عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، جَرِيرٍ ، مَنْصُورٍ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ كِلَاهُمَا، عَنْ جَرِيرٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَ: جَاءَ حَبْرٌ مِنَ الْيَهُودِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ فُضَيْلٍ، وَلَمْ يَذْكُرْ، ثُمَّ يَهُزُّهُنَّ، وَقَالَ: فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ تَعَجُّبًا لِمَا، قَالَ تَصْدِيقًا لَهُ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ سورة الزمر آية 67 وَتَلَا الْآيَةَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
جریر نے منصور سے اسی سند کے ساتھ روایت کی، کہا: یہود میں سے ایک عالم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا، فضیل کی حدیث کے مانند، اور اس میں یہ بیان نہیں کیا: ”وہ (اللہ) ان (انگلیوں) کو ہلائے گا۔“ اور (حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے) کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دے کھا، آپ اس بات پر تعجب سے اس کی تصدیق کرتے ہوئے (اس طرح) ہنسے کہ آپ کے پچھلے دندان مبارک ظاہر ہو گئے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”انہوں نے (اس طرح) اللہ کی قدر نہیں کی (جس طرح) اس کی قدر کرنے کا حق ہے۔“ (اور (پوری) آیت تلاوت فرمائی) «وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَاوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ ۚ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ» ”انہوں نے اس طرح اللہ کی قدر نہیں کی جس طرح اس کی قدر کرنے کا حق ہے۔ ساری زمین اور سب کے سب آسمان قیامت کے دن اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے۔ وہ (ہر اس چیز کی شراکت سے) پاک اور بلند ہے جنہیں وہ (اس کے ساتھ) شریک کرتے ہیں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ/حدیث: 7047]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة