بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: قیامت اور جنت اور دوزخ کا بیان۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم قیامت اور جنت اور جہنم کے احوال باب: قیامت اور جنت اور دوزخ کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 18
حدیث نمبر: 2785 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ، يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، الْمُغِيرَةُ يَعْنِي الْحِزَامِيَّ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنِي الْمُغِيرَةُ يَعْنِي الْحِزَامِيَّ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّهُ لَيَأْتِي الرَّجُلُ الْعَظِيمُ السَّمِينُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا يَزِنُ عِنْدَ اللَّهِ جَنَاحَ بَعُوضَةٍ اقْرَءُوا فَلا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَزْنًا سورة الكهف آية 105 ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: (قیامت کے دن) ایک بہت بڑا (اور) موٹا آدمی آئے گا، (لیکن) اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ (وزن میں) مچھر کے پر کے برابر بھی نہ ہو گا۔ (یہ آیت) پڑھ لو: «فَلَا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَزْنًا» پس ہم قیامت کے دن ان کے لیے کوئی وزن قائم نہیں کریں گے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ/حدیث: 7045]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 7045 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ، يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، الْمُغِيرَةُ يَعْنِي الْحِزَامِيَّ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنِي الْمُغِيرَةُ يَعْنِي الْحِزَامِيَّ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّهُ لَيَأْتِي الرَّجُلُ الْعَظِيمُ السَّمِينُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا يَزِنُ عِنْدَ اللَّهِ جَنَاحَ بَعُوضَةٍ اقْرَءُوا فَلا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَزْنًا سورة الكهف آية 105 ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: (قیامت کے دن) ایک بہت بڑا (اور) موٹا آدمی آئے گا، (لیکن) اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ (وزن میں) مچھر کے پر کے برابر بھی نہ ہو گا۔ (یہ آیت) پڑھ لو: «فَلَا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَزْنًا» پس ہم قیامت کے دن ان کے لیے کوئی وزن قائم نہیں کریں گے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ/حدیث: 7045]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2786 صحیح مسلم
أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، فُضَيْلٌ يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ ، مَنْصُورٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلٌ يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: " جَاءَ حَبْرٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ أَوْ يَا أَبَا الْقَاسِمِ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يُمْسِكُ السَّمَاوَاتِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى إِصْبَعٍ، وَالْأَرَضِينَ عَلَى إِصْبَعٍ، وَالْجِبَالَ وَالشَّجَرَ عَلَى إِصْبَعٍ، وَالْمَاءَ وَالثَّرَى عَلَى إِصْبَعٍ، وَسَائِرَ الْخَلْقِ عَلَى إِصْبَعٍ، ثُمَّ يَهُزُّهُنَّ، فَيَقُولُ: أَنَا الْمَلِكُ أَنَا الْمَلِكُ؟ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعَجُّبًا مِمَّا قَالَ الْحَبْرُ تَصْدِيقًا لَهُ، ثُمَّ قَرَأَ وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ سورة الزمر آية 67 "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
فضیل بن عیاض نے منصور سے، انہوں نے ابراہیم سے، انہوں نے عبیدہ سلمانی سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ایک یہودی عالم نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یا کہا: ابوالقاسم! بے شک اللہ تعالیٰ قیامت کے دن آسمانوں کو ایک انگلی پر رکھ لے گا، اور زمینوں کو ایک انگلی پر، اور پہاڑوں اور درختوں کو ایک انگلی پر اور پانی اور گیلی مٹی کو ایک انگلی پر اور تمام مخلوق کو ایک انگلی پر تھام لے گا، پھر ان کو بلائے گا اور فرمائے گا: بادشاہ میں ہوں، بادشاہ میں ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس یہودی عالم کی بات پر تعجب اور اس کے تصدیق کرتے ہوئے ہنسے، پھر آپ نے (یہ آیت) پڑھی: «وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَاوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ ۚ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ» انہوں نے اس طرح اللہ کی قدر نہیں کی جس طرح اس کی قدر کرنے کا حق ہے۔ ساری زمین اور سب کے سب آسمان قیامت کے دن اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے۔ وہ (ہر اس چیز کی شراکت سے) پاک اور بلند ہے جنہیں وہ (اس کے ساتھ) شریک کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ/حدیث: 7046]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 7046 صحیح مسلم
أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، فُضَيْلٌ يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ ، مَنْصُورٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلٌ يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: " جَاءَ حَبْرٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ أَوْ يَا أَبَا الْقَاسِمِ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يُمْسِكُ السَّمَاوَاتِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى إِصْبَعٍ، وَالْأَرَضِينَ عَلَى إِصْبَعٍ، وَالْجِبَالَ وَالشَّجَرَ عَلَى إِصْبَعٍ، وَالْمَاءَ وَالثَّرَى عَلَى إِصْبَعٍ، وَسَائِرَ الْخَلْقِ عَلَى إِصْبَعٍ، ثُمَّ يَهُزُّهُنَّ، فَيَقُولُ: أَنَا الْمَلِكُ أَنَا الْمَلِكُ؟ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعَجُّبًا مِمَّا قَالَ الْحَبْرُ تَصْدِيقًا لَهُ، ثُمَّ قَرَأَ وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ سورة الزمر آية 67 "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
فضیل بن عیاض نے منصور سے، انہوں نے ابراہیم سے، انہوں نے عبیدہ سلمانی سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ایک یہودی عالم نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یا کہا: ابوالقاسم! بے شک اللہ تعالیٰ قیامت کے دن آسمانوں کو ایک انگلی پر رکھ لے گا، اور زمینوں کو ایک انگلی پر، اور پہاڑوں اور درختوں کو ایک انگلی پر اور پانی اور گیلی مٹی کو ایک انگلی پر اور تمام مخلوق کو ایک انگلی پر تھام لے گا، پھر ان کو بلائے گا اور فرمائے گا: بادشاہ میں ہوں، بادشاہ میں ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس یہودی عالم کی بات پر تعجب اور اس کے تصدیق کرتے ہوئے ہنسے، پھر آپ نے (یہ آیت) پڑھی: «وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَاوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ ۚ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ» انہوں نے اس طرح اللہ کی قدر نہیں کی جس طرح اس کی قدر کرنے کا حق ہے۔ ساری زمین اور سب کے سب آسمان قیامت کے دن اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے۔ وہ (ہر اس چیز کی شراکت سے) پاک اور بلند ہے جنہیں وہ (اس کے ساتھ) شریک کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ/حدیث: 7046]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2786 صحیح مسلم
عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، جَرِيرٍ ، مَنْصُورٍ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ كِلَاهُمَا، عَنْ جَرِيرٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَ: جَاءَ حَبْرٌ مِنَ الْيَهُودِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ فُضَيْلٍ، وَلَمْ يَذْكُرْ، ثُمَّ يَهُزُّهُنَّ، وَقَالَ: فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ تَعَجُّبًا لِمَا، قَالَ تَصْدِيقًا لَهُ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ سورة الزمر آية 67 وَتَلَا الْآيَةَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
جریر نے منصور سے اسی سند کے ساتھ روایت کی، کہا: یہود میں سے ایک عالم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا، فضیل کی حدیث کے مانند، اور اس میں یہ بیان نہیں کیا: وہ (اللہ) ان (انگلیوں) کو ہلائے گا۔ اور (حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے) کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دے کھا، آپ اس بات پر تعجب سے اس کی تصدیق کرتے ہوئے (اس طرح) ہنسے کہ آپ کے پچھلے دندان مبارک ظاہر ہو گئے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: انہوں نے (اس طرح) اللہ کی قدر نہیں کی (جس طرح) اس کی قدر کرنے کا حق ہے۔ (اور (پوری) آیت تلاوت فرمائی) «وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَاوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ ۚ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ» انہوں نے اس طرح اللہ کی قدر نہیں کی جس طرح اس کی قدر کرنے کا حق ہے۔ ساری زمین اور سب کے سب آسمان قیامت کے دن اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے۔ وہ (ہر اس چیز کی شراکت سے) پاک اور بلند ہے جنہیں وہ (اس کے ساتھ) شریک کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ/حدیث: 7047]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 7047 صحیح مسلم
عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، جَرِيرٍ ، مَنْصُورٍ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ كِلَاهُمَا، عَنْ جَرِيرٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَ: جَاءَ حَبْرٌ مِنَ الْيَهُودِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ فُضَيْلٍ، وَلَمْ يَذْكُرْ، ثُمَّ يَهُزُّهُنَّ، وَقَالَ: فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ تَعَجُّبًا لِمَا، قَالَ تَصْدِيقًا لَهُ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ سورة الزمر آية 67 وَتَلَا الْآيَةَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
جریر نے منصور سے اسی سند کے ساتھ روایت کی، کہا: یہود میں سے ایک عالم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا، فضیل کی حدیث کے مانند، اور اس میں یہ بیان نہیں کیا: وہ (اللہ) ان (انگلیوں) کو ہلائے گا۔ اور (حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے) کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دے کھا، آپ اس بات پر تعجب سے اس کی تصدیق کرتے ہوئے (اس طرح) ہنسے کہ آپ کے پچھلے دندان مبارک ظاہر ہو گئے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: انہوں نے (اس طرح) اللہ کی قدر نہیں کی (جس طرح) اس کی قدر کرنے کا حق ہے۔ (اور (پوری) آیت تلاوت فرمائی) «وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَاوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ ۚ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ» انہوں نے اس طرح اللہ کی قدر نہیں کی جس طرح اس کی قدر کرنے کا حق ہے۔ ساری زمین اور سب کے سب آسمان قیامت کے دن اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے۔ وہ (ہر اس چیز کی شراکت سے) پاک اور بلند ہے جنہیں وہ (اس کے ساتھ) شریک کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ/حدیث: 7047]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2786 صحیح مسلم
عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، أَبِي ، الْأَعْمَشُ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَلْقَمَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، قَالَ: سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَلْقَمَةَ ، يَقُولُ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : جَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا أَبَا الْقَاسِمِ، إِنَّ اللَّهَ يُمْسِكُ السَّمَاوَاتِ عَلَى إِصْبَعٍ، وَالْأَرْضِينَ عَلَى إِصْبَعٍ، وَالشَّجَرَ وَالثَّرَى عَلَى إِصْبَعٍ، وَالْخَلَائِقَ عَلَى إِصْبَعٍ، ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا الْمَلِكُ أَنَا الْمَلِكُ، قَالَ: فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ ثُمَّ قَرَأَ وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ سورة الزمر آية 67 "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حفص بن غیاث نے کہا: ہمیں اعمش نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے ابراہیم کو کہتے ہوئے سنا: میں نے علقمہ کو کہتے ہوئے سنا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: اہل کتاب میں سے ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں آیا اور اس نے کہا: ابوالقاسم! بے شک اللہ تعالیٰ تمام آسمانوں کو ایک انگلی پر، زمینوں کو ایک انگلی پر اور درختوں اور گیلی مٹی کو ایک انگلی پر اور تمام مخلوق کو ایک انگلی پر تھام لے گا، پھر فرمائے گا: بادشاہ میں ہوں، بادشاہ میں ہوں۔ (ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے) کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دے کھا، آپ (اس بات پر) ہنس پڑے یہاں تک کہ آپ کے پچھلے دندان مبارک ظاہر ہو گئے، پھر آپ نے (اس آیت کی) تلاوت کی: «وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ» انہوں نے اللہ تعالیٰ کی (اس طرح) قدر نہیں پہچانی جس طرح قدر پہچاننے کا حق ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ/حدیث: 7048]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 7048 صحیح مسلم
عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، أَبِي ، الْأَعْمَشُ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَلْقَمَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، قَالَ: سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَلْقَمَةَ ، يَقُولُ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : جَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا أَبَا الْقَاسِمِ، إِنَّ اللَّهَ يُمْسِكُ السَّمَاوَاتِ عَلَى إِصْبَعٍ، وَالْأَرْضِينَ عَلَى إِصْبَعٍ، وَالشَّجَرَ وَالثَّرَى عَلَى إِصْبَعٍ، وَالْخَلَائِقَ عَلَى إِصْبَعٍ، ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا الْمَلِكُ أَنَا الْمَلِكُ، قَالَ: فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ ثُمَّ قَرَأَ وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ سورة الزمر آية 67 "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حفص بن غیاث نے کہا: ہمیں اعمش نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے ابراہیم کو کہتے ہوئے سنا: میں نے علقمہ کو کہتے ہوئے سنا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: اہل کتاب میں سے ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں آیا اور اس نے کہا: ابوالقاسم! بے شک اللہ تعالیٰ تمام آسمانوں کو ایک انگلی پر، زمینوں کو ایک انگلی پر اور درختوں اور گیلی مٹی کو ایک انگلی پر اور تمام مخلوق کو ایک انگلی پر تھام لے گا، پھر فرمائے گا: بادشاہ میں ہوں، بادشاہ میں ہوں۔ (ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے) کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دے کھا، آپ (اس بات پر) ہنس پڑے یہاں تک کہ آپ کے پچھلے دندان مبارک ظاہر ہو گئے، پھر آپ نے (اس آیت کی) تلاوت کی: «وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ» انہوں نے اللہ تعالیٰ کی (اس طرح) قدر نہیں پہچانی جس طرح قدر پہچاننے کا حق ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ/حدیث: 7048]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2786 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، إِسْحاَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، جَرِيرٌ ، الْأَعْمَشِ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحاَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ . ح وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ كُلُّهُمْ، عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِهِمْ جَمِيعًا وَالشَّجَرَ عَلَى إِصْبَعٍ، وَالثَّرَى عَلَى إِصْبَعٍ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ وَالْخَلَائِقَ عَلَى إِصْبَعٍ، وَلَكِنْ فِي حَدِيثِهِ وَالْجِبَالَ عَلَى إِصْبَعٍ وَزَادَ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ، تَصْدِيقًا لَهُ تَعَجُّبًا لِمَا قَالَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابومعاویہ، عیسیٰ بن یونس اور جریر سب نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ روایت کی، مگر ان سب کی روایتوں میں ہے: اور درختوں کو ایک انگلی پر اور گیلی مٹی کو ایک انگلی پر تھام لے گا۔ اور جریر کی حدیث میں یہ نہیں ہے: اور مخلوق کو ایک انگلی پر تھامے گا۔ لیکن اس کی حدیث میں یہ ہے: اور پہاڑوں کو ایک انگلی پر تھام لے گا۔ اور انہوں نے جریر کی حدیث میں مزید یہ کہا: اس کی بات کی تصدیق اور اس پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے (آپ ہنسے)۔ «وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ» انہوں نے اللہ تعالیٰ کی (اس طرح) قدر نہیں پہچانی جس طرح قدر پہچاننے کا حق ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ/حدیث: 7049]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 7049 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، إِسْحاَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، جَرِيرٌ ، الْأَعْمَشِ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحاَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ . ح وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ كُلُّهُمْ، عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِهِمْ جَمِيعًا وَالشَّجَرَ عَلَى إِصْبَعٍ، وَالثَّرَى عَلَى إِصْبَعٍ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ وَالْخَلَائِقَ عَلَى إِصْبَعٍ، وَلَكِنْ فِي حَدِيثِهِ وَالْجِبَالَ عَلَى إِصْبَعٍ وَزَادَ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ، تَصْدِيقًا لَهُ تَعَجُّبًا لِمَا قَالَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابومعاویہ، عیسیٰ بن یونس اور جریر سب نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ روایت کی، مگر ان سب کی روایتوں میں ہے: اور درختوں کو ایک انگلی پر اور گیلی مٹی کو ایک انگلی پر تھام لے گا۔ اور جریر کی حدیث میں یہ نہیں ہے: اور مخلوق کو ایک انگلی پر تھامے گا۔ لیکن اس کی حدیث میں یہ ہے: اور پہاڑوں کو ایک انگلی پر تھام لے گا۔ اور انہوں نے جریر کی حدیث میں مزید یہ کہا: اس کی بات کی تصدیق اور اس پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے (آپ ہنسے)۔ «وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ» انہوں نے اللہ تعالیٰ کی (اس طرح) قدر نہیں پہچانی جس طرح قدر پہچاننے کا حق ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ/حدیث: 7049]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2787 صحیح مسلم
حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، ابْنُ الْمُسَيَّبِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، كَانَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَقْبِضُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى الْأَرْضَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَيَطْوِي السَّمَاءَ بِيَمِينِهِ، ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا الْمَلِكُ أَيْنَ مُلُوكُ الْأَرْضِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن مسیب نے حدیث بیان کی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کیا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ قیامت کے دن زمین کو اپنی مٹھی میں لے لے گا اور آسمان کو اپنے داہنے ہاتھ میں لپیٹ لے گا، پھر فرمائے گا: بادشاہ میں ہوں، زمین کے بادشاہ کہاں ہیں؟ [صحيح مسلم/كِتَاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ/حدیث: 7050]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 7050 صحیح مسلم
حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، ابْنُ الْمُسَيَّبِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، كَانَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَقْبِضُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى الْأَرْضَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَيَطْوِي السَّمَاءَ بِيَمِينِهِ، ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا الْمَلِكُ أَيْنَ مُلُوكُ الْأَرْضِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن مسیب نے حدیث بیان کی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کیا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ قیامت کے دن زمین کو اپنی مٹھی میں لے لے گا اور آسمان کو اپنے داہنے ہاتھ میں لپیٹ لے گا، پھر فرمائے گا: بادشاہ میں ہوں، زمین کے بادشاہ کہاں ہیں؟ [صحيح مسلم/كِتَاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ/حدیث: 7050]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2788 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ، أَبُو أُسَامَةَ ، عُمَرَ بْنِ حَمْزَةَ ، سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حَمْزَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَطْوِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ السَّمَاوَاتِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، ثُمَّ يَأْخُذُهُنَّ بِيَدِهِ الْيُمْنَى، ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا الْمَلِكُ أَيْنَ الْجَبَّارُونَ أَيْنَ الْمُتَكَبِّرُونَ، ثُمَّ يَطْوِي الْأَرَضِينَ بِشِمَالِهِ، ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا الْمَلِكُ أَيْنَ الْجَبَّارُونَ أَيْنَ الْمُتَكَبِّرُونَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سالم بن عبداللہ نے کہا: مجھے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل قیامت کے دن آسمانوں کو لپیٹے گا، پھر ان کو دائیں ہاتھ سے پکڑ لے گا اور فرمائے گا: بادشاہ میں ہوں۔ (آج دوسروں پر) جبر کرنے والے کہاں ہیں؟ تکبر کرنے والے کہاں ہیں؟ پھر بائیں ہاتھ سے زمین کو لپیٹ لے گا، پھر فرمائے گا: بادشاہ میں ہوں، (آج) جبر کرنے والے کہاں ہیں؟ تکبر کرنے والے کہاں ہیں؟ [صحيح مسلم/كِتَاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ/حدیث: 7051]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 7051 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ، أَبُو أُسَامَةَ ، عُمَرَ بْنِ حَمْزَةَ ، سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حَمْزَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَطْوِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ السَّمَاوَاتِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، ثُمَّ يَأْخُذُهُنَّ بِيَدِهِ الْيُمْنَى، ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا الْمَلِكُ أَيْنَ الْجَبَّارُونَ أَيْنَ الْمُتَكَبِّرُونَ، ثُمَّ يَطْوِي الْأَرَضِينَ بِشِمَالِهِ، ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا الْمَلِكُ أَيْنَ الْجَبَّارُونَ أَيْنَ الْمُتَكَبِّرُونَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سالم بن عبداللہ نے کہا: مجھے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل قیامت کے دن آسمانوں کو لپیٹے گا، پھر ان کو دائیں ہاتھ سے پکڑ لے گا اور فرمائے گا: بادشاہ میں ہوں۔ (آج دوسروں پر) جبر کرنے والے کہاں ہیں؟ تکبر کرنے والے کہاں ہیں؟ پھر بائیں ہاتھ سے زمین کو لپیٹ لے گا، پھر فرمائے گا: بادشاہ میں ہوں، (آج) جبر کرنے والے کہاں ہیں؟ تکبر کرنے والے کہاں ہیں؟ [صحيح مسلم/كِتَاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ/حدیث: 7051]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2788 صحیح مسلم
سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبُو حَازِمٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ ، أَنَّهُ نَظَرَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، كَيْفَ يَحْكِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَ: " يَأْخُذُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ سَمَاوَاتِهِ وَأَرَضِيهِ بِيَدَيْهِ، فَيَقُولُ: أَنَا اللَّهُ وَيَقْبِضُ أَصَابِعَهُ وَيَبْسُطُهَا، أَنَا الْمَلِكُ حَتَّى نَظَرْتُ إِلَى الْمِنْبَرِ يَتَحَرَّكُ مِنْ أَسْفَلِ شَيْءٍ مِنْهُ حَتَّى إِنِّي لَأَقُولُ أَسَاقِطٌ هُوَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یعقوب بن عبدالرحمان نے کہا: مجھے ابوحازم نے عبیداللہ بن مقسم سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی طرف دیکھا کہ وہ (حدیث بیان کرتے ہوئے عملاً) کس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرح کر کے دکھاتے ہیں۔ (ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے) فرمایا: اللہ عزوجل اپنے آسمانوں اور اپنی زمینوں کو اپنے دونوں ہاتھوں سے پکڑ لے گا پھر فرمائے گا: میں اللہ، میں بادشاہ ہوں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی انگلیوں کو بند کرتے تھے اور کھولتے تھے۔ حتیٰ کہ میں نے منبر کو دیکھا، وہ اپنے نچلے حصے سے (لے کر اوپر کے حصے تک) ہل رہا تھا۔ یہاں تک کہ میں نے کہا: کیا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو لے کر گر جائے گا؟ [صحيح مسلم/كِتَاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ/حدیث: 7052]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 7052 صحیح مسلم
سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبُو حَازِمٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ ، أَنَّهُ نَظَرَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، كَيْفَ يَحْكِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَ: " يَأْخُذُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ سَمَاوَاتِهِ وَأَرَضِيهِ بِيَدَيْهِ، فَيَقُولُ: أَنَا اللَّهُ وَيَقْبِضُ أَصَابِعَهُ وَيَبْسُطُهَا، أَنَا الْمَلِكُ حَتَّى نَظَرْتُ إِلَى الْمِنْبَرِ يَتَحَرَّكُ مِنْ أَسْفَلِ شَيْءٍ مِنْهُ حَتَّى إِنِّي لَأَقُولُ أَسَاقِطٌ هُوَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یعقوب بن عبدالرحمان نے کہا: مجھے ابوحازم نے عبیداللہ بن مقسم سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی طرف دیکھا کہ وہ (حدیث بیان کرتے ہوئے عملاً) کس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرح کر کے دکھاتے ہیں۔ (ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے) فرمایا: اللہ عزوجل اپنے آسمانوں اور اپنی زمینوں کو اپنے دونوں ہاتھوں سے پکڑ لے گا پھر فرمائے گا: میں اللہ، میں بادشاہ ہوں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی انگلیوں کو بند کرتے تھے اور کھولتے تھے۔ حتیٰ کہ میں نے منبر کو دیکھا، وہ اپنے نچلے حصے سے (لے کر اوپر کے حصے تک) ہل رہا تھا۔ یہاں تک کہ میں نے کہا: کیا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو لے کر گر جائے گا؟ [صحيح مسلم/كِتَاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ/حدیث: 7052]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2788 صحیح مسلم
سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، أَبِي ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ، وَهُوَ يَقُولُ: يَأْخُذُ الْجَبَّارُ عَزَّ وَجَلَّ سَمَاوَاتِهِ وَأَرَضِيهِ بِيَدَيْهِ ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ يَعْقُوبَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالعزیز بن ابی حازم نے کہا: مجھے میرے والد نے عبیداللہ بن مقسم سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو منبر پر دیکھا جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرما رہے تھے: (اللہ) جبار عزوجل اپنے آسمانوں اور اپنی زمینوں کو اپنے ہاتھوں میں پکڑ لے گا۔ پھر یعقوب کی حدیث کی طرح بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ/حدیث: 7053]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 7053 صحیح مسلم
سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، أَبِي ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ، وَهُوَ يَقُولُ: يَأْخُذُ الْجَبَّارُ عَزَّ وَجَلَّ سَمَاوَاتِهِ وَأَرَضِيهِ بِيَدَيْهِ ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ يَعْقُوبَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالعزیز بن ابی حازم نے کہا: مجھے میرے والد نے عبیداللہ بن مقسم سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو منبر پر دیکھا جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرما رہے تھے: (اللہ) جبار عزوجل اپنے آسمانوں اور اپنی زمینوں کو اپنے ہاتھوں میں پکڑ لے گا۔ پھر یعقوب کی حدیث کی طرح بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ/حدیث: 7053]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة