بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: جس شخص کا بچہ مرے اور وہ صبر کرے۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم حسن سلوک، صلہ رحمی اور ادب باب: جس شخص کا بچہ مرے اور وہ صبر کرے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 18
حدیث نمبر: 2632 صحیح مسلم
يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، مَالِكٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَمُوتُ لِأَحَدٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ، فَتَمَسَّهُ النَّارُ إِلَّا تَحِلَّةَ الْقَسَمِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
امام مالک نے ابن شہاب سے، انہوں نے سعید بن مسیب سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: جس کسی مسلمان کے تین بچے فوت ہو جائیں تو اسے آگ صرف قسم پورا کرنے کے لیے چھوئے گی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ/حدیث: 6696]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6696 صحیح مسلم
يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، مَالِكٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَمُوتُ لِأَحَدٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ، فَتَمَسَّهُ النَّارُ إِلَّا تَحِلَّةَ الْقَسَمِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
امام مالک نے ابن شہاب سے، انہوں نے سعید بن مسیب سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: جس کسی مسلمان کے تین بچے فوت ہو جائیں تو اسے آگ صرف قسم پورا کرنے کے لیے چھوئے گی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ/حدیث: 6696]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2632 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، وَابْنُ رَافِعٍ ، عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَابْنُ رَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ كِلَاهُمَا، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِإِسْنَادِ مَالِكٍ، وَبِمَعْنَى حَدِيثِهِ، إِلَّا أَنَّ فِي حَدِيثِ سُفْيَانَ: فَيَلِجَ النَّارَ إِلَّا تَحِلَّةَ الْقَسَمِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان اور معمر دونوں نے زہری سے مالک کی سند کے ساتھ انہی کے مفہوم میں حدیث بیان کی، مگر سفیان کی حدیث میں ہے: تو وہ صرف قسم پوری کرنے کے لیے آگ میں داخل ہو گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ/حدیث: 6697]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6697 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، وَابْنُ رَافِعٍ ، عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَابْنُ رَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ كِلَاهُمَا، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِإِسْنَادِ مَالِكٍ، وَبِمَعْنَى حَدِيثِهِ، إِلَّا أَنَّ فِي حَدِيثِ سُفْيَانَ: فَيَلِجَ النَّارَ إِلَّا تَحِلَّةَ الْقَسَمِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان اور معمر دونوں نے زہری سے مالک کی سند کے ساتھ انہی کے مفہوم میں حدیث بیان کی، مگر سفیان کی حدیث میں ہے: تو وہ صرف قسم پوری کرنے کے لیے آگ میں داخل ہو گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ/حدیث: 6697]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2632 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، سُهَيْلٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِنِسْوَةٍ مِنْ الْأَنْصَارِ: " لَا يَمُوتُ لِإِحْدَاكُنَّ ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ، فَتَحْتَسِبَهُ إِلَّا دَخَلَتِ الْجَنَّةَ "، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ: أَوِ اثْنَيْنِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: أَوِ اثْنَيْنِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سہیل کے والد (ابوصالح) نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انصار کی عورتوں سے فرمایا: تم میں سے جس عورت کے بھی تین بچے فوت ہو جائیں اور وہ ان (پر صبر کرتے ہوئے ان) کا ثواب اللہ سے طلب کرے تو وہ ضرور جنت میں داخل ہو گی۔ ان میں سے ایک عورت نے کہا: یا دو (بچے فوت ہو جائیں؟) اللہ کے رسول! تو آپ نے فرمایا: یا دو بچے (فوت ہو جائیں۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ/حدیث: 6698]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6698 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، سُهَيْلٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِنِسْوَةٍ مِنْ الْأَنْصَارِ: " لَا يَمُوتُ لِإِحْدَاكُنَّ ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ، فَتَحْتَسِبَهُ إِلَّا دَخَلَتِ الْجَنَّةَ "، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ: أَوِ اثْنَيْنِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: أَوِ اثْنَيْنِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سہیل کے والد (ابوصالح) نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انصار کی عورتوں سے فرمایا: تم میں سے جس عورت کے بھی تین بچے فوت ہو جائیں اور وہ ان (پر صبر کرتے ہوئے ان) کا ثواب اللہ سے طلب کرے تو وہ ضرور جنت میں داخل ہو گی۔ ان میں سے ایک عورت نے کہا: یا دو (بچے فوت ہو جائیں؟) اللہ کے رسول! تو آپ نے فرمایا: یا دو بچے (فوت ہو جائیں۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ/حدیث: 6698]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2633 صحیح مسلم
أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ ، أَبُو عَوَانَةَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ، أَبِي صَالِحٍ ذَكْوَانَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ذَهَبَ الرِّجَالُ بِحَدِيثِكَ، فَاجْعَلْ لَنَا مِنْ نَفْسِكَ يَوْمًا نَأْتِيكَ فِيهِ تُعَلِّمُنَا مِمَّا عَلَّمَكَ اللَّهُ، قَالَ: اجْتَمِعْنَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا، فَاجْتَمَعْنَ فَأَتَاهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَلَّمَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَهُ اللَّهُ، ثُمَّ قَالَ: " مَا مِنْكُنَّ مِنَ امْرَأَةٍ تُقَدِّمُ بَيْنَ يَدَيْهَا مِنْ وَلَدِهَا ثَلَاثَةً إِلَّا كَانُوا لَهَا حِجَابًا مِنَ النَّارِ "، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ: وَاثْنَيْنِ، وَاثْنَيْنِ، وَاثْنَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَاثْنَيْنِ، وَاثْنَيْنِ، وَاثْنَيْنِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوعوانہ نے عبدالرحمان بن اصبہانی سے، انہوں نے ابوصالح ذکوان سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ایک عورت آئی اور عرض کی: آپ کی گفتگو (کا بڑا حصہ) مرد لے گئے، لہٰذا آپ ہمارے لیے بھی اپنی طرف سے ایک دن مقرر فرما دیں کہ ہم آپ کے پاس آیا کریں اور اللہ نے آپ کو جو سکھایا ہے اس میں سے آپ ہمیں بھی سکھا دیں۔ آپ نے فرمایا: تم عورتیں فلاں فلاں دن اکٹھی ہو جانا۔ خواتین اکٹھی ہو گئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اور اللہ نے جو علم آپ کو عطا فرمایا تھا اس میں سے ان کو بھی سکھایا، پھر آپ نے فرمایا: تم میں سے کوئی عورت نہیں جو اپنے بچوں میں سے تین بچوں کو اپنے آگے (اللہ کے پاس) روانہ کر دے، مگر وہ اس کے لیے آگ سے بچانے والا پردہ بن جائیں گے۔ ایک عورت نے کہا: اور دو بچے بھی اور دو بچے بھی اور دو بچے بھی؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اور دو بچے بھی اور دو بچے بھی اور دو بچے بھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ/حدیث: 6699]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6699 صحیح مسلم
أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ ، أَبُو عَوَانَةَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ، أَبِي صَالِحٍ ذَكْوَانَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ذَهَبَ الرِّجَالُ بِحَدِيثِكَ، فَاجْعَلْ لَنَا مِنْ نَفْسِكَ يَوْمًا نَأْتِيكَ فِيهِ تُعَلِّمُنَا مِمَّا عَلَّمَكَ اللَّهُ، قَالَ: اجْتَمِعْنَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا، فَاجْتَمَعْنَ فَأَتَاهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَلَّمَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَهُ اللَّهُ، ثُمَّ قَالَ: " مَا مِنْكُنَّ مِنَ امْرَأَةٍ تُقَدِّمُ بَيْنَ يَدَيْهَا مِنْ وَلَدِهَا ثَلَاثَةً إِلَّا كَانُوا لَهَا حِجَابًا مِنَ النَّارِ "، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ: وَاثْنَيْنِ، وَاثْنَيْنِ، وَاثْنَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَاثْنَيْنِ، وَاثْنَيْنِ، وَاثْنَيْنِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوعوانہ نے عبدالرحمان بن اصبہانی سے، انہوں نے ابوصالح ذکوان سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ایک عورت آئی اور عرض کی: آپ کی گفتگو (کا بڑا حصہ) مرد لے گئے، لہٰذا آپ ہمارے لیے بھی اپنی طرف سے ایک دن مقرر فرما دیں کہ ہم آپ کے پاس آیا کریں اور اللہ نے آپ کو جو سکھایا ہے اس میں سے آپ ہمیں بھی سکھا دیں۔ آپ نے فرمایا: تم عورتیں فلاں فلاں دن اکٹھی ہو جانا۔ خواتین اکٹھی ہو گئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اور اللہ نے جو علم آپ کو عطا فرمایا تھا اس میں سے ان کو بھی سکھایا، پھر آپ نے فرمایا: تم میں سے کوئی عورت نہیں جو اپنے بچوں میں سے تین بچوں کو اپنے آگے (اللہ کے پاس) روانہ کر دے، مگر وہ اس کے لیے آگ سے بچانے والا پردہ بن جائیں گے۔ ایک عورت نے کہا: اور دو بچے بھی اور دو بچے بھی اور دو بچے بھی؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اور دو بچے بھی اور دو بچے بھی اور دو بچے بھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ/حدیث: 6699]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2634 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، أَبِي ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ، أَبَا حَازِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ . ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِ مَعْنَاهُ وَزَادَا جَمِيعًا، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَازِمٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: ثَلَاثَةً لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن جعفر اور معاذ نے کہا: ہمیں شعبہ نے عبدالرحمان بن اصبہانی سے اسی سند کے ساتھ اس کے ہم معنی روایت کی اور دونوں نے شعبہ سے (روایت کرتے ہوئے) مزید یہ کہا: عبدالرحمان بن اصبہانی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے ابوحازم سے سنا، وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے، کہا: آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تین بچے جو بلوغت کی عمر کو نہیں پہنچے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ/حدیث: 6700]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6700 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، أَبِي ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ، أَبَا حَازِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ . ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِ مَعْنَاهُ وَزَادَا جَمِيعًا، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَازِمٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: ثَلَاثَةً لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن جعفر اور معاذ نے کہا: ہمیں شعبہ نے عبدالرحمان بن اصبہانی سے اسی سند کے ساتھ اس کے ہم معنی روایت کی اور دونوں نے شعبہ سے (روایت کرتے ہوئے) مزید یہ کہا: عبدالرحمان بن اصبہانی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے ابوحازم سے سنا، وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے، کہا: آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تین بچے جو بلوغت کی عمر کو نہیں پہنچے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ/حدیث: 6700]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2635 صحیح مسلم
سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، الْمُعْتَمِرُ ، أَبِيهِ ، أَبِي السَّلِيلِ ، أَبِي حَسَّانَ ، لِأَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي السَّلِيلِ ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ ، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي هُرَيْرَةَ : " إِنَّهُ قَدْ مَاتَ لِيَ ابْنَانِ، فَمَا أَنْتَ مُحَدِّثِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَدِيثٍ تُطَيِّبُ بِهِ أَنْفُسَنَا عَنْ مَوْتَانَا؟ قَالَ: قَالَ: نَعَمْ، صِغَارُهُمْ دَعَامِيصُ الْجَنَّةِ يَتَلَقَّى أَحَدُهُمْ أَبَاهُ، أَوَ قَالَ: أَبَوَيْهِ فَيَأْخُذُ بِثَوْبِهِ، أَوَ قَالَ: بِيَدِهِ كَمَا آخُذُ أَنَا بِصَنِفَةِ ثَوْبِكَ هَذَا فَلَا يَتَنَاهَى، أَوَ قَالَ: فَلَا يَنْتَهِي حَتَّى يُدْخِلَهُ اللَّهُ وَأَبَاهُ الْجَنَّةَ ". وَفِي رِوَايَةِ سُوَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو السَّلِيلِ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہمیں سوید بن سعید اور محمد بن عبدالاعلیٰ نے حدیث بیان کی۔ دونوں کے الفاظ ملتے جلتے ہیں۔ دونوں نے کہا: ہمیں معتمر (بن سلیمان تیمی) نے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے ابوسیلیل سے اور انہوں نے ابوحسان سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: میرے وہ بچے فوت ہو گئے ہیں، آپ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کون سی حدیث سنا سکتے ہیں جس سے آپ ہمیں ہمارے فوت ہونے والوں کے متعلق ہمارے دلوں کی تسلی دلا سکیں؟ (ابوحسان نے) کہا: (حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے) کہا: ہاں۔ (آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:) چھوٹے بچے جنت کے پانی کے کیڑے ہیں (وہ جنت کے اندر ہی رہتے ہیں) ان میں سے کوئی اپنے باپ۔ یا فرمایا: اپنے ماں باپ۔ کو ملے گا تو وہ اسے اس کے کپڑے سے پکڑ لے گا۔ یا کہا: اس کے ہاتھ سے۔ جس طرح میں نے تمہارے اس کپڑے کے کنارے سے پکڑا ہوا ہے، پھر اس وقت تک نہیں ہٹے گا۔ یا کہا: نہیں رکے گا۔ یہاں تک کہ اللہ اسے اور اس کے والد کو جنت میں داخل کر دے گا۔ اور سوید کی روایت میں (ابوسیلیل سے روایت ہے کے بجائے یوں) ہے: ہمیں ابوسیلیل نے حدیث سنائی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ/حدیث: 6701]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6701 صحیح مسلم
سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، الْمُعْتَمِرُ ، أَبِيهِ ، أَبِي السَّلِيلِ ، أَبِي حَسَّانَ ، لِأَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي السَّلِيلِ ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ ، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي هُرَيْرَةَ : " إِنَّهُ قَدْ مَاتَ لِيَ ابْنَانِ، فَمَا أَنْتَ مُحَدِّثِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَدِيثٍ تُطَيِّبُ بِهِ أَنْفُسَنَا عَنْ مَوْتَانَا؟ قَالَ: قَالَ: نَعَمْ، صِغَارُهُمْ دَعَامِيصُ الْجَنَّةِ يَتَلَقَّى أَحَدُهُمْ أَبَاهُ، أَوَ قَالَ: أَبَوَيْهِ فَيَأْخُذُ بِثَوْبِهِ، أَوَ قَالَ: بِيَدِهِ كَمَا آخُذُ أَنَا بِصَنِفَةِ ثَوْبِكَ هَذَا فَلَا يَتَنَاهَى، أَوَ قَالَ: فَلَا يَنْتَهِي حَتَّى يُدْخِلَهُ اللَّهُ وَأَبَاهُ الْجَنَّةَ ". وَفِي رِوَايَةِ سُوَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو السَّلِيلِ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہمیں سوید بن سعید اور محمد بن عبدالاعلیٰ نے حدیث بیان کی۔ دونوں کے الفاظ ملتے جلتے ہیں۔ دونوں نے کہا: ہمیں معتمر (بن سلیمان تیمی) نے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے ابوسیلیل سے اور انہوں نے ابوحسان سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: میرے وہ بچے فوت ہو گئے ہیں، آپ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کون سی حدیث سنا سکتے ہیں جس سے آپ ہمیں ہمارے فوت ہونے والوں کے متعلق ہمارے دلوں کی تسلی دلا سکیں؟ (ابوحسان نے) کہا: (حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے) کہا: ہاں۔ (آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:) چھوٹے بچے جنت کے پانی کے کیڑے ہیں (وہ جنت کے اندر ہی رہتے ہیں) ان میں سے کوئی اپنے باپ۔ یا فرمایا: اپنے ماں باپ۔ کو ملے گا تو وہ اسے اس کے کپڑے سے پکڑ لے گا۔ یا کہا: اس کے ہاتھ سے۔ جس طرح میں نے تمہارے اس کپڑے کے کنارے سے پکڑا ہوا ہے، پھر اس وقت تک نہیں ہٹے گا۔ یا کہا: نہیں رکے گا۔ یہاں تک کہ اللہ اسے اور اس کے والد کو جنت میں داخل کر دے گا۔ اور سوید کی روایت میں (ابوسیلیل سے روایت ہے کے بجائے یوں) ہے: ہمیں ابوسیلیل نے حدیث سنائی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ/حدیث: 6701]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2635 صحیح مسلم
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، يَحْيَي يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، التَّيْمِيِّ
وحَدَّثَنِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنْ التَّيْمِيِّ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: فَهَلْ سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا تُطَيِّبُ بِهِ أَنْفُسَنَا عَنْ مَوْتَانَا؟ قَالَ: نَعَمْ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یحییٰ بن سعید نے تیمی سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور کہا: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کوئی ایسی بات سنی ہے جس سے آپ ہمارے فوت ہو جانے والوں کے حوالے سے ہمارے دلوں کو تسلی دلا سکیں؟ (حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے) کہا: ہاں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ/حدیث: 6702]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6702 صحیح مسلم
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، يَحْيَي يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، التَّيْمِيِّ
وحَدَّثَنِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنْ التَّيْمِيِّ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: فَهَلْ سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا تُطَيِّبُ بِهِ أَنْفُسَنَا عَنْ مَوْتَانَا؟ قَالَ: نَعَمْ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یحییٰ بن سعید نے تیمی سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور کہا: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کوئی ایسی بات سنی ہے جس سے آپ ہمارے فوت ہو جانے والوں کے حوالے سے ہمارے دلوں کو تسلی دلا سکیں؟ (حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے) کہا: ہاں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ/حدیث: 6702]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2636 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، حَفْصٌ يَعْنُونَ ابْنَ غِيَاثٍ ، عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، أَبِي ، جَدِّهِ طَلْقِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا حَفْصٌ يَعْنُونَ ابْنَ غِيَاثٍ . ح وحَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ جَدِّهِ طَلْقِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " أَتَتِ امْرَأَةٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَبِيٍّ لَهَا، فَقَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ لَهُ فَلَقَدْ دَفَنْتُ ثَلَاثَةً، قَالَ: دَفَنْتِ ثَلَاثَةً؟ قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: لَقَدِ احْتَظَرْتِ بِحِظَارٍ شَدِيدٍ مِنَ النَّارِ ". قَالَ عُمَرُ مِنْ بَيْنِهِمْ: عَنْ جَدِّهِ، وقَالَ الْبَاقُونَ: عَنْ طَلْقٍ، وَلَمْ يَذْكُرُوا الْجَدَّ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن عبداللہ بن نمیر اور ابوسعید اشج نے ہمیں حدیث بیان کی۔ الفاظ ابوبکر کے ہیں۔ انہوں نے کہا: ہمیں حفص بن غیاث نے حدیث بیان کی، نیز ہمیں عمر بن حفص بن غیاث نے حدیث بیان کی۔ انہوں نے کہا: ہمیں میرے والد نے اپنے دادا طلق بن معاویہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوزرعہ بن عمرو بن جریر سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس اپنے بچے کو لے کر آئی اور کہا: اللہ کے نبی! اللہ تعالیٰ سے اس کے حق میں دعا فرمائیے، میں تین بچے دفن کر چکی ہوں۔ آپ نے فرمایا: تم نے تین (بچوں) کو دفن کیا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: تم نے دوزخ سے بچنے کے لیے ایک مضبوط باڑ لگا دی ہے۔ عمر (بن حفص) نے کہا: انہوں نے اپنے دادا (طلق) سے روایت کی اور باقیوں نے کہا: طلق سے روایت ہے اور دادا کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ/حدیث: 6703]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6703 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، حَفْصٌ يَعْنُونَ ابْنَ غِيَاثٍ ، عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، أَبِي ، جَدِّهِ طَلْقِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا حَفْصٌ يَعْنُونَ ابْنَ غِيَاثٍ . ح وحَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ جَدِّهِ طَلْقِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " أَتَتِ امْرَأَةٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَبِيٍّ لَهَا، فَقَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ لَهُ فَلَقَدْ دَفَنْتُ ثَلَاثَةً، قَالَ: دَفَنْتِ ثَلَاثَةً؟ قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: لَقَدِ احْتَظَرْتِ بِحِظَارٍ شَدِيدٍ مِنَ النَّارِ ". قَالَ عُمَرُ مِنْ بَيْنِهِمْ: عَنْ جَدِّهِ، وقَالَ الْبَاقُونَ: عَنْ طَلْقٍ، وَلَمْ يَذْكُرُوا الْجَدَّ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن عبداللہ بن نمیر اور ابوسعید اشج نے ہمیں حدیث بیان کی۔ الفاظ ابوبکر کے ہیں۔ انہوں نے کہا: ہمیں حفص بن غیاث نے حدیث بیان کی، نیز ہمیں عمر بن حفص بن غیاث نے حدیث بیان کی۔ انہوں نے کہا: ہمیں میرے والد نے اپنے دادا طلق بن معاویہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوزرعہ بن عمرو بن جریر سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس اپنے بچے کو لے کر آئی اور کہا: اللہ کے نبی! اللہ تعالیٰ سے اس کے حق میں دعا فرمائیے، میں تین بچے دفن کر چکی ہوں۔ آپ نے فرمایا: تم نے تین (بچوں) کو دفن کیا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: تم نے دوزخ سے بچنے کے لیے ایک مضبوط باڑ لگا دی ہے۔ عمر (بن حفص) نے کہا: انہوں نے اپنے دادا (طلق) سے روایت کی اور باقیوں نے کہا: طلق سے روایت ہے اور دادا کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ/حدیث: 6703]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2636 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، جَرِيرٌ ، طَلْقِ بْنِ مُعَاوِيَةَ النَّخَعِيِّ أَبِي غِيَاثٍ ، أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ طَلْقِ بْنِ مُعَاوِيَةَ النَّخَعِيِّ أَبِي غِيَاثٍ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لَهَا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ يَشْتَكِي، وَإِنِّي أَخَافُ عَلَيْهِ قَدْ دَفَنْتُ ثَلَاثَةً، قَالَ: لَقَدِ احْتَظَرْتِ بِحِظَارٍ شَدِيدٍ مِنَ النَّارِ "، قَالَ زُهَيْرٌ: عَنْ طَلْقٍ وَلَمْ يَذْكُرِ الْكُنْيَةَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
قتیبہ بن سعید اور زہیر بن حرب نے کہا: ہمیں جریر نے طلق بن معاویہ نخعی ابوغیاث سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوزرعہ بن عمرو بن جریر سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ایک عورت اپنے بیٹے کو لے کر آئی تو اس نے کہا: اللہ کے رسول! یہ بیمار ہے اور میں اس کے بارے میں (سخت) خوف کا شکار ہوں، میں (اپنے) تین بچے دفن کر چکی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم نے دوزخ سے بچنے کے لیے مضبوط باڑ بنا لی ہے۔ زہیر نے کہا: طلق سے روایت ہے اور کنیت (ابوغیاث) کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ/حدیث: 6704]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6704 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، جَرِيرٌ ، طَلْقِ بْنِ مُعَاوِيَةَ النَّخَعِيِّ أَبِي غِيَاثٍ ، أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ طَلْقِ بْنِ مُعَاوِيَةَ النَّخَعِيِّ أَبِي غِيَاثٍ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لَهَا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ يَشْتَكِي، وَإِنِّي أَخَافُ عَلَيْهِ قَدْ دَفَنْتُ ثَلَاثَةً، قَالَ: لَقَدِ احْتَظَرْتِ بِحِظَارٍ شَدِيدٍ مِنَ النَّارِ "، قَالَ زُهَيْرٌ: عَنْ طَلْقٍ وَلَمْ يَذْكُرِ الْكُنْيَةَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
قتیبہ بن سعید اور زہیر بن حرب نے کہا: ہمیں جریر نے طلق بن معاویہ نخعی ابوغیاث سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوزرعہ بن عمرو بن جریر سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ایک عورت اپنے بیٹے کو لے کر آئی تو اس نے کہا: اللہ کے رسول! یہ بیمار ہے اور میں اس کے بارے میں (سخت) خوف کا شکار ہوں، میں (اپنے) تین بچے دفن کر چکی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم نے دوزخ سے بچنے کے لیے مضبوط باڑ بنا لی ہے۔ زہیر نے کہا: طلق سے روایت ہے اور کنیت (ابوغیاث) کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ/حدیث: 6704]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة