مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، أَبِيهِ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ ، زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَبِي ، أَبِيهِ ، عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ ، لِفَاطِمَةَ
حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، دَعَا فَاطِمَةَ ابْنَتَهُ، فَسَارَّهَا، فَبَكَتْ، ثُمَّ سَارَّهَا، فَضَحِكَتْ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ لِفَاطِمَةَ : مَا هَذَا الَّذِي سَارَّكِ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَبَكَيْتِ، ثُمَّ سَارَّكِ، فَضَحِكْتِ، قَالَتْ: سَارَّنِي فَأَخْبَرَنِي بِمَوْتِهِ، فَبَكَيْتُ ثُمَّ سَارَّنِي، فَأَخْبَرَنِي أَنِّي أَوَّلُ مَنْ يَتْبَعُهُ مِنْ أَهْلِهِ فَضَحِكْتُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عروہ بن زبیر نے کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بلایا اور ان کو راز داری سے (سرگوشی کرتے ہوئے) کوئی بات کہی تو حضرت فاطمہ رو پڑیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر ان کو راز داری سے کوئی بات کہی تو وہ ہنسنے لگیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا: یہ کیا بات تھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آپ کو راز داری سے کہی اور آپ رو پڑیں، پھر دوبارہ راز داری سے بات کی تو ہنس دیں۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے کان میں بات کی اور اپنی موت کی خبر دی تو میں رو پڑی، پھر دوسری بار میرے کان میں بات کی اور مجھے بتایا کہ ان کے گھر والوں میں سے پہلی میں ہوں گی جو ان سے جا ملیں گی تو میں ہنس دی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6312]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة