أَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْحَسَّانِيُّ ، مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حُمَيْدٍ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا أَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْحَسَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَادَ رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ قَدْ خَفَتَ فَصَارَ مِثْلَ الْفَرْخِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ كُنْتَ تَدْعُو بِشَيْءٍ أَوْ تَسْأَلُهُ إِيَّاهُ؟ " قَالَ: نَعَمْ، كُنْتُ أَقُولُ اللَّهُمَّ مَا كُنْتَ مُعَاقِبِي بِهِ فِي الْآخِرَةِ فَعَجِّلْهُ لِي فِي الدُّنْيَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سُبْحَانَ اللَّهِ لَا تُطِيقُهُ أَوْ لَا تَسْتَطِيعُهُ، أَفَلَا قُلْتَ: اللَّهُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً، وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ "، قَالَ: فَدَعَا اللَّهَ لَهُ فَشَفَاهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن ابوعدی نے حمید سے، انہوں نے ثابت سے اور انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مسلمانوں میں سے ایک ایسے شخص کی عیادت کی جو لاغر ہو کر چوزے کی طرح ہو گیا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”کیا تم اللہ تعالیٰ سے کسی چیز کی دعا کرتے تھے یا اس سے کچھ مانگتے تھے؟“ اس نے کہا: جی ہاں، میں کہتا تھا: اے اللہ! تو مجھے آخرت میں جو سزا دینے والا ہے ابھی دنیا ہی میں دے دے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ پاک ہے! تم میں اس کی طاقت نہیں ہے۔۔ یا (فرمایا:) تم اس کی استطاعت نہیں رکھتے۔ تم نے یہ کیوں نہ کہا: اے اللہ! ہمیں دنیا میں بھی اچھائی عطا فرما اور آخرت میں بھی اچھائی عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا لے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے لیے اللہ سے دعا فرمائی تو اس نے اس شخص کو شفا عطا فرما دی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَارِ/حدیث: 6835]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة