنْزِلُ اللَّهُ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً، فَيَنْبُتُونَ كَمَا يَنْبُتُ الْبَقْلُ، قَالَ: وَلَيْسَ مِنَ الْإِنْسَانِ شَيْءٌ إِلَّا يَبْلَى إِلَّا عَظْمًا وَاحِدًا، وَهُوَ عَجْبُ الذَّنَبِ، وَمِنْهُ يُرَكَّبُ الْخَلْقُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
صالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: دو بار صور پھونکنے کے درمیان چالیس کا وقفہ ہو گا۔ انہوں (لوگوں) نے کہا: ابوہریرہ! چالیس دن؟ انہوں نے کہا: میں انکار کرتا ہوں۔ لوگوں نے کہا: چالیس مہینے؟ انہوں نے کہا: منع کرتا ہوں۔ لوگوں نے کہا: چالیس سال؟ انہوں نے کہا: میں انکار کرتا ہوں۔ پھر اللہ تعالیٰ آسمان سے پانی نازل فرمائے گا تو لوگ اسی طرح اگیں گے جس طرح سبزہ اگتا ہے۔ انہوں نے کہا: اور انسان کا کوئی حصہ نہیں، مگر وہ بوسیدہ ہو جائے گا، سوائے ایک ہڈی کے، وہ دمچی کی ہڈی کا آخری حصہ ہے، قیامت کے دن اسی سے خلقت کی ترکیب مکمل ہو گی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7414]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 7414 صحیح مسلم
أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا بَيْنَ النَّفْخَتَيْنِ أَرْبَعُونَ "، قَالُوا يَا أَبَا هُرَيْرَةَ: أَرْبَعُونَ يَوْمًا، قَالَ: أَبَيْتُ، قَالُوا: أَرْبَعُونَ شَهْرًا، قَالَ: أَبَيْتُ، قَالُوا: أَرْبَعُونَ سَنَةً، قَالَ: أَبَيْتُ، ثُمَّ يُنْزِلُ اللَّهُ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً، فَيَنْبُتُونَ كَمَا يَنْبُتُ الْبَقْلُ، قَالَ: وَلَيْسَ مِنَ الْإِنْسَانِ شَيْءٌ إِلَّا يَبْلَى إِلَّا عَظْمًا وَاحِدًا، وَهُوَ عَجْبُ الذَّنَبِ، وَمِنْهُ يُرَكَّبُ الْخَلْقُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
صالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: دو بار صور پھونکنے کے درمیان چالیس کا وقفہ ہو گا۔ انہوں (لوگوں) نے کہا: ابوہریرہ! چالیس دن؟ انہوں نے کہا: میں انکار کرتا ہوں۔ لوگوں نے کہا: چالیس مہینے؟ انہوں نے کہا: منع کرتا ہوں۔ لوگوں نے کہا: چالیس سال؟ انہوں نے کہا: میں انکار کرتا ہوں۔ پھر اللہ تعالیٰ آسمان سے پانی نازل فرمائے گا تو لوگ اسی طرح اگیں گے جس طرح سبزہ اگتا ہے۔ انہوں نے کہا: اور انسان کا کوئی حصہ نہیں، مگر وہ بوسیدہ ہو جائے گا، سوائے ایک ہڈی کے، وہ دمچی کی ہڈی کا آخری حصہ ہے، قیامت کے دن اسی سے خلقت کی ترکیب مکمل ہو گی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7414]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2955 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، الْمُغِيرَةُ يَعْنِي الْحِزَامِيَّ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ يَعْنِي الْحِزَامِيَّ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " كُلُّ ابْنِ آدَمَ يَأْكُلُهُ التُّرَابُ إِلَّا عَجْبَ الذَّنَبِ مِنْهُ خُلِقَ وَفِيهِ يُرَكَّبُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: دمچی کی ہڈی کے آخری سرے کے سوا پورے ابن آدم (کے جسم) کو مٹی کھا لے گی۔ اسی سے انسان پیدا کیا گیا اور اسی (آخری سرے) سے پھر (اسے جوڑ کر) اکٹھا کیا جائے گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7415]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 7415 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، الْمُغِيرَةُ يَعْنِي الْحِزَامِيَّ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ يَعْنِي الْحِزَامِيَّ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " كُلُّ ابْنِ آدَمَ يَأْكُلُهُ التُّرَابُ إِلَّا عَجْبَ الذَّنَبِ مِنْهُ خُلِقَ وَفِيهِ يُرَكَّبُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: دمچی کی ہڈی کے آخری سرے کے سوا پورے ابن آدم (کے جسم) کو مٹی کھا لے گی۔ اسی سے انسان پیدا کیا گیا اور اسی (آخری سرے) سے پھر (اسے جوڑ کر) اکٹھا کیا جائے گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7415]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2955 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ فِي الْإِنْسَانِ عَظْمًا لَا تَأْكُلُهُ الْأَرْضُ أَبَدًا، فِيهِ يُرَكَّبُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ "، قَالُوا: أَيُّ عَظْمٍ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: " عَجْبُ الذَّنَبِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
معمر نے ہمام بن منبہ سے حدیث بیان کی، کہا: یہ احادیث ہمیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بیان کیں، پھر انہوں نے کئی احادیث ذکر کیں، ان میں سے (ایک یہ) ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: انسان کے جسم میں ایک ہڈی ہے جس کو مٹی کبھی نہ کھا سکے گی، اسی میں (سے) قیامت کے دن اس کو پورا بنایا جائے گا۔ انہوں (لوگوں) نے پوچھا: اللہ کے رسول! وہ کون سی ہڈی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: وہ دم کی ہڈی کا آخری سرا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7416]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 7416 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ فِي الْإِنْسَانِ عَظْمًا لَا تَأْكُلُهُ الْأَرْضُ أَبَدًا، فِيهِ يُرَكَّبُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ "، قَالُوا: أَيُّ عَظْمٍ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: " عَجْبُ الذَّنَبِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
معمر نے ہمام بن منبہ سے حدیث بیان کی، کہا: یہ احادیث ہمیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بیان کیں، پھر انہوں نے کئی احادیث ذکر کیں، ان میں سے (ایک یہ) ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: انسان کے جسم میں ایک ہڈی ہے جس کو مٹی کبھی نہ کھا سکے گی، اسی میں (سے) قیامت کے دن اس کو پورا بنایا جائے گا۔ انہوں (لوگوں) نے پوچھا: اللہ کے رسول! وہ کون سی ہڈی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: وہ دم کی ہڈی کا آخری سرا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7416]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة