أَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ ، عُمَرُ بْنُ يُونُسَ ، عِكْرِمَةُ ، إِسْحَاقُ ، أَنَسٌ
حَدَّثَنِي أَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ ، قَالَ: " جَاءَتْ بِي أُمِّي أُمُّ أَنَسٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ أَزَّرَتْنِي بِنِصْفِ خِمَارِهَا، وَرَدَّتْنِي بِنِصْفِهِ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا أُنَيْسٌ ابْنِي، أَتَيْتُكَ بِهِ يَخْدُمُكَ فَادْعُ اللَّهَ لَهُ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ، وَوَلَدَهُ، قَالَ أَنَسٌ: فَوَاللَّهِ إِنَّ مَالِي لَكَثِيرٌ، وَإِنَّ وَلَدِي وَوَلَدَ وَلَدِي لَيَتَعَادُّونَ عَلَى نَحْوِ الْمِائَةِ الْيَوْمَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اسحاق نے کہا: مجھے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی، کہا: میری والدہ ام انس رضی اللہ عنہا مجھے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئیں، انہوں نے اپنی آدھی اوڑھنی سے میری کمر پر چادر باندھ دی تھی اور اوڑھنی میرے شانوں پر ڈال دی تھی۔ انہوں نے عرض کی: اللہ کے رسول! یہ انیس (انس کی تصغیر) ہے، میرا بیٹا ہے، میں اسے آپ کے پاس لائی ہوں تاکہ یہ آپ کی خدمت کرے، آپ اس کے لیے اللہ سے دعا کریں تو آپ نے فرمایا: ”اے اللہ! اس کے مال اور اولاد کو زیادہ کر۔“ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میرا مال بہت زیادہ ہے اور آج میری اولاد اور اولاد کی اولاد کی گنتی سو کے لگ بھگ ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6376]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة