بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح مسلم

حدیث نمبر: 2955 — باب: وقوف کے بارے میں، اور اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں «ثم افيضوا من حيث افاض الناس» ۔
کتب صحیح مسلم حج کے احکام و مسائل باب: وقوف کے بارے میں، اور اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں «ثم افيضوا من حيث افاض الناس» ۔ حدیث 2955
حدیث نمبر: 2955 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبُو كُرَيْبٍ ، أَبُو أُسَامَةَ ، هِشَامٌ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " كَانَتِ الْعَرَبُ تَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرَاةً إِلَّا الْحُمْسَ وَالْحُمْسُ قُرَيْشٌ، وَمَا وَلَدَتْ كَانُوا يَطُوفُونَ عُرَاةً إِلَّا أَنْ تُعْطِيَهُمُ الْحُمْسُ ثِيَابًا، فَيُعْطِي الرِّجَالُ الرِّجَالَ وَالنِّسَاءُ النِّسَاءَ، وَكَانَتِ الْحُمْسُ لَا يَخْرُجُونَ مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ، وَكَانَ النَّاسُ كُلُّهُمْ يَبْلُغُونَ عَرَفَاتٍ "، قَالَ هِشَامٌ: فَحَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " الْحُمْسُ هُمُ الَّذِينَ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِمْ: ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ سورة البقرة آية 199، قَالَتْ: كَانَ النَّاسُ يُفِيضُونَ مِنْ عَرَفَاتٍ وَكَانَ الْحُمْسُ يُفِيضُونَ مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ يَقُولُونَ: لَا نُفِيضُ إِلَّا مِنَ الْحَرَمِ، فَلَمَّا نَزَلَتْ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ سورة البقرة آية 199 رَجَعُوا إِلَى عَرَفَاتٍ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابواسامہ نے کہا، ہمیں ہشام نے اپنے والد سے بیان کیا، کہا: حمس (کہلانے والے قبائل) کے علاوہ عرب (کے تمام قبائل) عریاں ہو کر بیت اللہ کا طواف کرتے تھے۔ حمس (سے مراد) قریش اور ان (کی باہر بیاہی ہوئی خواتین) کے ہاں جنم لینے والے ہیں۔ عام لوگ برہنہ ہی طواف کرتے تھے، سوائے ان کے جنہیں اہل حمس کپڑے دے دیتے (دستور یہ تھا کہ) مرد مردوں کو (طواف کے لیے) لباس دیتے اور عورتیں عورتوں کو۔ (اسی طرح) حمس (دوران حج) مزدلفہ سے آگے نہیں بڑھتے تھے اور باقی سب لوگ عرفات تک پہنچتے تھے۔ ہشام نے کہا: مجھے میرے والد (عروہ) نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث بیان کی، انہوں نے فرمایا: یہ حمس ہی تھے جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: پھر تم وہیں سے (طواف کے لیے) چلو جہاں سے (دوسرے) لوگ چلیں۔ انہوں نے فرمایا: لوگ (حج میں) عرفات سے لوٹتے تھے اور اہل حمس مزدلفہ سے چلتے تھے اور کہتے تھے: ہم حرم کے سوا کہیں اور سے نہیں چلیں گے جب آیت پھر تم وہیں سے چلو جہاں سے دوسرے لوگ چلیں نازل ہوئی تو یہ عرفات کی طرف لوٹ آئے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2955]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
← پچھلی حدیث (2954) باب پر واپس اگلی حدیث (2956) →