زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَطَاءً ، ابْنَ عَبَّاسٍ
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ مِلْءَ وَادٍ مَالًا، لَأَحَبَّ أَنْ يَكُونَ إِلَيْهِ مِثْلُهُ، وَلَا يَمْلَأُ نَفْسَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ، وَاللَّهُ يَتُوبُ عَلَى مَنْ تَابَ "، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَلَا أَدْرِي أَمِنَ الْقُرْآنِ هُوَ أَمْ لَا، وَفِي رِوَايَةِ زُهَيْرٍ، قَالَ: فَلَا أَدْرِي أَمِنَ الْقُرْآنِ، لَمْ يَذْكُرْ ابْنَ عَبَّاسٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
مجھے زہیر بن حرب اور ہارون بن عبداللہ نے حدیث سنائی دونوں نے کہا: ہمیں حجاج بن محمد نے ابن جریج سے حدیث بیان کی، کہا: میں نے عطاء سے سنا کہہ رہے تھے میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا کہہ رہے تھے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”اگر آدم کے بیٹے کے پاس مال سے بھری ہوئی ایک وادی ہو تو وہ چاہے گا کہ اس کے پاس اس جیسی اور وادی بھی ہو آدمی کے دل کو مٹی کے سوا کچھ اور نہیں بھر سکتا اور اللہ اس پر توجہ فرماتا ہے جو اس کی طرف متوجہ ہو۔“ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا مجھے معلوم نہیں یہ قرآن میں سے ہے یا نہیں اور زہیر کی روایت میں ہے انہوں نے کہا: مجھے معلوم نہیں یہ بات قرآن میں سے ہے (یا نہیں) انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2418]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة