بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: عمر اور روزی اور رزق تقدیر سے زیادہ نہ بڑھتی ہے نہ گھٹتی ہے۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم تقدیر کا بیان باب: عمر اور روزی اور رزق تقدیر سے زیادہ نہ بڑھتی ہے نہ گھٹتی ہے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 8
حدیث نمبر: 2663 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَكِيعٌ ، مِسْعَرٍ ، عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَشْكُرِيِّ ، الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَشْكُرِيِّ ، عَنْ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُمَّ أَمْتِعْنِي بِزَوْجِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبِأَبِي أَبِي سُفْيَانَ، وَبِأَخِي مُعَاوِيَةَ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ سَأَلْتِ اللَّهَ لِآجَالٍ مَضْرُوبَةٍ، وَأَيَّامٍ مَعْدُودَةٍ، وَأَرْزَاقٍ مَقْسُومَةٍ لَنْ يُعَجِّلَ شَيْئًا قَبْلَ حِلِّهِ أَوْ يُؤَخِّرَ شَيْئًا عَنْ حِلِّهِ، وَلَوْ كُنْتِ سَأَلْتِ اللَّهَ أَنْ يُعِيذَكِ مِنْ عَذَابٍ فِي النَّارِ، أَوْ عَذَابٍ فِي الْقَبْرِ، كَانَ خَيْرًا وَأَفْضَلَ "، قَالَ: وَذُكِرَتْ عِنْدَهُ الْقِرَدَةُ، قَالَ مِسْعَرٌ: وَأُرَاهُ، قَالَ: وَالْخَنَازِيرُ مِنْ مَسْخٍ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَجْعَلْ لِمَسْخٍ نَسْلًا وَلَا عَقِبًا، وَقَدْ كَانَتِ الْقِرَدَةُ وَالْخَنَازِيرُ قَبْلَ ذَلِكَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
وکیع نے ہمیں معمر سے حدیث بیان کی، انہوں نے علقمہ بن مرثد سے، انہوں نے مغیرہ بن عبداللہ یشکری سے، انہوں نے معرور بن سوید سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اہلیہ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے یہ دعا کی: اے اللہ! مجھے اپنے خاوند رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ، اپنے والد حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ اور اپنے بھائی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ (کی زندگیوں) سے مستفید فرما! (حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے) کہا: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم نے عمروں کی ایسی مدتوں کا، جو مقرر کر دی گئی ہیں اور ان دنوں کا جو گنے جا چکے ہیں اور ایسے رزقوں کا جو بانٹے جا چکے ہیں، سوال کیا ہے۔ اگر تم اللہ سے یہ مانگتی کہ تمہیں آگ میں دیے جانے والے یا قبر میں دیے جانے والے عذاب سے پناہ عطا فرما دے تو یہ زیادہ اچھا اور زیادہ افضل ہوتا۔ (عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے) کہا: آپ کے سامنے بندروں کے بارے میں بات چیت ہوئی، مسعر نے کہا: میرا خیال ہے کہ انہوں (حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ) نے کہا: خنزیروں کا بھی (ذکر کیا گیا کہ وہ) مسخ ہو کر بنے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مسخ ہونے والوں کی نہ نسل بنائی ہے نہ اولاد، بندر اور خنزیر اس (مسخ ہونے کے واقعے) سے پہلے بھی ہوتے تھے (جو موجودہ ہیں وہ انہی کی نسلیں ہیں۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْقَدَرِ/حدیث: 6770]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6770 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَكِيعٌ ، مِسْعَرٍ ، عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَشْكُرِيِّ ، الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَشْكُرِيِّ ، عَنْ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُمَّ أَمْتِعْنِي بِزَوْجِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبِأَبِي أَبِي سُفْيَانَ، وَبِأَخِي مُعَاوِيَةَ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ سَأَلْتِ اللَّهَ لِآجَالٍ مَضْرُوبَةٍ، وَأَيَّامٍ مَعْدُودَةٍ، وَأَرْزَاقٍ مَقْسُومَةٍ لَنْ يُعَجِّلَ شَيْئًا قَبْلَ حِلِّهِ أَوْ يُؤَخِّرَ شَيْئًا عَنْ حِلِّهِ، وَلَوْ كُنْتِ سَأَلْتِ اللَّهَ أَنْ يُعِيذَكِ مِنْ عَذَابٍ فِي النَّارِ، أَوْ عَذَابٍ فِي الْقَبْرِ، كَانَ خَيْرًا وَأَفْضَلَ "، قَالَ: وَذُكِرَتْ عِنْدَهُ الْقِرَدَةُ، قَالَ مِسْعَرٌ: وَأُرَاهُ، قَالَ: وَالْخَنَازِيرُ مِنْ مَسْخٍ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَجْعَلْ لِمَسْخٍ نَسْلًا وَلَا عَقِبًا، وَقَدْ كَانَتِ الْقِرَدَةُ وَالْخَنَازِيرُ قَبْلَ ذَلِكَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
وکیع نے ہمیں معمر سے حدیث بیان کی، انہوں نے علقمہ بن مرثد سے، انہوں نے مغیرہ بن عبداللہ یشکری سے، انہوں نے معرور بن سوید سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اہلیہ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے یہ دعا کی: اے اللہ! مجھے اپنے خاوند رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ، اپنے والد حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ اور اپنے بھائی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ (کی زندگیوں) سے مستفید فرما! (حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے) کہا: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم نے عمروں کی ایسی مدتوں کا، جو مقرر کر دی گئی ہیں اور ان دنوں کا جو گنے جا چکے ہیں اور ایسے رزقوں کا جو بانٹے جا چکے ہیں، سوال کیا ہے۔ اگر تم اللہ سے یہ مانگتی کہ تمہیں آگ میں دیے جانے والے یا قبر میں دیے جانے والے عذاب سے پناہ عطا فرما دے تو یہ زیادہ اچھا اور زیادہ افضل ہوتا۔ (عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے) کہا: آپ کے سامنے بندروں کے بارے میں بات چیت ہوئی، مسعر نے کہا: میرا خیال ہے کہ انہوں (حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ) نے کہا: خنزیروں کا بھی (ذکر کیا گیا کہ وہ) مسخ ہو کر بنے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مسخ ہونے والوں کی نہ نسل بنائی ہے نہ اولاد، بندر اور خنزیر اس (مسخ ہونے کے واقعے) سے پہلے بھی ہوتے تھے (جو موجودہ ہیں وہ انہی کی نسلیں ہیں۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْقَدَرِ/حدیث: 6770]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2663 صحیح مسلم
أَبُو كُرَيْبٍ ، ابْنُ بِشْرٍ ، مِسْعَرٍ
حَدَّثَنَاه أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ بِشْرٍ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِهِ، عَنْ ابْنِ بِشْرٍ، وَوَكِيعٍ، جميعا من عذاب في النار وعذاب في القبر.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن بشر نے مسعر سے اسی سند کے ساتھ خبر دی، مگر ابن بشر اور وکیع دونوں سے ان کی (روایت کردہ) حدیث میں یہ الفاظ منقول ہیں: آگ میں دیے جانے والے اور قبر میں دیے جانے والے عذاب سے (پناہ مانگتی تو بہتر تھا۔) (یا کی بجائے اور ہے۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْقَدَرِ/حدیث: 6771]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6771 صحیح مسلم
أَبُو كُرَيْبٍ ، ابْنُ بِشْرٍ ، مِسْعَرٍ
حَدَّثَنَاه أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ بِشْرٍ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِهِ، عَنْ ابْنِ بِشْرٍ، وَوَكِيعٍ، جميعا من عذاب في النار وعذاب في القبر.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن بشر نے مسعر سے اسی سند کے ساتھ خبر دی، مگر ابن بشر اور وکیع دونوں سے ان کی (روایت کردہ) حدیث میں یہ الفاظ منقول ہیں: آگ میں دیے جانے والے اور قبر میں دیے جانے والے عذاب سے (پناہ مانگتی تو بہتر تھا۔) (یا کی بجائے اور ہے۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْقَدَرِ/حدیث: 6771]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2663 صحیح مسلم
إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، الثَّوْرِيُّ ، عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَشْكُرِيِّ ، مَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، وَاللَّفْظُ لِحَجَّاجٍ، قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وقَالَ حَجَّاجٌ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَشْكُرِيِّ ، عَنْ مَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ: " اللَّهُمَّ مَتِّعْنِي بِزَوْجِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبِأَبِي أَبِي سُفْيَانَ، وَبِأَخِي مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّكِ سَأَلْتِ اللَّهَ لِآجَالٍ مَضْرُوبَةٍ، وَآثَارٍ مَوْطُوءَةٍ، وَأَرْزَاقٍ مَقْسُومَةٍ لَا يُعَجِّلُ شَيْئًا مِنْهَا قَبْلَ حِلِّهِ، وَلَا يُؤَخِّرُ مِنْهَا شَيْئًا بَعْدَ حِلِّهِ، وَلَوْ سَأَلْتِ اللَّهَ أَنْ يُعَافِيَكِ مِنْ عَذَابٍ فِي النَّارِ وَعَذَابٍ فِي الْقَبْرِ، لَكَانَ خَيْرًا لَكِ "، قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْقِرَدَةُ وَالْخَنَازِيرُ هِيَ مِمَّا مُسِخَ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يُهْلِكْ قَوْمًا أَوْ يُعَذِّبْ قَوْمًا، فَيَجْعَلَ لَهُمْ نَسْلًا، وَإِنَّ الْقِرَدَةَ وَالْخَنَازِيرَ كَانُوا قَبْلَ ذَلِكَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالرزاق نے کہا: ہمیں ثوری نے علقمہ بن مرثد سے خبر دی، انہوں نے مغیرہ بن عبداللہ یشکری سے، انہوں نے معرور بن سوید سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے (دعا کرتے ہوئے) کہا: اے اللہ! مجھے میرے خاوند رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ، میرے والد ابوسفیان اور میرے بھائی (کی درازی عمر) سے مستفید فرما! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم نے اللہ تعالیٰ سے ان مدتوں کا سوال کیا ہے جو مقرر کی جا چکیں اور قدموں کے ان نشانوں کا جن پر قدم رکھے جا چکے اور ایسے رزقوں کو جو تقسیم کیے جا چکے۔ نہ ان میں سے کوئی چیز اپنا وقت آنے سے پہلے آ سکتی ہے اور نہ آنے کے بعد مؤخر ہو سکتی ہے۔ اگر تم اللہ تعالیٰ سے یہ مانگتی کہ وہ تمہیں جہنم میں دیے جانے والے عذاب اور قبر میں دیے جانے والے عذاب سے بچا لے تو تمہارے لیے بہتر ہوتا۔ (عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے) کہا: ایک آدمی نے پوچھا: اللہ کے رسول! یہ بندر اور خنزیر کیا انہی میں سے ہیں جو مسخ ہو کر بنے تھے؟ تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے کسی قوم کو ہلاک نہیں کیا یا (فرمایا:) کسی قوم کو عذاب نہیں دیا کہ پھر ان (لوگوں) کی نسل بنائے (ان کے بچے پیدا کر کے انہیں آگے چلائے۔) اور بلاشبہ بندر اور خنزیر پہلے بھی موجود تھے۔ (آگے انہی کی نسلیں چلی ہیں۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْقَدَرِ/حدیث: 6772]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6772 صحیح مسلم
إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، الثَّوْرِيُّ ، عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَشْكُرِيِّ ، مَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، وَاللَّفْظُ لِحَجَّاجٍ، قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وقَالَ حَجَّاجٌ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَشْكُرِيِّ ، عَنْ مَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ: " اللَّهُمَّ مَتِّعْنِي بِزَوْجِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبِأَبِي أَبِي سُفْيَانَ، وَبِأَخِي مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّكِ سَأَلْتِ اللَّهَ لِآجَالٍ مَضْرُوبَةٍ، وَآثَارٍ مَوْطُوءَةٍ، وَأَرْزَاقٍ مَقْسُومَةٍ لَا يُعَجِّلُ شَيْئًا مِنْهَا قَبْلَ حِلِّهِ، وَلَا يُؤَخِّرُ مِنْهَا شَيْئًا بَعْدَ حِلِّهِ، وَلَوْ سَأَلْتِ اللَّهَ أَنْ يُعَافِيَكِ مِنْ عَذَابٍ فِي النَّارِ وَعَذَابٍ فِي الْقَبْرِ، لَكَانَ خَيْرًا لَكِ "، قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْقِرَدَةُ وَالْخَنَازِيرُ هِيَ مِمَّا مُسِخَ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يُهْلِكْ قَوْمًا أَوْ يُعَذِّبْ قَوْمًا، فَيَجْعَلَ لَهُمْ نَسْلًا، وَإِنَّ الْقِرَدَةَ وَالْخَنَازِيرَ كَانُوا قَبْلَ ذَلِكَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالرزاق نے کہا: ہمیں ثوری نے علقمہ بن مرثد سے خبر دی، انہوں نے مغیرہ بن عبداللہ یشکری سے، انہوں نے معرور بن سوید سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے (دعا کرتے ہوئے) کہا: اے اللہ! مجھے میرے خاوند رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ، میرے والد ابوسفیان اور میرے بھائی (کی درازی عمر) سے مستفید فرما! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم نے اللہ تعالیٰ سے ان مدتوں کا سوال کیا ہے جو مقرر کی جا چکیں اور قدموں کے ان نشانوں کا جن پر قدم رکھے جا چکے اور ایسے رزقوں کو جو تقسیم کیے جا چکے۔ نہ ان میں سے کوئی چیز اپنا وقت آنے سے پہلے آ سکتی ہے اور نہ آنے کے بعد مؤخر ہو سکتی ہے۔ اگر تم اللہ تعالیٰ سے یہ مانگتی کہ وہ تمہیں جہنم میں دیے جانے والے عذاب اور قبر میں دیے جانے والے عذاب سے بچا لے تو تمہارے لیے بہتر ہوتا۔ (عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے) کہا: ایک آدمی نے پوچھا: اللہ کے رسول! یہ بندر اور خنزیر کیا انہی میں سے ہیں جو مسخ ہو کر بنے تھے؟ تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے کسی قوم کو ہلاک نہیں کیا یا (فرمایا:) کسی قوم کو عذاب نہیں دیا کہ پھر ان (لوگوں) کی نسل بنائے (ان کے بچے پیدا کر کے انہیں آگے چلائے۔) اور بلاشبہ بندر اور خنزیر پہلے بھی موجود تھے۔ (آگے انہی کی نسلیں چلی ہیں۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْقَدَرِ/حدیث: 6772]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2663 صحیح مسلم
أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ مَعْبَدٍ ، الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ ، سُفْيَانُ
حَدَّثَنِيهِ أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ مَعْبَدٍ ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: وَآثَارٍ مَبْلُوغَةٍ، قَالَ ابْنُ مَعْبَدٍ، وَرَوَى بَعْضُهُمْ: قَبْلَ حِلِّهِ أَيْ نُزُولِهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوداود سلیمان بن معبدنے کہا: ہمیں حسین بن حفص نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں سفیان نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی، مگر انہوں نے کہا: اور قدموں کے ایسے نشان جن تک قدم پہنچ چکے ہیں۔ ابن معبدنے کہا: ان (اساتذہ) میں سے بعض نے (آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے فرمان): اس کے حل ہونے سے پہلے۔ یعنی اس کے اترنے سے پہلے (وضاحتی الفاظ کے ساتھ) روایت کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْقَدَرِ/حدیث: 6773]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6773 صحیح مسلم
أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ مَعْبَدٍ ، الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ ، سُفْيَانُ
حَدَّثَنِيهِ أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ مَعْبَدٍ ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: وَآثَارٍ مَبْلُوغَةٍ، قَالَ ابْنُ مَعْبَدٍ، وَرَوَى بَعْضُهُمْ: قَبْلَ حِلِّهِ أَيْ نُزُولِهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوداود سلیمان بن معبدنے کہا: ہمیں حسین بن حفص نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں سفیان نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی، مگر انہوں نے کہا: اور قدموں کے ایسے نشان جن تک قدم پہنچ چکے ہیں۔ ابن معبدنے کہا: ان (اساتذہ) میں سے بعض نے (آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے فرمان): اس کے حل ہونے سے پہلے۔ یعنی اس کے اترنے سے پہلے (وضاحتی الفاظ کے ساتھ) روایت کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْقَدَرِ/حدیث: 6773]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة