أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٌ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ سَيْفًا يَوْمَ أُحُدٍ، فَقَالَ: مَنْ يَأْخُذُ مِنِّي هَذَا؟ فَبَسَطُوا أَيْدِيَهُمْ، كُلُّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ يَقُولُ: أَنَا، أَنَا، قَالَ: فَمَنْ يَأْخُذُهُ بِحَقِّهِ؟ قَالَ: فَأَحْجَمَ الْقَوْمُ، فَقَالَ: سِمَاكُ بْنُ خَرَشَةَ أَبُو دُجَانَةَ أَنَا آخُذُهُ بِحَقِّهِ، قَالَ: فَأَخَذَهُ فَفَلَقَ بِهِ هَامَ الْمُشْرِكِينَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ثابت نے ہمیں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے احد کے دن تلوار پکڑی اور فرمایا: ”یہ مجھ سے کون لیتا ہے؟“ لوگوں نے ہاتھ پھیلائے اور ہر ایک کہتا تھا کہ میں لوں گا میں لوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا حق کون ادا کرے گا؟“ یہ سنتے ہی لوگ پیچھے ہٹے (کیونکہ احد کے دن کافروں کا غلبہ تھا) سیدنا سماک بن خرشہ ابودجانہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں اس کا حق ادا کروں گا۔ پھر انہوں نے اس کو لے لیا اور مشرکوں کے سر اس تلوار سے چیرے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6353]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة