بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: سیدنا جلیبیب رضی اللہ عنہ کی فضیلت۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے فضائل و مناقب باب: سیدنا جلیبیب رضی اللہ عنہ کی فضیلت۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 2472 صحیح مسلم
إِسْحَاقُ بْنُ عُمَرَ بْنِ سَلِيطٍ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٍ ، كِنَانَةَ بْنِ نُعَيْمٍ ، أَبِي بَرْزَةَ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عُمَرَ بْنِ سَلِيطٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ كِنَانَةَ بْنِ نُعَيْمٍ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي مَغْزًى لَهُ فَأَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْهِ، فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ: هَلْ تَفْقِدُونَ مِنْ أَحَدٍ؟ قَالُوا: نَعَمْ، فُلَانًا، وَفُلَانًا، وَفُلَانًا، ثُمَّ قَالَ: هَلْ تَفْقِدُونَ مِنْ أَحَدٍ؟ قَالُوا: نَعَمْ، فُلَانًا، وَفُلَانًا، وَفُلَانًا، ثُمَّ قَالَ: هَلْ تَفْقِدُونَ مِنْ أَحَدٍ؟ قَالُوا: لَا، قَالَ: لَكِنِّي أَفْقِدُ جُلَيْبِيبًا فَاطْلُبُوهُ، فَطُلِبَ فِي الْقَتْلَى، فَوَجَدُوهُ إِلَى جَنْبِ سَبْعَةٍ قَدْ قَتَلَهُمْ، ثُمَّ قَتَلُوهُ، فَأَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَقَفَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: قَتَلَ سَبْعَةً، ثُمَّ قَتَلُوهُ هَذَا مِنِّي، وَأَنَا مِنْهُ هَذَا مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ، قَالَ: فَوَضَعَهُ عَلَى سَاعِدَيْهِ لَيْسَ لَهُ إِلَّا سَاعِدَا النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَحُفِرَ لَهُ، وَوُضِعَ فِي قَبْرِهِ "، وَلَمْ يَذْكُرْ غَسْلًا.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی ایک جنگ میں تھے، اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو (فتح کے ساتھ) مال غنیمت دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے لوگوں سے فرمایا: تم میں سے کوئی غائب تو نہیں ہے؟ لوگوں نے عرض کیا کہ ہاں فلاں فلاں فلاں شخص غائب ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: کوئی اور تو غائب نہیں ہے؟ لوگوں نے کہا کہ فلاں فلاں شخص غائب ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اور تو کوئی غائب نہیں ہے؟ لوگوں نے عرض کیا کہ کوئی نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں جلیبیب رضی اللہ عنہ کو نہیں دیکھتا۔ لوگوں نے ان کو مردوں میں ڈھونڈا تو ان کی لاش سات لاشوں کے پاس پائی گئی جن کو سیدنا جلیبیب نے مارا تھا۔ وہ سات کو مار کر شہید ہو گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے پاس آئے اور وہاں کھڑے ہو کر پھر فرمایا: اس نے سات آدمیوں کو مارا، اس کے بعد خود مارا گیا۔ یہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کو اپنے دونوں ہاتھوں پر رکھا اور صرف آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہاتھ ہی اس کی چارپائی تھے۔ اس کے بعد قبر کھدوا کر اس میں رکھ دیا۔ اور راوی نے غسل کا بیان نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6358]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6358 صحیح مسلم
إِسْحَاقُ بْنُ عُمَرَ بْنِ سَلِيطٍ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٍ ، كِنَانَةَ بْنِ نُعَيْمٍ ، أَبِي بَرْزَةَ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عُمَرَ بْنِ سَلِيطٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ كِنَانَةَ بْنِ نُعَيْمٍ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي مَغْزًى لَهُ فَأَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْهِ، فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ: هَلْ تَفْقِدُونَ مِنْ أَحَدٍ؟ قَالُوا: نَعَمْ، فُلَانًا، وَفُلَانًا، وَفُلَانًا، ثُمَّ قَالَ: هَلْ تَفْقِدُونَ مِنْ أَحَدٍ؟ قَالُوا: نَعَمْ، فُلَانًا، وَفُلَانًا، وَفُلَانًا، ثُمَّ قَالَ: هَلْ تَفْقِدُونَ مِنْ أَحَدٍ؟ قَالُوا: لَا، قَالَ: لَكِنِّي أَفْقِدُ جُلَيْبِيبًا فَاطْلُبُوهُ، فَطُلِبَ فِي الْقَتْلَى، فَوَجَدُوهُ إِلَى جَنْبِ سَبْعَةٍ قَدْ قَتَلَهُمْ، ثُمَّ قَتَلُوهُ، فَأَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَقَفَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: قَتَلَ سَبْعَةً، ثُمَّ قَتَلُوهُ هَذَا مِنِّي، وَأَنَا مِنْهُ هَذَا مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ، قَالَ: فَوَضَعَهُ عَلَى سَاعِدَيْهِ لَيْسَ لَهُ إِلَّا سَاعِدَا النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَحُفِرَ لَهُ، وَوُضِعَ فِي قَبْرِهِ "، وَلَمْ يَذْكُرْ غَسْلًا.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی ایک جنگ میں تھے، اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو (فتح کے ساتھ) مال غنیمت دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے لوگوں سے فرمایا: تم میں سے کوئی غائب تو نہیں ہے؟ لوگوں نے عرض کیا کہ ہاں فلاں فلاں فلاں شخص غائب ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: کوئی اور تو غائب نہیں ہے؟ لوگوں نے کہا کہ فلاں فلاں شخص غائب ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اور تو کوئی غائب نہیں ہے؟ لوگوں نے عرض کیا کہ کوئی نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں جلیبیب رضی اللہ عنہ کو نہیں دیکھتا۔ لوگوں نے ان کو مردوں میں ڈھونڈا تو ان کی لاش سات لاشوں کے پاس پائی گئی جن کو سیدنا جلیبیب نے مارا تھا۔ وہ سات کو مار کر شہید ہو گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے پاس آئے اور وہاں کھڑے ہو کر پھر فرمایا: اس نے سات آدمیوں کو مارا، اس کے بعد خود مارا گیا۔ یہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کو اپنے دونوں ہاتھوں پر رکھا اور صرف آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہاتھ ہی اس کی چارپائی تھے۔ اس کے بعد قبر کھدوا کر اس میں رکھ دیا۔ اور راوی نے غسل کا بیان نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6358]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة