بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: سمندر کی موجوں کی طرح آنے والے فتنوں کے بیان میں۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم فتنے اور علامات قیامت باب: سمندر کی موجوں کی طرح آنے والے فتنوں کے بیان میں۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 8
حدیث نمبر: 144 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ أَبُو كريب ، أَبِي مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، شَقِيقٍ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ أَبُو كريب جميعا، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، قَالَ ابْنُ الْعَلَاءِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ عُمَرَ، فَقَالَ: أَيُّكُمْ يَحْفَظُ حَدِيثَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْفِتْنَةِ كَمَا قَالَ؟، قَالَ: فَقُلْتُ: أَنَا، قَالَ: إِنَّكَ لَجَرِيءٌ، وَكَيْفَ قَالَ؟، قَالَ: قُلْتُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " فِتْنَةُ الرَّجُلِ فِي أَهْلِهِ وَمَالِهِ وَنَفْسِهِ وَوَلَدِهِ وَجَارِهِ، يُكَفِّرُهَا الصِّيَامُ وَالصَّلَاةُ وَالصَّدَقَةُ، وَالْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ "، فَقَالَ عُمَرُ: لَيْسَ هَذَا أُرِيدُ إِنَّمَا أُرِيدُ الَّتِي تَمُوجُ كَمَوْجِ الْبَحْرِ، قَالَ: فَقُلْتُ: مَا لَكَ وَلَهَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنَّ بَيْنَكَ وَبَيْنَهَا بَابًا مُغْلَقًا، قَالَ: أَفَيُكْسَرُ الْبَابُ أَمْ يُفْتَحُ؟، قَالَ: قُلْتُ: لَا بَلْ يُكْسَرُ، قَالَ: ذَلِكَ أَحْرَى أَنْ لَا يُغْلَقَ أَبَدًا، قَالَ: فَقُلْنَا: لِحُذَيْفَةَ هَلْ كَانَ عُمَرُ يَعْلَمُ مَنِ الْبَابُ؟، قَالَ: نَعَمْ، كَمَا يَعْلَمُ أَنَّ دُونَ غَدٍ اللَّيْلَةَ إِنِّي حَدَّثْتُهُ حَدِيثًا لَيْسَ بِالْأَغَالِيطِ، قَالَ: فَهِبْنَا أَنْ نَسْأَلَ حُذَيْفَةَ مَنِ الْبَابُ، فَقُلْنَا لِمَسْرُوقٍ: سَلْهُ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ عُمَرُ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابومعاویہ نے کہا: ہمیں اعمش نے (ابووائل) شقیق سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ انہوں نے کہا: فتنے کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد جس طرح آپ نے خود فرمایا تھا تم میں سے کسی کو یاد ہے؟ (حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے) کہا: میں نے عرض کی: مجھے۔ (حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے) کہا: تم بہت جرات مند ہو۔ (یہ بتاؤ کہ) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کس طرح ارشاد فرمایا تھا؟ میں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا تھا آپ فرما رہے تھے: انسان اپنے گھر والوں، اپنے مال، اپنی جان اور اپنے ہمسائے کے بارے میں جس فتنے میں مبتلا ہوتا ہے، تو روزہ، نماز، صدقہ، نیکی کا حکم کرنا اور برائی سے منع کرنا اس کا کفارہ بن جاتے ہیں۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میری مراد اس سے نہیں، میری مراد تو اس (فتنے) سے ہے جو سمندر کی موجوں کی طرح امڈ کر آتا ہے۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: امیر المومنین! آپ کو اس فتنے سے کیا (خطرہ) ہے؟ آپ کے اور اس فتنے کے درمیان ایک بند دروازہ ہے۔ انہوں نے کہا: وہ دروازہ توڑا جائے گا یا کھولا جائے گا؟ کہا: میں نے جواب دیا، نہیں بلکہ توڑا جائے گا۔ (حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے) کہا: پھر اس بات کی زیادہ توقع ہے کہ وہ (دروازہ دوبارہ) کبھی بند نہیں کیا جا سکے گا۔ (شقیق نے) کہا: ہم نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ جانتے تھے کہ دروازہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں اسی طرح جیسے وہ یہ بات جانتے تھے کہ صبح کے بعد رات ہے، میں نے ان کو ایک حدیث بیان کی تھی وہ کوئی اٹکل پچو بات نہ تھی۔ کہا: پھر ہم ڈر گئے کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے پوچھیں وہ دروازہ کون تھا؟ ہم نے مسروق سے کہا: آپ ان (حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ) سے پوچھیں، انہوں نے پوچھا تو (حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے) کہا: (وہ دروازہ) حضرت عمر رضی اللہ عنہ (تھے)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7268]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 7268 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ أَبُو كريب ، أَبِي مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، شَقِيقٍ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ أَبُو كريب جميعا، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، قَالَ ابْنُ الْعَلَاءِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ عُمَرَ، فَقَالَ: أَيُّكُمْ يَحْفَظُ حَدِيثَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْفِتْنَةِ كَمَا قَالَ؟، قَالَ: فَقُلْتُ: أَنَا، قَالَ: إِنَّكَ لَجَرِيءٌ، وَكَيْفَ قَالَ؟، قَالَ: قُلْتُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " فِتْنَةُ الرَّجُلِ فِي أَهْلِهِ وَمَالِهِ وَنَفْسِهِ وَوَلَدِهِ وَجَارِهِ، يُكَفِّرُهَا الصِّيَامُ وَالصَّلَاةُ وَالصَّدَقَةُ، وَالْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ "، فَقَالَ عُمَرُ: لَيْسَ هَذَا أُرِيدُ إِنَّمَا أُرِيدُ الَّتِي تَمُوجُ كَمَوْجِ الْبَحْرِ، قَالَ: فَقُلْتُ: مَا لَكَ وَلَهَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنَّ بَيْنَكَ وَبَيْنَهَا بَابًا مُغْلَقًا، قَالَ: أَفَيُكْسَرُ الْبَابُ أَمْ يُفْتَحُ؟، قَالَ: قُلْتُ: لَا بَلْ يُكْسَرُ، قَالَ: ذَلِكَ أَحْرَى أَنْ لَا يُغْلَقَ أَبَدًا، قَالَ: فَقُلْنَا: لِحُذَيْفَةَ هَلْ كَانَ عُمَرُ يَعْلَمُ مَنِ الْبَابُ؟، قَالَ: نَعَمْ، كَمَا يَعْلَمُ أَنَّ دُونَ غَدٍ اللَّيْلَةَ إِنِّي حَدَّثْتُهُ حَدِيثًا لَيْسَ بِالْأَغَالِيطِ، قَالَ: فَهِبْنَا أَنْ نَسْأَلَ حُذَيْفَةَ مَنِ الْبَابُ، فَقُلْنَا لِمَسْرُوقٍ: سَلْهُ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ عُمَرُ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابومعاویہ نے کہا: ہمیں اعمش نے (ابووائل) شقیق سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ انہوں نے کہا: فتنے کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد جس طرح آپ نے خود فرمایا تھا تم میں سے کسی کو یاد ہے؟ (حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے) کہا: میں نے عرض کی: مجھے۔ (حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے) کہا: تم بہت جرات مند ہو۔ (یہ بتاؤ کہ) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کس طرح ارشاد فرمایا تھا؟ میں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا تھا آپ فرما رہے تھے: انسان اپنے گھر والوں، اپنے مال، اپنی جان اور اپنے ہمسائے کے بارے میں جس فتنے میں مبتلا ہوتا ہے، تو روزہ، نماز، صدقہ، نیکی کا حکم کرنا اور برائی سے منع کرنا اس کا کفارہ بن جاتے ہیں۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میری مراد اس سے نہیں، میری مراد تو اس (فتنے) سے ہے جو سمندر کی موجوں کی طرح امڈ کر آتا ہے۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: امیر المومنین! آپ کو اس فتنے سے کیا (خطرہ) ہے؟ آپ کے اور اس فتنے کے درمیان ایک بند دروازہ ہے۔ انہوں نے کہا: وہ دروازہ توڑا جائے گا یا کھولا جائے گا؟ کہا: میں نے جواب دیا، نہیں بلکہ توڑا جائے گا۔ (حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے) کہا: پھر اس بات کی زیادہ توقع ہے کہ وہ (دروازہ دوبارہ) کبھی بند نہیں کیا جا سکے گا۔ (شقیق نے) کہا: ہم نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ جانتے تھے کہ دروازہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں اسی طرح جیسے وہ یہ بات جانتے تھے کہ صبح کے بعد رات ہے، میں نے ان کو ایک حدیث بیان کی تھی وہ کوئی اٹکل پچو بات نہ تھی۔ کہا: پھر ہم ڈر گئے کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے پوچھیں وہ دروازہ کون تھا؟ ہم نے مسروق سے کہا: آپ ان (حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ) سے پوچھیں، انہوں نے پوچھا تو (حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے) کہا: (وہ دروازہ) حضرت عمر رضی اللہ عنہ (تھے)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7268]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 144 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، وَكِيعٌ ، عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، جَرِيرٌ ، إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، يَحْيَى بْنُ عِيسَى ، الْأَعْمَشِ ، شَقِيقٍ ، حُذَيْفَةَ
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عِيسَى كُلُّهُمْ، عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ، وَفِي حَدِيثِ عِيسَى، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ حُذَيْفَةَ يَقُولُ:
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
وکیع، جریر، عیسیٰ بن یونس اور یحییٰ بن عیسیٰ سب نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ ابومعاویہ کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی، اور شقیق سے اعمش اور ان سے عیسیٰ کی حدیث میں یہ (جملہ) ہے کہا: میں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7269]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 7269 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، وَكِيعٌ ، عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، جَرِيرٌ ، إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، يَحْيَى بْنُ عِيسَى ، الْأَعْمَشِ ، شَقِيقٍ ، حُذَيْفَةَ
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عِيسَى كُلُّهُمْ، عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ، وَفِي حَدِيثِ عِيسَى، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ حُذَيْفَةَ يَقُولُ:
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
وکیع، جریر، عیسیٰ بن یونس اور یحییٰ بن عیسیٰ سب نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ ابومعاویہ کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی، اور شقیق سے اعمش اور ان سے عیسیٰ کی حدیث میں یہ (جملہ) ہے کہا: میں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7269]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 144 صحیح مسلم
ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، سُفْيَانُ ، جَامِعِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ ، وَالْأَعْمَشُ ، أَبِي وَائِلٍ ، حُذَيْفَةَ
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ جَامِعِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ ، وَالْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ: مَنْ يُحَدِّثُنَا، عَنِ الْفِتْنَةِ وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بنحو حديثهم.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن ابی عمر نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں سفیان نے جامع بن ابی راشد سے اور اعمش نے ابووائل (شقیق) سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کون ہے جو ہمیں فتنے کے بارے میں حدیث بیان کرے گا؟ اور (پھر) ان سب کی حدیث کی طرح بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7270]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 7270 صحیح مسلم
ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، سُفْيَانُ ، جَامِعِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ ، وَالْأَعْمَشُ ، أَبِي وَائِلٍ ، حُذَيْفَةَ
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ جَامِعِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ ، وَالْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ: مَنْ يُحَدِّثُنَا، عَنِ الْفِتْنَةِ وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بنحو حديثهم.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن ابی عمر نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں سفیان نے جامع بن ابی راشد سے اور اعمش نے ابووائل (شقیق) سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کون ہے جو ہمیں فتنے کے بارے میں حدیث بیان کرے گا؟ اور (پھر) ان سب کی حدیث کی طرح بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7270]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2893 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، ابْنُ عَوْنٍ ، مُحَمَّدٍ ، جُنْدُبٌ ، حُذَيْفَةُ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: قَالَ جُنْدُبٌ : جِئْتُ يَوْمَ الْجَرَعَةِ، فَإِذَا رَجُلٌ جَالِسٌ، فَقُلْتُ: لَيُهْرَاقَنَّ الْيَوْمَ هَاهُنَا دِمَاءٌ؟، فَقَالَ ذَاكَ الرَّجُلُ: كَلَّا وَاللَّهِ، قُلْتُ: بَلَى وَاللَّهِ، قَالَ: كَلَّا وَاللَّهِ، قُلْتُ: بَلَى وَاللَّهِ، قَالَ: كَلَّا وَاللَّهِ، إنه لحديث رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنِيهِ، قُلْتُ: " بِئْسَ الْجَلِيسُ لِي أَنْتَ مُنْذُ الْيَوْمِ تَسْمَعُنِي أُخَالِفُكَ وَقَدْ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا تَنْهَانِي، ثُمَّ قُلْتُ: مَا هَذَا الْغَضَبُ؟، فَأَقْبَلْتُ عَلَيْهِ وَأَسْأَلُهُ، فَإِذَا الرَّجُلُ حُذَيْفَةُ .
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد (بن سیرین) سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حضرت جندب رضی اللہ عنہ نے کہا: میں جرعہ کے دن وہاں آیا تو (وہاں) ایک شخص بیٹھا ہوا تھا۔ میں نے کہا: آج یہاں بہت خونریزی ہو گی۔ اس شخص نے کہا: اللہ کی قسم! ہر گز نہیں ہو گی۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم! ضرور ہو گی۔ اس نے کہا: واللہ! ہر گز نہیں ہو گی۔ میں نے کہا: واللہ! ضرور ہو گی۔ اس نے کہا: واللہ! ہر گز نہیں ہو گی، یہ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حدیث ہے جو آپ نے مجھے ارشاد فرمائی تھی۔ میں نے جواب میں کہا: آج تم میرے لیے آج کے بدترین ساتھی (ثابت ہوئے) ہو۔ تم مجھ سے سن رہے ہو کہ میں تمھاری مخالفت کر رہا ہوں اور تم نے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا ہے اس کی بنا پر مجھے روکتے نہیں؟ پھر میں نے کہا: یہ غصہ کیسا؟ چنانچہ میں (ٹھیک طرح سے) ان کی طرف متوجہ ہوا اور ان کے بارے میں پوچھا تو وہ آدمی حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7271]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 7271 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، ابْنُ عَوْنٍ ، مُحَمَّدٍ ، جُنْدُبٌ ، حُذَيْفَةُ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: قَالَ جُنْدُبٌ : جِئْتُ يَوْمَ الْجَرَعَةِ، فَإِذَا رَجُلٌ جَالِسٌ، فَقُلْتُ: لَيُهْرَاقَنَّ الْيَوْمَ هَاهُنَا دِمَاءٌ؟، فَقَالَ ذَاكَ الرَّجُلُ: كَلَّا وَاللَّهِ، قُلْتُ: بَلَى وَاللَّهِ، قَالَ: كَلَّا وَاللَّهِ، قُلْتُ: بَلَى وَاللَّهِ، قَالَ: كَلَّا وَاللَّهِ، إنه لحديث رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنِيهِ، قُلْتُ: " بِئْسَ الْجَلِيسُ لِي أَنْتَ مُنْذُ الْيَوْمِ تَسْمَعُنِي أُخَالِفُكَ وَقَدْ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا تَنْهَانِي، ثُمَّ قُلْتُ: مَا هَذَا الْغَضَبُ؟، فَأَقْبَلْتُ عَلَيْهِ وَأَسْأَلُهُ، فَإِذَا الرَّجُلُ حُذَيْفَةُ .
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد (بن سیرین) سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حضرت جندب رضی اللہ عنہ نے کہا: میں جرعہ کے دن وہاں آیا تو (وہاں) ایک شخص بیٹھا ہوا تھا۔ میں نے کہا: آج یہاں بہت خونریزی ہو گی۔ اس شخص نے کہا: اللہ کی قسم! ہر گز نہیں ہو گی۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم! ضرور ہو گی۔ اس نے کہا: واللہ! ہر گز نہیں ہو گی۔ میں نے کہا: واللہ! ضرور ہو گی۔ اس نے کہا: واللہ! ہر گز نہیں ہو گی، یہ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حدیث ہے جو آپ نے مجھے ارشاد فرمائی تھی۔ میں نے جواب میں کہا: آج تم میرے لیے آج کے بدترین ساتھی (ثابت ہوئے) ہو۔ تم مجھ سے سن رہے ہو کہ میں تمھاری مخالفت کر رہا ہوں اور تم نے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا ہے اس کی بنا پر مجھے روکتے نہیں؟ پھر میں نے کہا: یہ غصہ کیسا؟ چنانچہ میں (ٹھیک طرح سے) ان کی طرف متوجہ ہوا اور ان کے بارے میں پوچھا تو وہ آدمی حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7271]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة