أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، ابْنِ عُيَيْنَةَ ، عَمْرٍو ، مُحَمَّدَ بْنَ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ جَمِيعًا، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ عَمْرٌو: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو ، سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، قَالَ: " أَضْلَلْتُ بَعِيرًا لِي فَذَهَبْتُ أَطْلُبُهُ يَوْمَ عَرَفَةَ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاقِفًا مَعَ النَّاسِ بِعَرَفَةَ، فَقُلْتُ: وَاللَّهِ إِنَّ هَذَا لَمِنَ الْحُمْسِ، فَمَا شَأْنُهُ هَاهُنَا وَكَانَتْ قُرَيْشٌ تُعَدُّ مِنَ الْحُمْسِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
احمد بن جبیر بن معطم نے اپنے والد حضرت جبیر بن معطم رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے اپنا ایک اونٹ کھو دیا، میں عرفہ کے دن اسے تلاش کرنے کے لیے نکلا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو لوگوں کے ساتھ عرفات میں کھڑے دیکھا، میں نے کہا: اللہ کی قسم! یہ (محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) تو اہل حمس میں سے ہیں، آپ کا یہاں (عرفات میں) کیا کام؟ (کیونکہ) قریش حمس میں شمار ہوتے تھے (اور آپ قریشی ہی تھے۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2956]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة