بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا کی فضیلت۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے فضائل و مناقب باب: سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا کی فضیلت۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 16
حدیث نمبر: 2449 صحیح مسلم
أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ الْقُرَشِيُّ التَّيْمِيُّ ، الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ كلاهما، عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ ابْنُ يُونُسَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ الْقُرَشِيُّ التَّيْمِيُّ ، أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ، وَهُوَ يَقُولُ: " إِنَّ بَنِي هِشَامِ بْنِ الْمُغِيرَةِ اسْتَأْذَنُونِي أَنْ يُنْكِحُوا ابْنَتَهُمْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، فَلَا آذَنُ لَهُمْ، ثُمَّ لَا آذَنُ لَهُمْ، ثُمَّ لَا آذَنُ لَهُمْ، إِلَّا أَنْ يُحِبَّ ابْنُ أَبِي طَالِبٍ أَنْ يُطَلِّقَ ابْنَتِي، وَيَنْكِحَ ابْنَتَهُمْ، فَإِنَّمَا ابْنَتِي بَضْعَةٌ مِنِّي يَرِيبُنِي مَا رَابَهَا، وَيُؤْذِينِي مَا آذَاهَا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
لیث بن سعد نے کہا: ہمیں عبداللہ بن عبید اللہ بن ابی ملیکہ قرشی تیمی نے حدیث بیان کی کہ حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے انہیں حدیث سنائی، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے منبر پر یہ سنا، آپ فرما رہے تھے: بنو ہشام بن مغیرہ نے مجھ سے اجازت مانگی ہے کہ وہ اپنی بیٹی کی شادی علی بن ابی طالب سے کر دیں، میں انہیں اس کی اجازت نہیں دیتا، پھر میں انہیں اس کی اجازت نہیں دیتا، پھر میں انہیں اس کی اجازت نہیں دیتا، الا یہ کہ ابن ابی طالب پسند کرے تو میری بیٹی کو طلاق دے دے اور ان کی بیٹی سے شادی کر لے کیونکہ میری بیٹی میرے جسم کا حصہ ہے جو چیز اسے پریشان کرے وہ مجھے پریشان کرتی ہے۔ جو چیز اس کو ایذا دے وہ مجھے ایذا دیتی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6307]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6307 صحیح مسلم
أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ الْقُرَشِيُّ التَّيْمِيُّ ، الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ كلاهما، عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ ابْنُ يُونُسَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ الْقُرَشِيُّ التَّيْمِيُّ ، أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ، وَهُوَ يَقُولُ: " إِنَّ بَنِي هِشَامِ بْنِ الْمُغِيرَةِ اسْتَأْذَنُونِي أَنْ يُنْكِحُوا ابْنَتَهُمْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، فَلَا آذَنُ لَهُمْ، ثُمَّ لَا آذَنُ لَهُمْ، ثُمَّ لَا آذَنُ لَهُمْ، إِلَّا أَنْ يُحِبَّ ابْنُ أَبِي طَالِبٍ أَنْ يُطَلِّقَ ابْنَتِي، وَيَنْكِحَ ابْنَتَهُمْ، فَإِنَّمَا ابْنَتِي بَضْعَةٌ مِنِّي يَرِيبُنِي مَا رَابَهَا، وَيُؤْذِينِي مَا آذَاهَا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
لیث بن سعد نے کہا: ہمیں عبداللہ بن عبید اللہ بن ابی ملیکہ قرشی تیمی نے حدیث بیان کی کہ حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے انہیں حدیث سنائی، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے منبر پر یہ سنا، آپ فرما رہے تھے: بنو ہشام بن مغیرہ نے مجھ سے اجازت مانگی ہے کہ وہ اپنی بیٹی کی شادی علی بن ابی طالب سے کر دیں، میں انہیں اس کی اجازت نہیں دیتا، پھر میں انہیں اس کی اجازت نہیں دیتا، پھر میں انہیں اس کی اجازت نہیں دیتا، الا یہ کہ ابن ابی طالب پسند کرے تو میری بیٹی کو طلاق دے دے اور ان کی بیٹی سے شادی کر لے کیونکہ میری بیٹی میرے جسم کا حصہ ہے جو چیز اسے پریشان کرے وہ مجھے پریشان کرتی ہے۔ جو چیز اس کو ایذا دے وہ مجھے ایذا دیتی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6307]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2449 صحیح مسلم
أَبُو مَعْمَرٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْهُذَلِيُّ ، سُفْيَانُ ، عَمْرٍو ، ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ
حَدَّثَنِي أَبُو مَعْمَرٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْهُذَلِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا فَاطِمَةُ بَضْعَةٌ مِنِّي، يُؤْذِينِي مَا آذَاهَا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عمرو نے ابن ابی ملیکہ سے، انہوں نے حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: فاطمہ رضی اللہ عنہا میرے جسم کا ایک ٹکڑا ہے جو چیز اس کو ایذا دے وہ مجھے ایذا دیتی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6308]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6308 صحیح مسلم
أَبُو مَعْمَرٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْهُذَلِيُّ ، سُفْيَانُ ، عَمْرٍو ، ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ
حَدَّثَنِي أَبُو مَعْمَرٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْهُذَلِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا فَاطِمَةُ بَضْعَةٌ مِنِّي، يُؤْذِينِي مَا آذَاهَا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عمرو نے ابن ابی ملیکہ سے، انہوں نے حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: فاطمہ رضی اللہ عنہا میرے جسم کا ایک ٹکڑا ہے جو چیز اس کو ایذا دے وہ مجھے ایذا دیتی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6308]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2449 صحیح مسلم
أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَبِي ، الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ الدُّؤَلِيُّ ، ابْنَ شِهَابٍ ، عَلِيَّ بْنَ الْحُسَيْنِ ، الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ الدُّؤَلِيُّ ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ الْحُسَيْنِ حَدَّثَهُ،" أَنَّهُمْ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ مِنْ عِنْدِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ مَقْتَلَ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، لَقِيَهُ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ ، فَقَالَ لَهُ: هَلْ لَكَ إِلَيَّ مِنْ حَاجَةٍ تَأْمُرُنِي بِهَا؟ قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: لَا، قَالَ لَهُ: هَلْ أَنْتَ مُعْطِيَّ سَيْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَغْلِبَكَ الْقَوْمُ عَلَيْهِ، وَايْمُ اللَّهِ لَئِنْ أَعْطَيْتَنِيهِ، لَا يُخْلَصُ إِلَيْهِ أَبَدًا حَتَّى تَبْلُغَ نَفْسِي، إِنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ خَطَبَ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ عَلَى فَاطِمَةَ، فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ فِي ذَلِكَ عَلَى مِنْبَرِهِ هَذَا، وَأَنَا يَوْمَئِذٍ مُحْتَلِمٌ، فَقَالَ: إِنَّ فَاطِمَةَ مِنِّي، وَإِنِّي أَتَخَوَّفُ أَنْ تُفْتَنَ فِي دِينِهَا، قَالَ: ثُمَّ ذَكَرَ صِهْرًا لَهُ مِنْ بَنِي عَبْدِ شَمْسٍ، فَأَثْنَى عَلَيْهِ فِي مُصَاهَرَتِهِ إِيَّاهُ، فَأَحْسَنَ، قَالَ: حَدَّثَنِي فَصَدَقَنِي وَوَعَدَنِي، فَأَوْفَى لِي، وَإِنِّي لَسْتُ أُحَرِّمُ حَلَالًا، وَلَا أُحِلُّ حَرَامًا، وَلَكِنْ وَاللَّهِ لَا تَجْتَمِعُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبِنْتُ عَدُوِّ اللَّهِ مَكَانًا وَاحِدًا أَبَدًا".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن عمرو بن حلحلہ دؤلی نے کہا: ابن شہاب نے انہیں حدیث بیان کی، انہیں علی بن حسین نے حدیث بیان کی کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد جب وہ یزید بن معاویہ کے ہاں سے مدینہ منورہ آئے تو مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ ان سے ملے اور کہا: آپ کو مجھ سے کوئی بھی کام ہو تو مجھے حکم کیجیے۔ (حضرت علی بن حسین نے) کہا: میں نے ان سے کہا: نہیں (کوئی کام نہیں)۔ حضرت مسور رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تلوار (حفاظت کے لیے) مجھے عطا کریں گے، کیونکہ مجھے خدشہ ہے کہ یہ لوگ اس (تلوار) کے معاملے میں آپ پر غالب آنے کی کوشش کریں گے اور اللہ کی قسم! اگر آپ نے یہ تلوار مجھے دے دی تو کوئی اس تک نہیں پہنچ سکے گا یہاں تک کہ میری جان اپنی منزل پر پہنچ جائے۔ (مجھے یاد ہے کہ) جب حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہوتے ہوئے ابوجہل کی بیٹی کو نکاح کا پیغام دیا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے منبر پر لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے اور میں ان دنوں بلوغت کو پہنچ چکا تھا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: فاطمہ مجھ سے ہے (میرے جسم کا ٹکڑا ہے) اور مجھے اندیشہ ہے کہ اسے دین کے معاملے میں آزمائش میں ڈالا جائے گا۔ کہا: پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بنو عبدشمس میں سے اپنے داماد (حضرت ابوالعاص بن ربیع رضی اللہ عنہ) کا ذکر فرمایا اور اس کی اپنے ساتھ اس قرابت داری کی تعریف فرمائی اور اچھی طرح تعریف فرمائی۔ آپ نے فرمایا: اس نے میرے ساتھ بات کی تو سچ کہا۔ میرے ساتھ وعدہ کیا تو پورا کیا اور میں کسی حلال کام کو حرام قرار نہیں دیتا اور کسی حرام کو حلال نہیں کرتا لیکن اللہ کی قسم! اللہ کے رسول کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی ایک جگہ (ایک خاوند کے نکاح میں) اکٹھی نہیں ہوں گی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6309]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6309 صحیح مسلم
أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَبِي ، الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ الدُّؤَلِيُّ ، ابْنَ شِهَابٍ ، عَلِيَّ بْنَ الْحُسَيْنِ ، الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ الدُّؤَلِيُّ ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ الْحُسَيْنِ حَدَّثَهُ،" أَنَّهُمْ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ مِنْ عِنْدِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ مَقْتَلَ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، لَقِيَهُ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ ، فَقَالَ لَهُ: هَلْ لَكَ إِلَيَّ مِنْ حَاجَةٍ تَأْمُرُنِي بِهَا؟ قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: لَا، قَالَ لَهُ: هَلْ أَنْتَ مُعْطِيَّ سَيْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَغْلِبَكَ الْقَوْمُ عَلَيْهِ، وَايْمُ اللَّهِ لَئِنْ أَعْطَيْتَنِيهِ، لَا يُخْلَصُ إِلَيْهِ أَبَدًا حَتَّى تَبْلُغَ نَفْسِي، إِنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ خَطَبَ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ عَلَى فَاطِمَةَ، فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ فِي ذَلِكَ عَلَى مِنْبَرِهِ هَذَا، وَأَنَا يَوْمَئِذٍ مُحْتَلِمٌ، فَقَالَ: إِنَّ فَاطِمَةَ مِنِّي، وَإِنِّي أَتَخَوَّفُ أَنْ تُفْتَنَ فِي دِينِهَا، قَالَ: ثُمَّ ذَكَرَ صِهْرًا لَهُ مِنْ بَنِي عَبْدِ شَمْسٍ، فَأَثْنَى عَلَيْهِ فِي مُصَاهَرَتِهِ إِيَّاهُ، فَأَحْسَنَ، قَالَ: حَدَّثَنِي فَصَدَقَنِي وَوَعَدَنِي، فَأَوْفَى لِي، وَإِنِّي لَسْتُ أُحَرِّمُ حَلَالًا، وَلَا أُحِلُّ حَرَامًا، وَلَكِنْ وَاللَّهِ لَا تَجْتَمِعُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبِنْتُ عَدُوِّ اللَّهِ مَكَانًا وَاحِدًا أَبَدًا".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن عمرو بن حلحلہ دؤلی نے کہا: ابن شہاب نے انہیں حدیث بیان کی، انہیں علی بن حسین نے حدیث بیان کی کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد جب وہ یزید بن معاویہ کے ہاں سے مدینہ منورہ آئے تو مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ ان سے ملے اور کہا: آپ کو مجھ سے کوئی بھی کام ہو تو مجھے حکم کیجیے۔ (حضرت علی بن حسین نے) کہا: میں نے ان سے کہا: نہیں (کوئی کام نہیں)۔ حضرت مسور رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تلوار (حفاظت کے لیے) مجھے عطا کریں گے، کیونکہ مجھے خدشہ ہے کہ یہ لوگ اس (تلوار) کے معاملے میں آپ پر غالب آنے کی کوشش کریں گے اور اللہ کی قسم! اگر آپ نے یہ تلوار مجھے دے دی تو کوئی اس تک نہیں پہنچ سکے گا یہاں تک کہ میری جان اپنی منزل پر پہنچ جائے۔ (مجھے یاد ہے کہ) جب حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہوتے ہوئے ابوجہل کی بیٹی کو نکاح کا پیغام دیا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے منبر پر لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے اور میں ان دنوں بلوغت کو پہنچ چکا تھا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: فاطمہ مجھ سے ہے (میرے جسم کا ٹکڑا ہے) اور مجھے اندیشہ ہے کہ اسے دین کے معاملے میں آزمائش میں ڈالا جائے گا۔ کہا: پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بنو عبدشمس میں سے اپنے داماد (حضرت ابوالعاص بن ربیع رضی اللہ عنہ) کا ذکر فرمایا اور اس کی اپنے ساتھ اس قرابت داری کی تعریف فرمائی اور اچھی طرح تعریف فرمائی۔ آپ نے فرمایا: اس نے میرے ساتھ بات کی تو سچ کہا۔ میرے ساتھ وعدہ کیا تو پورا کیا اور میں کسی حلال کام کو حرام قرار نہیں دیتا اور کسی حرام کو حلال نہیں کرتا لیکن اللہ کی قسم! اللہ کے رسول کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی ایک جگہ (ایک خاوند کے نکاح میں) اکٹھی نہیں ہوں گی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6309]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2449 صحیح مسلم
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَبُو الْيَمَانِ ، شُعَيْبٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ ، الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ ، أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَهُ: " أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ خَطَبَ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ، وَعِنْدَهُ فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا سَمِعَتْ بِذَلِكَ فَاطِمَةُ، أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ لَهُ: إِنَّ قَوْمَكَ يَتَحَدَّثُونَ أَنَّكَ لَا تَغْضَبُ لِبَنَاتِكَ، وَهَذَا عَلِيٌّ نَاكِحًا ابْنَةَ أَبِي جَهْلٍ، قَالَ الْمِسْوَرُ: فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعْتُهُ حِينَ تَشَهَّدَ، ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ، فَإِنِّي أَنْكَحْتُ أَبَا الْعَاصِ بْنَ الرَّبِيعِ، فَحَدَّثَنِي فَصَدَقَنِي، وَإِنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ مُضْغَةٌ مِنِّي، وَإِنَّمَا أَكْرَهُ أَنْ يَفْتِنُوهَا، وَإِنَّهَا وَاللَّهِ لَا تَجْتَمِعُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ، وَبِنْتُ عَدُوِّ اللَّهِ عِنْدَ رَجُلٍ وَاحِدٍ أَبَدًا، قَالَ: فَتَرَكَ عَلِيٌّ الْخِطْبَةَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
شعیب نے زہری سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے علی بن حسین نے خبر دی کہ مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے ابوجہل کی بیٹی کے لیے نکاح کا پیغام دیا جبکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا ان کے پاس (نکاح میں) تھیں تو جب حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات سنی تو وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ سے کہا: آپ کی قوم (بنو ہاشم) کے لوگ یہ کہتے ہیں کہ آپ کو اپنی بیٹیوں کے لیے غصہ نہیں آتا اور یہ علی رضی اللہ عنہ ہیں جو ابوجہل کی بیٹی سے نکاح کرنے والے ہیں۔ حضرت مسور رضی اللہ عنہ نے کہا: تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (خطبہ دینے کے لیے) کھڑے ہوئے جب آپ نے شہادت کے الفاظ ادا کیے تو میں نے سنا، پھر آپ نے فرمایا: اس کے بعد! میں نے ابوالعاص بن ربیع کو رشتہ دیا تو اس نے میرے ساتھ بات کی تو سچی بات کی، بے شک فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میری جان کا ایک حصہ ہے۔ مجھے یہ بہت برا لگتا ہے کہ لوگ اسے آزمائش میں ڈالیں۔ اور بات یہ ہے کہ اللہ کی قسم! اللہ کے رسول کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی ایک شخص کے نکاح میں اکٹھی نہیں ہوں گی۔ (حضرت مسور رضی اللہ عنہ نے) کہا: تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نکاح کا ارادہ ترک کر دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6310]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6310 صحیح مسلم
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَبُو الْيَمَانِ ، شُعَيْبٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ ، الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ ، أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَهُ: " أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ خَطَبَ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ، وَعِنْدَهُ فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا سَمِعَتْ بِذَلِكَ فَاطِمَةُ، أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ لَهُ: إِنَّ قَوْمَكَ يَتَحَدَّثُونَ أَنَّكَ لَا تَغْضَبُ لِبَنَاتِكَ، وَهَذَا عَلِيٌّ نَاكِحًا ابْنَةَ أَبِي جَهْلٍ، قَالَ الْمِسْوَرُ: فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعْتُهُ حِينَ تَشَهَّدَ، ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ، فَإِنِّي أَنْكَحْتُ أَبَا الْعَاصِ بْنَ الرَّبِيعِ، فَحَدَّثَنِي فَصَدَقَنِي، وَإِنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ مُضْغَةٌ مِنِّي، وَإِنَّمَا أَكْرَهُ أَنْ يَفْتِنُوهَا، وَإِنَّهَا وَاللَّهِ لَا تَجْتَمِعُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ، وَبِنْتُ عَدُوِّ اللَّهِ عِنْدَ رَجُلٍ وَاحِدٍ أَبَدًا، قَالَ: فَتَرَكَ عَلِيٌّ الْخِطْبَةَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
شعیب نے زہری سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے علی بن حسین نے خبر دی کہ مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے ابوجہل کی بیٹی کے لیے نکاح کا پیغام دیا جبکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا ان کے پاس (نکاح میں) تھیں تو جب حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات سنی تو وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ سے کہا: آپ کی قوم (بنو ہاشم) کے لوگ یہ کہتے ہیں کہ آپ کو اپنی بیٹیوں کے لیے غصہ نہیں آتا اور یہ علی رضی اللہ عنہ ہیں جو ابوجہل کی بیٹی سے نکاح کرنے والے ہیں۔ حضرت مسور رضی اللہ عنہ نے کہا: تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (خطبہ دینے کے لیے) کھڑے ہوئے جب آپ نے شہادت کے الفاظ ادا کیے تو میں نے سنا، پھر آپ نے فرمایا: اس کے بعد! میں نے ابوالعاص بن ربیع کو رشتہ دیا تو اس نے میرے ساتھ بات کی تو سچی بات کی، بے شک فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میری جان کا ایک حصہ ہے۔ مجھے یہ بہت برا لگتا ہے کہ لوگ اسے آزمائش میں ڈالیں۔ اور بات یہ ہے کہ اللہ کی قسم! اللہ کے رسول کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی ایک شخص کے نکاح میں اکٹھی نہیں ہوں گی۔ (حضرت مسور رضی اللہ عنہ نے) کہا: تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نکاح کا ارادہ ترک کر دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6310]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2449 صحیح مسلم
أَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ ، وَهْبٌ يَعْنِي ابْنَ جَرِيرٍ ، أَبِيهِ ، النُّعْمَانَ يَعْنِي ابْنَ رَاشِدٍ ، الزُّهْرِيِّ
وحَدَّثَنِيهِ أَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ ، حَدَّثَنَا وَهْبٌ يَعْنِي ابْنَ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ يَعْنِي ابْنَ رَاشِدٍ يُحَدِّثُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
نعمان بن راشد نے زہری سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6311]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6311 صحیح مسلم
أَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ ، وَهْبٌ يَعْنِي ابْنَ جَرِيرٍ ، أَبِيهِ ، النُّعْمَانَ يَعْنِي ابْنَ رَاشِدٍ ، الزُّهْرِيِّ
وحَدَّثَنِيهِ أَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ ، حَدَّثَنَا وَهْبٌ يَعْنِي ابْنَ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ يَعْنِي ابْنَ رَاشِدٍ يُحَدِّثُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
نعمان بن راشد نے زہری سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6311]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2450 صحیح مسلم
مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، أَبِيهِ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ ، زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَبِي ، أَبِيهِ ، عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ ، لِفَاطِمَةَ
حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، دَعَا فَاطِمَةَ ابْنَتَهُ، فَسَارَّهَا، فَبَكَتْ، ثُمَّ سَارَّهَا، فَضَحِكَتْ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ لِفَاطِمَةَ : مَا هَذَا الَّذِي سَارَّكِ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَبَكَيْتِ، ثُمَّ سَارَّكِ، فَضَحِكْتِ، قَالَتْ: سَارَّنِي فَأَخْبَرَنِي بِمَوْتِهِ، فَبَكَيْتُ ثُمَّ سَارَّنِي، فَأَخْبَرَنِي أَنِّي أَوَّلُ مَنْ يَتْبَعُهُ مِنْ أَهْلِهِ فَضَحِكْتُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عروہ بن زبیر نے کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بلایا اور ان کو راز داری سے (سرگوشی کرتے ہوئے) کوئی بات کہی تو حضرت فاطمہ رو پڑیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر ان کو راز داری سے کوئی بات کہی تو وہ ہنسنے لگیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا: یہ کیا بات تھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آپ کو راز داری سے کہی اور آپ رو پڑیں، پھر دوبارہ راز داری سے بات کی تو ہنس دیں۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے کان میں بات کی اور اپنی موت کی خبر دی تو میں رو پڑی، پھر دوسری بار میرے کان میں بات کی اور مجھے بتایا کہ ان کے گھر والوں میں سے پہلی میں ہوں گی جو ان سے جا ملیں گی تو میں ہنس دی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6312]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6312 صحیح مسلم
مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، أَبِيهِ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ ، زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَبِي ، أَبِيهِ ، عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ ، لِفَاطِمَةَ
حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، دَعَا فَاطِمَةَ ابْنَتَهُ، فَسَارَّهَا، فَبَكَتْ، ثُمَّ سَارَّهَا، فَضَحِكَتْ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ لِفَاطِمَةَ : مَا هَذَا الَّذِي سَارَّكِ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَبَكَيْتِ، ثُمَّ سَارَّكِ، فَضَحِكْتِ، قَالَتْ: سَارَّنِي فَأَخْبَرَنِي بِمَوْتِهِ، فَبَكَيْتُ ثُمَّ سَارَّنِي، فَأَخْبَرَنِي أَنِّي أَوَّلُ مَنْ يَتْبَعُهُ مِنْ أَهْلِهِ فَضَحِكْتُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عروہ بن زبیر نے کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بلایا اور ان کو راز داری سے (سرگوشی کرتے ہوئے) کوئی بات کہی تو حضرت فاطمہ رو پڑیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر ان کو راز داری سے کوئی بات کہی تو وہ ہنسنے لگیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا: یہ کیا بات تھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آپ کو راز داری سے کہی اور آپ رو پڑیں، پھر دوبارہ راز داری سے بات کی تو ہنس دیں۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے کان میں بات کی اور اپنی موت کی خبر دی تو میں رو پڑی، پھر دوسری بار میرے کان میں بات کی اور مجھے بتایا کہ ان کے گھر والوں میں سے پہلی میں ہوں گی جو ان سے جا ملیں گی تو میں ہنس دی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6312]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2450 صحیح مسلم
أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ ، أَبُو عَوَانَةَ ، فِرَاسٍ ، عَامِرٍ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ ، فَاطِمَةُ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ فِرَاسٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " كُنَّ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهُ، لَمْ يُغَادِرْ مِنْهُنَّ وَاحِدَةً، فَأَقْبَلَتْ فَاطِمَةُ تَمْشِي مَا تُخْطِئُ مِشْيَتُهَا مِنْ مِشْيَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا، فَلَمَّا رَآهَا رَحَّبَ بِهَا، فَقَالَ: مَرْحَبًا بِابْنَتِي، ثُمَّ أَجْلَسَهَا عَنْ يَمِينِهِ، أَوْ عَنْ شِمَالِهِ، ثُمَّ سَارَّهَا، فَبَكَتْ بُكَاءً شَدِيدًا، فَلَمَّا رَأَى جَزَعَهَا سَارَّهَا الثَّانِيَةَ فَضَحِكَتْ، فَقُلْتُ لَهَا: خَصَّكِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَيْنِ نِسَائِهِ بِالسِّرَارِ، ثُمَّ أَنْتِ تَبْكِينَ، فَلَمَّا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَأَلْتُهَا: مَا قَالَ لَكِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: مَا كُنْتُ أُفْشِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِرَّهُ، قَالَتْ: فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: عَزَمْتُ عَلَيْكِ بِمَا لِي عَلَيْكِ مِنَ الْحَقِّ لَمَا حَدَّثْتِنِي، مَا قَالَ لَكِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَتْ: أَمَّا الْآنَ فَنَعَمْ أَمَّا حِينَ سَارَّنِي فِي الْمَرَّةِ الْأُولَى فَأَخْبَرَنِي، أَنَّ جِبْرِيلَ كَانَ يُعَارِضُهُ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ سَنَةٍ مَرَّةً، أَوْ مَرَّتَيْنِ، وَإِنَّهُ عَارَضَهُ الْآنَ مَرَّتَيْنِ، وَإِنِّي لَا أُرَى الْأَجَلَ إِلَّا قَدِ اقْتَرَبَ، فَاتَّقِي اللَّهَ وَاصْبِرِي، فَإِنَّهُ نِعْمَ السَّلَفُ أَنَا لَكِ، قَالَتْ: فَبَكَيْتُ بُكَائِي الَّذِي رَأَيْتِ، فَلَمَّا رَأَى جَزَعِي سَارَّنِي الثَّانِيَةَ، فَقَالَ يَا فَاطِمَةُ: أَمَا تَرْضَيْ أَنْ تَكُونِي سَيِّدَةَ نِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ، أَوْ سَيِّدَةَ نِسَاءِ هَذِهِ الْأُمَّةِ، قَالَتْ: فَضَحِكْتُ ضَحِكِي الَّذِي رَأَيْتِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوعوانہ نے فراس سے، انہوں نے عامر سے، انہوں نے مسروق سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: ہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سب ازواج آپ کے پاس موجود تھیں، ان میں سے کوئی (وہاں سے) غیر حاضر نہیں ہوئی تھی، اتنے میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا چلتی ہوئی آئیں، ان کی چال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی چال سے ذرہ برابر مختلف نہ تھی۔ جب آپ نے انہیں دیکھا تو ان کو خوش آمدید کہا اور فرمایا: میری بیٹی کو خوش آمدید! پھر انہیں اپنی دائیں یا بائیں جانب بٹھایا، پھر راز داری سے ان کے ساتھ بات کی تو وہ شدت سے رونے لگیں۔ جب آپ نے ان کی شدید بے قراری دیکھی تو آپ نے دوبارہ ان کے کان میں کوئی بات کہی تو ہنس پڑیں۔ (بعد میں) میں نے ان سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی ازواج کو چھوڑ کر خاص طور پر آپ سے راز داری کی بات کی، آپ روئیں (کیوں؟) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (اس جگہ سے) تشریف لے گئے تو میں نے ان سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آپ سے کیا کہا؟ انہوں نے کہا: میں ایسی نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا راز فاش کر دوں، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا انتقال ہو گیا تو میں نے ان سے کہا: میرا آپ پر جو حق ہے میں اس کی بنا پر اصرار کرتی ہوں (اور یہ اصرار جاری رہے گا) الا یہ کہ آپ مجھے بتائیں کہ آپ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کیا کہا تھا؟ انہوں نے کہا: اب (اگر آپ پوچھتی ہیں) تو ہاں، پہلی بار جب آپ نے سرگوشی کی تو مجھے بتایا: جبریل علیہ السلام آپ کے ساتھ سال میں ایک یا دو مرتبہ قرآن کا دور کیا کرتے تھے اور ابھی انہوں نے ایک ساتھ دو بار دور کیا ہے اور مجھے اس کے سوا کچھ نظر نہیں آتا کہ اجل (مقررہ وقت) قریب آ گیا ہے، اس لیے تم اللہ کا تقویٰ اختیار کرتے ہوئے صبر کرنا، میں تمہارے لیے بہترین پیش رو ہوں گا۔ (حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: اس پر میں اس طرح روئی جیسا آپ نے دیکھا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میری شدید بے قراری دیکھی تو دوسری بار میرے کان میں بات کی اور فرمایا: فاطمہ! کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ تم ایماندار عورتوں کی سردار بنو یا (فرمایا:) اس امت کی عورتوں کی سردار بنو؟ کہا: تو اس پر میں اس طرح سے ہنس پڑی جیسے آپ نے دیکھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6313]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6313 صحیح مسلم
أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ ، أَبُو عَوَانَةَ ، فِرَاسٍ ، عَامِرٍ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ ، فَاطِمَةُ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ فِرَاسٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " كُنَّ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهُ، لَمْ يُغَادِرْ مِنْهُنَّ وَاحِدَةً، فَأَقْبَلَتْ فَاطِمَةُ تَمْشِي مَا تُخْطِئُ مِشْيَتُهَا مِنْ مِشْيَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا، فَلَمَّا رَآهَا رَحَّبَ بِهَا، فَقَالَ: مَرْحَبًا بِابْنَتِي، ثُمَّ أَجْلَسَهَا عَنْ يَمِينِهِ، أَوْ عَنْ شِمَالِهِ، ثُمَّ سَارَّهَا، فَبَكَتْ بُكَاءً شَدِيدًا، فَلَمَّا رَأَى جَزَعَهَا سَارَّهَا الثَّانِيَةَ فَضَحِكَتْ، فَقُلْتُ لَهَا: خَصَّكِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَيْنِ نِسَائِهِ بِالسِّرَارِ، ثُمَّ أَنْتِ تَبْكِينَ، فَلَمَّا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَأَلْتُهَا: مَا قَالَ لَكِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: مَا كُنْتُ أُفْشِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِرَّهُ، قَالَتْ: فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: عَزَمْتُ عَلَيْكِ بِمَا لِي عَلَيْكِ مِنَ الْحَقِّ لَمَا حَدَّثْتِنِي، مَا قَالَ لَكِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَتْ: أَمَّا الْآنَ فَنَعَمْ أَمَّا حِينَ سَارَّنِي فِي الْمَرَّةِ الْأُولَى فَأَخْبَرَنِي، أَنَّ جِبْرِيلَ كَانَ يُعَارِضُهُ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ سَنَةٍ مَرَّةً، أَوْ مَرَّتَيْنِ، وَإِنَّهُ عَارَضَهُ الْآنَ مَرَّتَيْنِ، وَإِنِّي لَا أُرَى الْأَجَلَ إِلَّا قَدِ اقْتَرَبَ، فَاتَّقِي اللَّهَ وَاصْبِرِي، فَإِنَّهُ نِعْمَ السَّلَفُ أَنَا لَكِ، قَالَتْ: فَبَكَيْتُ بُكَائِي الَّذِي رَأَيْتِ، فَلَمَّا رَأَى جَزَعِي سَارَّنِي الثَّانِيَةَ، فَقَالَ يَا فَاطِمَةُ: أَمَا تَرْضَيْ أَنْ تَكُونِي سَيِّدَةَ نِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ، أَوْ سَيِّدَةَ نِسَاءِ هَذِهِ الْأُمَّةِ، قَالَتْ: فَضَحِكْتُ ضَحِكِي الَّذِي رَأَيْتِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوعوانہ نے فراس سے، انہوں نے عامر سے، انہوں نے مسروق سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: ہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سب ازواج آپ کے پاس موجود تھیں، ان میں سے کوئی (وہاں سے) غیر حاضر نہیں ہوئی تھی، اتنے میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا چلتی ہوئی آئیں، ان کی چال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی چال سے ذرہ برابر مختلف نہ تھی۔ جب آپ نے انہیں دیکھا تو ان کو خوش آمدید کہا اور فرمایا: میری بیٹی کو خوش آمدید! پھر انہیں اپنی دائیں یا بائیں جانب بٹھایا، پھر راز داری سے ان کے ساتھ بات کی تو وہ شدت سے رونے لگیں۔ جب آپ نے ان کی شدید بے قراری دیکھی تو آپ نے دوبارہ ان کے کان میں کوئی بات کہی تو ہنس پڑیں۔ (بعد میں) میں نے ان سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی ازواج کو چھوڑ کر خاص طور پر آپ سے راز داری کی بات کی، آپ روئیں (کیوں؟) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (اس جگہ سے) تشریف لے گئے تو میں نے ان سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آپ سے کیا کہا؟ انہوں نے کہا: میں ایسی نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا راز فاش کر دوں، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا انتقال ہو گیا تو میں نے ان سے کہا: میرا آپ پر جو حق ہے میں اس کی بنا پر اصرار کرتی ہوں (اور یہ اصرار جاری رہے گا) الا یہ کہ آپ مجھے بتائیں کہ آپ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کیا کہا تھا؟ انہوں نے کہا: اب (اگر آپ پوچھتی ہیں) تو ہاں، پہلی بار جب آپ نے سرگوشی کی تو مجھے بتایا: جبریل علیہ السلام آپ کے ساتھ سال میں ایک یا دو مرتبہ قرآن کا دور کیا کرتے تھے اور ابھی انہوں نے ایک ساتھ دو بار دور کیا ہے اور مجھے اس کے سوا کچھ نظر نہیں آتا کہ اجل (مقررہ وقت) قریب آ گیا ہے، اس لیے تم اللہ کا تقویٰ اختیار کرتے ہوئے صبر کرنا، میں تمہارے لیے بہترین پیش رو ہوں گا۔ (حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: اس پر میں اس طرح روئی جیسا آپ نے دیکھا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میری شدید بے قراری دیکھی تو دوسری بار میرے کان میں بات کی اور فرمایا: فاطمہ! کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ تم ایماندار عورتوں کی سردار بنو یا (فرمایا:) اس امت کی عورتوں کی سردار بنو؟ کہا: تو اس پر میں اس طرح سے ہنس پڑی جیسے آپ نے دیکھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6313]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2450 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، زَكَرِيَّاءَ ، ابْنُ نُمَيْرٍ ، أَبِي ، زَكَرِيَّاءُ ، فِرَاسٍ ، عَامِرٍ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ ، عَنْ فِرَاسٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " اجْتَمَعَ نِسَاءُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُغَادِرْ مِنْهُنَّ امْرَأَةً، فَجَاءَتْ فَاطِمَةُ تَمْشِي كَأَنَّ مِشْيَتَهَا مِشْيَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَرْحَبًا بِابْنَتِي، فَأَجْلَسَهَا عَنْ يَمِينِهِ، أَوْ عَنْ شِمَالِهِ، ثُمَّ إِنَّهُ أَسَرَّ إِلَيْهَا حَدِيثًا، فَبَكَتْ فَاطِمَةُ، ثُمَّ إِنَّهُ سَارَّهَا فَضَحِكَتْ أَيْضًا، فَقُلْتُ لَهَا: مَا يُبْكِيكِ؟ فَقَالَتْ: مَا كُنْتُ لِأُفْشِيَ سِرَّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ فَرَحًا أَقْرَبَ مِنْ حُزْنٍ، فَقُلْتُ لَهَا حِينَ بَكَتْ: أَخَصَّكِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَدِيثِهِ دُونَنَا ثُمَّ تَبْكِينَ، وَسَأَلْتُهَا عَمَّا قَالَ، فَقَالَتْ: مَا كُنْتُ لِأُفْشِيَ سِرَّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا قُبِضَ سَأَلْتُهَا، فَقَالَتْ: إِنَّهُ كَانَ حَدَّثَنِي أَنَّ جِبْرِيلَ كَانَ يُعَارِضُهُ بِالْقُرْآنِ كُلَّ عَامٍ مَرَّةً، وَإِنَّهُ عَارَضَهُ بِهِ فِي الْعَامِ مَرَّتَيْنِ، وَلَا أُرَانِي إِلَّا قَدْ حَضَرَ أَجَلِي، وَإِنَّكِ أَوَّلُ أَهْلِي لُحُوقًا بِي، وَنِعْمَ السَّلَفُ أَنَا لَكِ، فَبَكَيْتُ لِذَلِكَ، ثُمَّ إِنَّهُ سَارَّنِي، فَقَالَ: أَلَا تَرْضَيْنَ أَنْ تَكُونِي سَيِّدَةَ نِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ، أَوْ سَيِّدَةَ نِسَاءِ هَذِهِ الْأُمَّةِ، فَضَحِكْتُ لِذَلِكَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
زکریا نے فراس سے، انہوں نے عامر سے، انہوں نے مسروق سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سب ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس تھیں (آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیماری میں)، کوئی بیوی ایسی نہ تھی جو پاس نہ ہو کہ اتنے میں سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا آئیں اور وہ بالکل اسی طرح چلتی تھیں جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چلتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب انہیں دیکھا تو مرحبا کہا اور فرمایا: مرحبا میری بیٹی۔ پھر ان کو اپنے دائیں طرف یا بائیں طرف بٹھایا اور ان کے کان میں آہستہ سے کچھ فرمایا تو وہ بہت روئیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کا یہ حال دیکھا تو دوبارہ ان کے کان میں کچھ فرمایا تو وہ ہنسیں۔ میں نے ان سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خاص تم سے راز کی باتیں کیں، پھر تم روتی ہو۔ جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہوئے تو میں نے ان سے پوچھا کہ تم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کیا فرمایا؟ انہوں نے کہا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا راز فاش کرنے والی نہیں ہوں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات ہو گئی تو میں نے ان کو قسم دی اس حق کی جو میرا ان پر تھا اور کہا کہ مجھ سے بیان کرو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تم سے فرمایا تھا، تو انہوں نے کہا کہ اب البتہ میں بیان کروں گی۔ پہلی مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے کان میں یہ فرمایا: جبرائیل علیہ السلام ہر سال ایک بار یا دو بار مجھ سے قرآن کا دور کرتے تھے اور اس سال انہوں نے دو بار دور کیا، اور میں خیال کرتا ہوں کہ میرا (دنیا سے جانے کا) وقت قریب آ گیا ہے، پس اللہ سے ڈرتی رہ اور صبر کر، میں تیرا بہت اچھا منتظر ہوں۔ یہ سن کر میں رونے لگی جیسے تم نے دیکھا تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرا رونا دیکھا تو دوبارہ مجھ سے سرگوشی کی اور فرمایا: اے فاطمہ! تو اس بات سے راضی نہیں ہے کہ تو مومنوں کی عورتوں کی یا اس امت کی عورتوں کی سردار ہو؟ یہ سن کر میں ہنسی جیسے کہ تم نے دیکھا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6314]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6314 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، زَكَرِيَّاءَ ، ابْنُ نُمَيْرٍ ، أَبِي ، زَكَرِيَّاءُ ، فِرَاسٍ ، عَامِرٍ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ ، عَنْ فِرَاسٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " اجْتَمَعَ نِسَاءُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُغَادِرْ مِنْهُنَّ امْرَأَةً، فَجَاءَتْ فَاطِمَةُ تَمْشِي كَأَنَّ مِشْيَتَهَا مِشْيَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَرْحَبًا بِابْنَتِي، فَأَجْلَسَهَا عَنْ يَمِينِهِ، أَوْ عَنْ شِمَالِهِ، ثُمَّ إِنَّهُ أَسَرَّ إِلَيْهَا حَدِيثًا، فَبَكَتْ فَاطِمَةُ، ثُمَّ إِنَّهُ سَارَّهَا فَضَحِكَتْ أَيْضًا، فَقُلْتُ لَهَا: مَا يُبْكِيكِ؟ فَقَالَتْ: مَا كُنْتُ لِأُفْشِيَ سِرَّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ فَرَحًا أَقْرَبَ مِنْ حُزْنٍ، فَقُلْتُ لَهَا حِينَ بَكَتْ: أَخَصَّكِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَدِيثِهِ دُونَنَا ثُمَّ تَبْكِينَ، وَسَأَلْتُهَا عَمَّا قَالَ، فَقَالَتْ: مَا كُنْتُ لِأُفْشِيَ سِرَّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا قُبِضَ سَأَلْتُهَا، فَقَالَتْ: إِنَّهُ كَانَ حَدَّثَنِي أَنَّ جِبْرِيلَ كَانَ يُعَارِضُهُ بِالْقُرْآنِ كُلَّ عَامٍ مَرَّةً، وَإِنَّهُ عَارَضَهُ بِهِ فِي الْعَامِ مَرَّتَيْنِ، وَلَا أُرَانِي إِلَّا قَدْ حَضَرَ أَجَلِي، وَإِنَّكِ أَوَّلُ أَهْلِي لُحُوقًا بِي، وَنِعْمَ السَّلَفُ أَنَا لَكِ، فَبَكَيْتُ لِذَلِكَ، ثُمَّ إِنَّهُ سَارَّنِي، فَقَالَ: أَلَا تَرْضَيْنَ أَنْ تَكُونِي سَيِّدَةَ نِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ، أَوْ سَيِّدَةَ نِسَاءِ هَذِهِ الْأُمَّةِ، فَضَحِكْتُ لِذَلِكَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
زکریا نے فراس سے، انہوں نے عامر سے، انہوں نے مسروق سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سب ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس تھیں (آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیماری میں)، کوئی بیوی ایسی نہ تھی جو پاس نہ ہو کہ اتنے میں سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا آئیں اور وہ بالکل اسی طرح چلتی تھیں جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چلتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب انہیں دیکھا تو مرحبا کہا اور فرمایا: مرحبا میری بیٹی۔ پھر ان کو اپنے دائیں طرف یا بائیں طرف بٹھایا اور ان کے کان میں آہستہ سے کچھ فرمایا تو وہ بہت روئیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کا یہ حال دیکھا تو دوبارہ ان کے کان میں کچھ فرمایا تو وہ ہنسیں۔ میں نے ان سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خاص تم سے راز کی باتیں کیں، پھر تم روتی ہو۔ جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہوئے تو میں نے ان سے پوچھا کہ تم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کیا فرمایا؟ انہوں نے کہا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا راز فاش کرنے والی نہیں ہوں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات ہو گئی تو میں نے ان کو قسم دی اس حق کی جو میرا ان پر تھا اور کہا کہ مجھ سے بیان کرو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تم سے فرمایا تھا، تو انہوں نے کہا کہ اب البتہ میں بیان کروں گی۔ پہلی مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے کان میں یہ فرمایا: جبرائیل علیہ السلام ہر سال ایک بار یا دو بار مجھ سے قرآن کا دور کرتے تھے اور اس سال انہوں نے دو بار دور کیا، اور میں خیال کرتا ہوں کہ میرا (دنیا سے جانے کا) وقت قریب آ گیا ہے، پس اللہ سے ڈرتی رہ اور صبر کر، میں تیرا بہت اچھا منتظر ہوں۔ یہ سن کر میں رونے لگی جیسے تم نے دیکھا تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرا رونا دیکھا تو دوبارہ مجھ سے سرگوشی کی اور فرمایا: اے فاطمہ! تو اس بات سے راضی نہیں ہے کہ تو مومنوں کی عورتوں کی یا اس امت کی عورتوں کی سردار ہو؟ یہ سن کر میں ہنسی جیسے کہ تم نے دیکھا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6314]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة