بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: ام المؤمنین سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی فضیلت۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے فضائل و مناقب باب: ام المؤمنین سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی فضیلت۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 2452 صحیح مسلم
مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ أَبُو أَحْمَدَ ، الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى السِّينَانِيُّ ، طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَي بْنِ طَلْحَةَ ، عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى السِّينَانِيُّ ، أَخْبَرَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَي بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَسْرَعُكُنَّ لَحَاقًا بِي أَطْوَلُكُنَّ يَدًا، قَالَتْ: فَكُنَّ يَتَطَاوَلْنَ أَيَّتُهُنَّ أَطْوَلُ يَدًا، قَالَتْ: فَكَانَتْ أَطْوَلَنَا يَدًا زَيْنَبُ، لِأَنَّهَا كَانَتْ تَعْمَلُ بِيَدِهَا وَتَصَدَّقُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عائشہ بنت طلحہ نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سب سے جلدی میرے ساتھ آملنے والی (میری وہ اہلیہ ہو گی جو) تم میں سب سے لمبے ہاتھوں والی ہے۔ انہوں نے کہا: ہم لمبائی ناپا کرتی تھیں کہ کس کے ہاتھ لمبے ہیں۔ انہوں نے کہا: اصل میں زینب ہم سب سے زیادہ لمبے ہاتھوں والی تھیں کیونکہ وہ اپنے ہاتھوں سے کام کرتیں اور (اس کی اجرت) صدقہ کرتی تھیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6316]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6316 صحیح مسلم
مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ أَبُو أَحْمَدَ ، الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى السِّينَانِيُّ ، طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَي بْنِ طَلْحَةَ ، عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى السِّينَانِيُّ ، أَخْبَرَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَي بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَسْرَعُكُنَّ لَحَاقًا بِي أَطْوَلُكُنَّ يَدًا، قَالَتْ: فَكُنَّ يَتَطَاوَلْنَ أَيَّتُهُنَّ أَطْوَلُ يَدًا، قَالَتْ: فَكَانَتْ أَطْوَلَنَا يَدًا زَيْنَبُ، لِأَنَّهَا كَانَتْ تَعْمَلُ بِيَدِهَا وَتَصَدَّقُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عائشہ بنت طلحہ نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سب سے جلدی میرے ساتھ آملنے والی (میری وہ اہلیہ ہو گی جو) تم میں سب سے لمبے ہاتھوں والی ہے۔ انہوں نے کہا: ہم لمبائی ناپا کرتی تھیں کہ کس کے ہاتھ لمبے ہیں۔ انہوں نے کہا: اصل میں زینب ہم سب سے زیادہ لمبے ہاتھوں والی تھیں کیونکہ وہ اپنے ہاتھوں سے کام کرتیں اور (اس کی اجرت) صدقہ کرتی تھیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6316]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة