بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی فضیلت۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے فضائل و مناقب باب: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی فضیلت۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 16
حدیث نمبر: 2480 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ ، أُمِّ سُلَيْمٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ ، أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، خَادِمُكَ أَنَسٌ ادْعُ اللَّهَ لَهُ، فَقَالَ: " اللَّهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ، وَوَلَدَهُ، وَبَارِكْ لَهُ فِيمَا، أَعْطَيْتَهُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: میں نے قتادہ سے سنا، وہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے، انہوں نے حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! انس آپ کا خادم ہے آپ اس کے لیے اللہ سے دعا کیجیے تو آپ نے فرمایا: اے اللہ! اس کے مال اور اولاد کو زیادہ کر اور اس کو جو کچھ تو نے عطا کیا ہے، اس میں برکت عطا فرما! [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6372]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6372 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ ، أُمِّ سُلَيْمٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ ، أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، خَادِمُكَ أَنَسٌ ادْعُ اللَّهَ لَهُ، فَقَالَ: " اللَّهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ، وَوَلَدَهُ، وَبَارِكْ لَهُ فِيمَا، أَعْطَيْتَهُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: میں نے قتادہ سے سنا، وہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے، انہوں نے حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! انس آپ کا خادم ہے آپ اس کے لیے اللہ سے دعا کیجیے تو آپ نے فرمایا: اے اللہ! اس کے مال اور اولاد کو زیادہ کر اور اس کو جو کچھ تو نے عطا کیا ہے، اس میں برکت عطا فرما! [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6372]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2480 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، أَبُو دَاوُدَ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسًا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، سَمِعْتُ أَنَسًا ، يَقُولُ: قَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، خَادِمُكَ أَنَسٌ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوداود نے کہا: ہمیں شعبہ نے قتادہ سے حدیث بیان کی، میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا، حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے عرض کی: یا رسول اللہ! انس آپ کا خادم ہے، پھر اسی طرح بیان کیا (جس طرح پچھلی حدیث میں ہے)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6373]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6373 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، أَبُو دَاوُدَ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسًا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، سَمِعْتُ أَنَسًا ، يَقُولُ: قَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، خَادِمُكَ أَنَسٌ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوداود نے کہا: ہمیں شعبہ نے قتادہ سے حدیث بیان کی، میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا، حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے عرض کی: یا رسول اللہ! انس آپ کا خادم ہے، پھر اسی طرح بیان کیا (جس طرح پچھلی حدیث میں ہے)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6373]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2480 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ ، سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ، مِثْلَ ذَلِكَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے ہشام بن زید سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو اسی طرح کہتے ہوئے سنا (جس طرح پچھلی حدیث میں ہے)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6374]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6374 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ ، سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ، مِثْلَ ذَلِكَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے ہشام بن زید سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو اسی طرح کہتے ہوئے سنا (جس طرح پچھلی حدیث میں ہے)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6374]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2481 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، سُلَيْمَانُ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: " دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْنَا، وَمَا هُوَ إِلَّا أَنَا، وَأُمِّي، وَأُمُّ حَرَامٍ خَالَتِي، فَقَالَتْ أُمِّي: يَا رَسُولَ اللَّهِ، خُوَيْدِمُكَ ادْعُ اللَّهَ لَهُ، قَالَ: فَدَعَا لِي بِكُلِّ خَيْرٍ، وَكَانَ فِي آخِرِ مَا دَعَا لِي بِهِ، أَنْ قَالَ: اللَّهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ، وَوَلَدَهُ، وَبَارِكْ لَهُ فِيهِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے، اس وقت گھر میں صرف میں، میری والدہ اور میری خالہ ام حرام رضی اللہ عنہا تھیں، میری والدہ نے کہا: یا رسول اللہ! انس آپ کا چھوٹا سا خادم ہے آپ اس کے لیے اللہ سے دعا کیجیے۔ آپ نے میرے لیے ہر بھلائی کی دعا کی، آپ نے میرے لیے جو دعا کی اس کے آخر میں آپ نے فرمایا: اے اللہ! اس کے مال اور اولاد کو زیادہ کر اور اس کو برکت عطا فرما! [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6375]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6375 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، سُلَيْمَانُ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: " دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْنَا، وَمَا هُوَ إِلَّا أَنَا، وَأُمِّي، وَأُمُّ حَرَامٍ خَالَتِي، فَقَالَتْ أُمِّي: يَا رَسُولَ اللَّهِ، خُوَيْدِمُكَ ادْعُ اللَّهَ لَهُ، قَالَ: فَدَعَا لِي بِكُلِّ خَيْرٍ، وَكَانَ فِي آخِرِ مَا دَعَا لِي بِهِ، أَنْ قَالَ: اللَّهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ، وَوَلَدَهُ، وَبَارِكْ لَهُ فِيهِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے، اس وقت گھر میں صرف میں، میری والدہ اور میری خالہ ام حرام رضی اللہ عنہا تھیں، میری والدہ نے کہا: یا رسول اللہ! انس آپ کا چھوٹا سا خادم ہے آپ اس کے لیے اللہ سے دعا کیجیے۔ آپ نے میرے لیے ہر بھلائی کی دعا کی، آپ نے میرے لیے جو دعا کی اس کے آخر میں آپ نے فرمایا: اے اللہ! اس کے مال اور اولاد کو زیادہ کر اور اس کو برکت عطا فرما! [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6375]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2481 صحیح مسلم
أَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ ، عُمَرُ بْنُ يُونُسَ ، عِكْرِمَةُ ، إِسْحَاقُ ، أَنَسٌ
حَدَّثَنِي أَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ ، قَالَ: " جَاءَتْ بِي أُمِّي أُمُّ أَنَسٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ أَزَّرَتْنِي بِنِصْفِ خِمَارِهَا، وَرَدَّتْنِي بِنِصْفِهِ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا أُنَيْسٌ ابْنِي، أَتَيْتُكَ بِهِ يَخْدُمُكَ فَادْعُ اللَّهَ لَهُ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ، وَوَلَدَهُ، قَالَ أَنَسٌ: فَوَاللَّهِ إِنَّ مَالِي لَكَثِيرٌ، وَإِنَّ وَلَدِي وَوَلَدَ وَلَدِي لَيَتَعَادُّونَ عَلَى نَحْوِ الْمِائَةِ الْيَوْمَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اسحاق نے کہا: مجھے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی، کہا: میری والدہ ام انس رضی اللہ عنہا مجھے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئیں، انہوں نے اپنی آدھی اوڑھنی سے میری کمر پر چادر باندھ دی تھی اور اوڑھنی میرے شانوں پر ڈال دی تھی۔ انہوں نے عرض کی: اللہ کے رسول! یہ انیس (انس کی تصغیر) ہے، میرا بیٹا ہے، میں اسے آپ کے پاس لائی ہوں تاکہ یہ آپ کی خدمت کرے، آپ اس کے لیے اللہ سے دعا کریں تو آپ نے فرمایا: اے اللہ! اس کے مال اور اولاد کو زیادہ کر۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میرا مال بہت زیادہ ہے اور آج میری اولاد اور اولاد کی اولاد کی گنتی سو کے لگ بھگ ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6376]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6376 صحیح مسلم
أَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ ، عُمَرُ بْنُ يُونُسَ ، عِكْرِمَةُ ، إِسْحَاقُ ، أَنَسٌ
حَدَّثَنِي أَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ ، قَالَ: " جَاءَتْ بِي أُمِّي أُمُّ أَنَسٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ أَزَّرَتْنِي بِنِصْفِ خِمَارِهَا، وَرَدَّتْنِي بِنِصْفِهِ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا أُنَيْسٌ ابْنِي، أَتَيْتُكَ بِهِ يَخْدُمُكَ فَادْعُ اللَّهَ لَهُ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ، وَوَلَدَهُ، قَالَ أَنَسٌ: فَوَاللَّهِ إِنَّ مَالِي لَكَثِيرٌ، وَإِنَّ وَلَدِي وَوَلَدَ وَلَدِي لَيَتَعَادُّونَ عَلَى نَحْوِ الْمِائَةِ الْيَوْمَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اسحاق نے کہا: مجھے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی، کہا: میری والدہ ام انس رضی اللہ عنہا مجھے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئیں، انہوں نے اپنی آدھی اوڑھنی سے میری کمر پر چادر باندھ دی تھی اور اوڑھنی میرے شانوں پر ڈال دی تھی۔ انہوں نے عرض کی: اللہ کے رسول! یہ انیس (انس کی تصغیر) ہے، میرا بیٹا ہے، میں اسے آپ کے پاس لائی ہوں تاکہ یہ آپ کی خدمت کرے، آپ اس کے لیے اللہ سے دعا کریں تو آپ نے فرمایا: اے اللہ! اس کے مال اور اولاد کو زیادہ کر۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میرا مال بہت زیادہ ہے اور آج میری اولاد اور اولاد کی اولاد کی گنتی سو کے لگ بھگ ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6376]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2481 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، جَعْفَرٌ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ ، الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ ، عَنْ الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ: " مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَمِعَتْ أُمِّي أُمُّ سُلَيْمٍ صَوْتَهُ، فَقَالَتْ: بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ أُنَيْسٌ، فَدَعَا لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ دَعَوَاتٍ، قَدْ رَأَيْتُ مِنْهَا اثْنَتَيْنِ فِي الدُّنْيَا، وَأَنَا أَرْجُو الثَّالِثَةَ فِي الْآخِرَةِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (ہمارے گھر کے قریب سے) گزرے، میری والدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے آپ کی آواز سنی، انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان! یہ انیس ہے، اس کے لیے دعا فرمائیے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے لیے تین دعائیں کیں۔ جن میں سے دو دعاؤں (کی قبولیت) کو میں نے دیکھ لیا اور تیسری (کی قبولیت) کے متعلق آخرت میں امید رکھتا ہوں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6377]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6377 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، جَعْفَرٌ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ ، الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ ، عَنْ الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ: " مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَمِعَتْ أُمِّي أُمُّ سُلَيْمٍ صَوْتَهُ، فَقَالَتْ: بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ أُنَيْسٌ، فَدَعَا لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ دَعَوَاتٍ، قَدْ رَأَيْتُ مِنْهَا اثْنَتَيْنِ فِي الدُّنْيَا، وَأَنَا أَرْجُو الثَّالِثَةَ فِي الْآخِرَةِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (ہمارے گھر کے قریب سے) گزرے، میری والدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے آپ کی آواز سنی، انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان! یہ انیس ہے، اس کے لیے دعا فرمائیے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے لیے تین دعائیں کیں۔ جن میں سے دو دعاؤں (کی قبولیت) کو میں نے دیکھ لیا اور تیسری (کی قبولیت) کے متعلق آخرت میں امید رکھتا ہوں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6377]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2482 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، بَهْزٌ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٌ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: " أَتَى عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا أَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ، قَالَ: فَسَلَّمَ عَلَيْنَا فَبَعَثَنِي إِلَى حَاجَةٍ، فَأَبْطَأْتُ عَلَى أُمِّي، فَلَمَّا جِئْتُ، قَالَتْ: مَا حَبَسَكَ؟ قُلْتُ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَةٍ، قَالَتْ: مَا حَاجَتُهُ؟ قُلْتُ: إِنَّهَا سِرٌّ، قَالَتْ: لَا تُحَدِّثَنَّ بِسِرِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدًا، قَالَ أَنَسٌ: وَاللَّهِ لَوْ حَدَّثْتُ بِهِ أَحَدًا لَحَدَّثْتُكَ يَا ثَابِتُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، اس وقت میں لڑکوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، کہا: آپ نے ہم سب کو سلام کیا اور مجھے کسی کام کے لیے بھیج دیا تو میں اپنی والدہ کے پاس تاخیر سے پہنچا، جب میں آیا تو والدہ نے پوچھا: تمہیں دیر کیوں ہوئی؟ میں نے کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کسی کام سے بھیجا تھا۔ انہوں نے پوچھا: آپ کا وہ کام کیا تھا؟ میں نے کہا: وہ ایک راز ہے۔ میری والدہ نے کہا: تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا راز کسی پر افشا نہ کرنا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! ثابت! اگر میں وہ راز کسی کو بتاتا تو تمہیں (جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حدیث کے طلبگار ہو) ضرور بتاتا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6378]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6378 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، بَهْزٌ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٌ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: " أَتَى عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا أَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ، قَالَ: فَسَلَّمَ عَلَيْنَا فَبَعَثَنِي إِلَى حَاجَةٍ، فَأَبْطَأْتُ عَلَى أُمِّي، فَلَمَّا جِئْتُ، قَالَتْ: مَا حَبَسَكَ؟ قُلْتُ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَةٍ، قَالَتْ: مَا حَاجَتُهُ؟ قُلْتُ: إِنَّهَا سِرٌّ، قَالَتْ: لَا تُحَدِّثَنَّ بِسِرِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدًا، قَالَ أَنَسٌ: وَاللَّهِ لَوْ حَدَّثْتُ بِهِ أَحَدًا لَحَدَّثْتُكَ يَا ثَابِتُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، اس وقت میں لڑکوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، کہا: آپ نے ہم سب کو سلام کیا اور مجھے کسی کام کے لیے بھیج دیا تو میں اپنی والدہ کے پاس تاخیر سے پہنچا، جب میں آیا تو والدہ نے پوچھا: تمہیں دیر کیوں ہوئی؟ میں نے کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کسی کام سے بھیجا تھا۔ انہوں نے پوچھا: آپ کا وہ کام کیا تھا؟ میں نے کہا: وہ ایک راز ہے۔ میری والدہ نے کہا: تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا راز کسی پر افشا نہ کرنا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! ثابت! اگر میں وہ راز کسی کو بتاتا تو تمہیں (جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حدیث کے طلبگار ہو) ضرور بتاتا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6378]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2482 صحیح مسلم
حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، عَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ ، مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، أَبِي ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا عَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " أَسَرَّ إِلَيَّ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِرًّا، فَمَا أَخْبَرْتُ بِهِ أَحَدًا بَعْدُ، وَلَقَدْ سَأَلَتْنِي عَنْهُ أُمُّ سُلَيْمٍ فَمَا أَخْبَرْتُهَا بِهِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
معتمر بن سلیمان نے کہا: میں نے اپنے والد سے سنا، وہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے۔ (کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ) نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک راز میں مجھے شریک کیا۔ میں نے اب تک وہ راز کسی کو نہیں بتایا، میری والدہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے اس کے متعلق پوچھا، میں نے وہ راز ان کو بھی نہیں بتایا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6379]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6379 صحیح مسلم
حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، عَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ ، مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، أَبِي ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا عَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " أَسَرَّ إِلَيَّ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِرًّا، فَمَا أَخْبَرْتُ بِهِ أَحَدًا بَعْدُ، وَلَقَدْ سَأَلَتْنِي عَنْهُ أُمُّ سُلَيْمٍ فَمَا أَخْبَرْتُهَا بِهِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
معتمر بن سلیمان نے کہا: میں نے اپنے والد سے سنا، وہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے۔ (کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ) نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک راز میں مجھے شریک کیا۔ میں نے اب تک وہ راز کسی کو نہیں بتایا، میری والدہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے اس کے متعلق پوچھا، میں نے وہ راز ان کو بھی نہیں بتایا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6379]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة