بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: سیدنا طلحہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہما کی فضیلت۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے فضائل و مناقب باب: سیدنا طلحہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہما کی فضیلت۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 18
حدیث نمبر: 2415 صحیح مسلم
عَمْرٌو النَّاقِدُ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: " نَدَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ، فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ، ثُمَّ نَدَبَهُمْ، فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ، ثُمَّ نَدَبَهُمْ، فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيٌّ، وَحَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان بن عیینہ نے محمد بن منکدر سے، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جنگ خندق کے دن لوگوں کو پکارا: (کون ہے جو ہمیں دشمنوں کے اندر کی خبر دے گا؟) تو زبیر رضی اللہ عنہ آگے آئے (کہا: میں لاؤں گا) پھر آپ نے ان کو (دوسری بار) پکارا تو زبیر رضی اللہ عنہ ہی آگے بڑھے پھر ان کو (تیسری بار) پکارا تو بھی زبیر رضی اللہ عنہ ہی آگے بڑھے چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہر نبی کا حواری (خاص مددگار) ہوتا ہے اور میرا حواری زبیر ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6243]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6243 صحیح مسلم
عَمْرٌو النَّاقِدُ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: " نَدَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ، فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ، ثُمَّ نَدَبَهُمْ، فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ، ثُمَّ نَدَبَهُمْ، فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيٌّ، وَحَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان بن عیینہ نے محمد بن منکدر سے، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جنگ خندق کے دن لوگوں کو پکارا: (کون ہے جو ہمیں دشمنوں کے اندر کی خبر دے گا؟) تو زبیر رضی اللہ عنہ آگے آئے (کہا: میں لاؤں گا) پھر آپ نے ان کو (دوسری بار) پکارا تو زبیر رضی اللہ عنہ ہی آگے بڑھے پھر ان کو (تیسری بار) پکارا تو بھی زبیر رضی اللہ عنہ ہی آگے بڑھے چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہر نبی کا حواری (خاص مددگار) ہوتا ہے اور میرا حواری زبیر ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6243]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2415 صحیح مسلم
أَبُو كُرَيْبٍ ، أَبُو أُسَامَةَ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبُو كُرَيْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَكِيعٍ ، سُفْيَانُ ، مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، جَابِرٍ
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جميعا، عَنْ وَكِيعٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ كِلَاهُمَا، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہشام بن عروہ اور سفیان بن عیینہ نے محمد بن منکدر سے، انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ابن عیینہ کی حدیث کے ہم معنی روایت کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6244]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6244 صحیح مسلم
أَبُو كُرَيْبٍ ، أَبُو أُسَامَةَ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبُو كُرَيْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَكِيعٍ ، سُفْيَانُ ، مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، جَابِرٍ
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جميعا، عَنْ وَكِيعٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ كِلَاهُمَا، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہشام بن عروہ اور سفیان بن عیینہ نے محمد بن منکدر سے، انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ابن عیینہ کی حدیث کے ہم معنی روایت کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6244]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2416 صحیح مسلم
إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْخَلِيلِ ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، ابْنِ مُسْهِرٍ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُرْوَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، لِي
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْخَلِيلِ ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ كلاهما، عَنْ ابْنِ مُسْهِرٍ ، قَالَ إِسْمَاعِيلُ: أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ: " كُنْتُ أَنَا وَعُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ مَعَ النِّسْوَةِ فِي أُطُمِ حَسَّانَ، فَكَانَ يُطَأْطِئُ لِي مَرَّةً، فَأَنْظُرُ وَأُطَأْطِئُ لَهُ مَرَّةً، فَيَنْظُرُ فَكُنْتُ أَعْرِفُ أَبِي، إِذَا مَرَّ عَلَى فَرَسِهِ فِي السِّلَاحِ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ "، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِأَبِي، فَقَالَ: وَرَأَيْتَنِي يَا بُنَيَّ، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ جَمَعَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ أَبَوَيْهِ، فَقَالَ: فَدَاكَ أَبِي وَأُمِّي.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
علی بن مسہر نے ہشام بن عروہ سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں اور حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ جنگ خندق کے دن عورتوں کے ساتھ حضرت حسان رضی اللہ عنہ کے قلعے میں تھے، کبھی وہ میرے لیے کمر جھکا کر کھڑے ہو جاتے اور میں (ان کی کمر پر کھڑا ہو کر مسلمانوں کے لشکر کو) دیکھ لیتا، کبھی میں کمر جھکا کر کھڑا ہو جاتا اور وہ دیکھ لیتے۔ میں نے اس وقت اپنے والد کو پہچان لیا تھا جب وہ اپنے گھوڑے پر (سوار ہو کر) بنو قریظہ کی طرف جانے کے لیے گزرے۔ (ہشام بن عروہ نے) کہا: مجھے عبداللہ بن عروہ نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے (روایت کرتے ہوئے) بتایا کہا: میں نے یہ بات اپنے والد کو بتائی تو انہوں نے کہا: میرے بیٹے! تم نے مجھے دیکھا تھا؟ میں نے کہا: ہاں، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! اس روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے لیے اپنے ماں باپ دونوں کا ایک ساتھ ذکر کرتے ہوئے کہا: میرے ماں باپ تم پر قربان! [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6245]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6245 صحیح مسلم
إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْخَلِيلِ ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، ابْنِ مُسْهِرٍ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُرْوَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، لِي
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْخَلِيلِ ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ كلاهما، عَنْ ابْنِ مُسْهِرٍ ، قَالَ إِسْمَاعِيلُ: أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ: " كُنْتُ أَنَا وَعُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ مَعَ النِّسْوَةِ فِي أُطُمِ حَسَّانَ، فَكَانَ يُطَأْطِئُ لِي مَرَّةً، فَأَنْظُرُ وَأُطَأْطِئُ لَهُ مَرَّةً، فَيَنْظُرُ فَكُنْتُ أَعْرِفُ أَبِي، إِذَا مَرَّ عَلَى فَرَسِهِ فِي السِّلَاحِ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ "، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِأَبِي، فَقَالَ: وَرَأَيْتَنِي يَا بُنَيَّ، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ جَمَعَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ أَبَوَيْهِ، فَقَالَ: فَدَاكَ أَبِي وَأُمِّي.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
علی بن مسہر نے ہشام بن عروہ سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں اور حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ جنگ خندق کے دن عورتوں کے ساتھ حضرت حسان رضی اللہ عنہ کے قلعے میں تھے، کبھی وہ میرے لیے کمر جھکا کر کھڑے ہو جاتے اور میں (ان کی کمر پر کھڑا ہو کر مسلمانوں کے لشکر کو) دیکھ لیتا، کبھی میں کمر جھکا کر کھڑا ہو جاتا اور وہ دیکھ لیتے۔ میں نے اس وقت اپنے والد کو پہچان لیا تھا جب وہ اپنے گھوڑے پر (سوار ہو کر) بنو قریظہ کی طرف جانے کے لیے گزرے۔ (ہشام بن عروہ نے) کہا: مجھے عبداللہ بن عروہ نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے (روایت کرتے ہوئے) بتایا کہا: میں نے یہ بات اپنے والد کو بتائی تو انہوں نے کہا: میرے بیٹے! تم نے مجھے دیکھا تھا؟ میں نے کہا: ہاں، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! اس روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے لیے اپنے ماں باپ دونوں کا ایک ساتھ ذکر کرتے ہوئے کہا: میرے ماں باپ تم پر قربان! [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6245]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2416 صحیح مسلم
أَبُو كُرَيْبٍ ، أَبُو أُسَامَةَ ، هِشَامٍ ، أَبِيهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْخَنْدَقِ كُنْتُ أَنَا، وَعُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ فِي الْأُطُمِ الَّذِي فِيهِ النِّسْوَةُ يَعْنِي نِسْوَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يَذْكُرْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُرْوَةَ، فِي الْحَدِيثِ، وَلَكِنْ أَدْرَجَ الْقِصَّةَ فِي حَدِيثِ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ الزُّبَيْرِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابواسامہ نے ہشام سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: خندق کے دن میں اور عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ اس قلعے میں تھے جس میں عورتیں یعنی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ازواج تھیں، اس کے بعد ابن مسہر کی اسی سند کے ساتھ روایت کردہ حدیث کی طرح حدیث بیان کی اور حدیث (کی سند) میں عبداللہ بن عروہ کا ذکر نہیں کیا لیکن (ان کا بیان کیا ہوا سارا) قصہ اس روایت میں شامل کر دیا جو ہشام نے اپنے والد سے اور انہوں نے (عبداللہ) ابن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6246]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6246 صحیح مسلم
أَبُو كُرَيْبٍ ، أَبُو أُسَامَةَ ، هِشَامٍ ، أَبِيهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْخَنْدَقِ كُنْتُ أَنَا، وَعُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ فِي الْأُطُمِ الَّذِي فِيهِ النِّسْوَةُ يَعْنِي نِسْوَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يَذْكُرْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُرْوَةَ، فِي الْحَدِيثِ، وَلَكِنْ أَدْرَجَ الْقِصَّةَ فِي حَدِيثِ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ الزُّبَيْرِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابواسامہ نے ہشام سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: خندق کے دن میں اور عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ اس قلعے میں تھے جس میں عورتیں یعنی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ازواج تھیں، اس کے بعد ابن مسہر کی اسی سند کے ساتھ روایت کردہ حدیث کی طرح حدیث بیان کی اور حدیث (کی سند) میں عبداللہ بن عروہ کا ذکر نہیں کیا لیکن (ان کا بیان کیا ہوا سارا) قصہ اس روایت میں شامل کر دیا جو ہشام نے اپنے والد سے اور انہوں نے (عبداللہ) ابن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6246]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2417 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، سُهَيْلٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عَلَى حِرَاءٍ هُوَ وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ، وَعَلِيٌّ، وَطَلْحَةُ، وَالزُّبَيْرُ، فَتَحَرَّكَتِ الصَّخْرَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اهْدَأْ فَمَا عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ، أَوْ صِدِّيقٌ، أَوْ شَهِيدٌ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالعزیز بن محمد نے سہیل (بن ابی صالح) سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حراء پہاڑ پر تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ، حضرت علی رضی اللہ عنہ، حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ، تو چٹان (جس پر یہ سب ہیں) ہلنے لگی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ٹھہر جاؤ، تجھ پر نبی یا صدیق یا شہید کے علاوہ اور کوئی نہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6247]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6247 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، سُهَيْلٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عَلَى حِرَاءٍ هُوَ وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ، وَعَلِيٌّ، وَطَلْحَةُ، وَالزُّبَيْرُ، فَتَحَرَّكَتِ الصَّخْرَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اهْدَأْ فَمَا عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ، أَوْ صِدِّيقٌ، أَوْ شَهِيدٌ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالعزیز بن محمد نے سہیل (بن ابی صالح) سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حراء پہاڑ پر تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ، حضرت علی رضی اللہ عنہ، حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ، تو چٹان (جس پر یہ سب ہیں) ہلنے لگی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ٹھہر جاؤ، تجھ پر نبی یا صدیق یا شہید کے علاوہ اور کوئی نہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6247]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2417 صحیح مسلم
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ خُنَيْسٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْدِيُّ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، يَحْيَي بْنِ سَعِيدٍ ، سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ خُنَيْسٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْدِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ يَحْيَي بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عَلَى جَبَلِ حِرَاءٍ، فَتَحَرَّكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اسْكُنْ حِرَاءُ، فَمَا عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ، أَوْ صِدِّيقٌ، أَوْ شَهِيدٌ، وَعَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ، وَعَلِيٌّ، وَطَلْحَةُ، وَالزُّبَيْرُ، وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یحییٰ بن سعید نے سہیل بن ابی صالح سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کوہ حراء پر تھے۔ وہ ہلنے لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ٹھہر جا، تجھ پر نبی یا صدیق یا شہید کے سوا اور کوئی نہیں۔ اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تھے اور (آپ کے ساتھ) حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ، حضرت علی رضی اللہ عنہ، حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ، حضرت زبیر رضی اللہ عنہ اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6248]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6248 صحیح مسلم
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ خُنَيْسٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْدِيُّ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، يَحْيَي بْنِ سَعِيدٍ ، سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ خُنَيْسٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْدِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ يَحْيَي بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عَلَى جَبَلِ حِرَاءٍ، فَتَحَرَّكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اسْكُنْ حِرَاءُ، فَمَا عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ، أَوْ صِدِّيقٌ، أَوْ شَهِيدٌ، وَعَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ، وَعَلِيٌّ، وَطَلْحَةُ، وَالزُّبَيْرُ، وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یحییٰ بن سعید نے سہیل بن ابی صالح سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کوہ حراء پر تھے۔ وہ ہلنے لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ٹھہر جا، تجھ پر نبی یا صدیق یا شہید کے سوا اور کوئی نہیں۔ اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تھے اور (آپ کے ساتھ) حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ، حضرت علی رضی اللہ عنہ، حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ، حضرت زبیر رضی اللہ عنہ اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6248]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2418 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَعَبْدَةُ ، هِشَامٌ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَعَبْدَةُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَتْ لِي عَائِشَةُ : " أَبَوَاكَ وَاللَّهِ مِنَ الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن نمیر اور عبدہ نے کہا: ہمیں ہشام نے اپنے والد (عروہ) سے حدیث بیان کی، کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے فرمایا: اللہ کی قسم! تمہارے دو والد (والد زبیر اور نانا ابوبکر رضی اللہ عنہ) ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے (احد میں) زخم کھا لینے کے بعد (بھی) اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بلانے پر لبیک کہا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6249]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6249 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَعَبْدَةُ ، هِشَامٌ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَعَبْدَةُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَتْ لِي عَائِشَةُ : " أَبَوَاكَ وَاللَّهِ مِنَ الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن نمیر اور عبدہ نے کہا: ہمیں ہشام نے اپنے والد (عروہ) سے حدیث بیان کی، کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے فرمایا: اللہ کی قسم! تمہارے دو والد (والد زبیر اور نانا ابوبکر رضی اللہ عنہ) ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے (احد میں) زخم کھا لینے کے بعد (بھی) اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بلانے پر لبیک کہا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6249]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2418 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَبُو أُسَامَةَ ، هِشَامٌ
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَزَادَ تَعْنِي أَبَا بَكْرٍ، وَالزُّبَيْرَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابواسامہ نے کہا: ہمیں ہشام نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور یہ اضافہ کیا کہ وہ ابوبکر رضی اللہ عنہ اور زبیر رضی اللہ عنہ مراد لے رہی تھیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6250]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6250 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَبُو أُسَامَةَ ، هِشَامٌ
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَزَادَ تَعْنِي أَبَا بَكْرٍ، وَالزُّبَيْرَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابواسامہ نے کہا: ہمیں ہشام نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور یہ اضافہ کیا کہ وہ ابوبکر رضی اللہ عنہ اور زبیر رضی اللہ عنہ مراد لے رہی تھیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6250]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2418 صحیح مسلم
أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، وَكِيعٌ ، إِسْمَاعِيلُ ، الْبَهِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ الْبَهِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، قَالَ: قَالَتْ لِي عَائِشَةُ : " كَانَ أَبَوَاكَ مِنَ الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
بہی نے عروہ سے روایت کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے فرمایا: تمہارے دونوں والد ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے زخم کھانے کے بعد بھی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بلانے پر لبیک کہا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6251]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6251 صحیح مسلم
أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، وَكِيعٌ ، إِسْمَاعِيلُ ، الْبَهِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ الْبَهِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، قَالَ: قَالَتْ لِي عَائِشَةُ : " كَانَ أَبَوَاكَ مِنَ الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
بہی نے عروہ سے روایت کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے فرمایا: تمہارے دونوں والد ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے زخم کھانے کے بعد بھی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بلانے پر لبیک کہا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6251]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة