بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: اگر آدم کے بیٹے کے پاس دو وادیاں مال کی ہوں تو وہ تیسری چاہے گا۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم زکاۃ کے احکام و مسائل باب: اگر آدم کے بیٹے کے پاس دو وادیاں مال کی ہوں تو وہ تیسری چاہے گا۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 10
حدیث نمبر: 1048 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، أَبُو عَوَانَةَ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ مَالٍ، لَابْتَغَى وَادِيًا ثَالِثًا، وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ، وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوعوانہ نے قتادہ سے انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر آدم کے بیٹے کے پاس مال کی (بھری ہوئی) دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری حاصل کرنا چاہے گا آدمی کا پیٹ مٹی کے سوا کوئی اور چیز نہیں بھر سکتی اور اللہ اسی کی طرف توجہ فرماتا ہے جو (اس کی طرف) توجہ کرتا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2415]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2415 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، أَبُو عَوَانَةَ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ مَالٍ، لَابْتَغَى وَادِيًا ثَالِثًا، وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ، وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوعوانہ نے قتادہ سے انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر آدم کے بیٹے کے پاس مال کی (بھری ہوئی) دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری حاصل کرنا چاہے گا آدمی کا پیٹ مٹی کے سوا کوئی اور چیز نہیں بھر سکتی اور اللہ اسی کی طرف توجہ فرماتا ہے جو (اس کی طرف) توجہ کرتا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2415]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1048 صحیح مسلم
ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: فَلَا أَدْرِي أَشَيْءٌ أُنْزِلَ أَمْ شَيْءٌ كَانَ يَقُولُهُ، بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
شعبہ نے کہا: قتادہ سے سنا وہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کر رہے تھے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا فرما رہے تھے مجھے پتہ نہیں ہے کہ یہ الفاظ آپ پر نازل ہوئے تھے یا آپ (خود ہی) فرما رہے تھے۔ (آگے) ابوعوانہ کی حدیث کے مانند ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2416]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2416 صحیح مسلم
ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: فَلَا أَدْرِي أَشَيْءٌ أُنْزِلَ أَمْ شَيْءٌ كَانَ يَقُولُهُ، بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
شعبہ نے کہا: قتادہ سے سنا وہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کر رہے تھے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا فرما رہے تھے مجھے پتہ نہیں ہے کہ یہ الفاظ آپ پر نازل ہوئے تھے یا آپ (خود ہی) فرما رہے تھے۔ (آگے) ابوعوانہ کی حدیث کے مانند ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2416]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1048 صحیح مسلم
حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادٍ مِنْ ذَهَبٍ، أَحَبَّ أَنَّ لَهُ وَادِيًا آخَرَ، وَلَنْ يَمْلَأَ فَاهُ إِلَّا التُّرَابُ، وَاللَّهُ يَتُوبُ عَلَى مَنْ تَابَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن شہاب نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: اگر ابن آدم کے پاس سونے کی (بھری ہوئی) ایک وادی ہو تو وہ چاہے گا کہ اس کے پاس ایک اور وادی بھی ہو، اس کا منہ مٹی کے سوا کوئی اور چیز نہیں بھرتی اللہ اس کی طرف توجہ فرماتا ہے جو اللہ کی طرف توجہ کرتا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2417]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2417 صحیح مسلم
حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادٍ مِنْ ذَهَبٍ، أَحَبَّ أَنَّ لَهُ وَادِيًا آخَرَ، وَلَنْ يَمْلَأَ فَاهُ إِلَّا التُّرَابُ، وَاللَّهُ يَتُوبُ عَلَى مَنْ تَابَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن شہاب نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: اگر ابن آدم کے پاس سونے کی (بھری ہوئی) ایک وادی ہو تو وہ چاہے گا کہ اس کے پاس ایک اور وادی بھی ہو، اس کا منہ مٹی کے سوا کوئی اور چیز نہیں بھرتی اللہ اس کی طرف توجہ فرماتا ہے جو اللہ کی طرف توجہ کرتا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2417]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1049 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَطَاءً ، ابْنَ عَبَّاسٍ
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ مِلْءَ وَادٍ مَالًا، لَأَحَبَّ أَنْ يَكُونَ إِلَيْهِ مِثْلُهُ، وَلَا يَمْلَأُ نَفْسَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ، وَاللَّهُ يَتُوبُ عَلَى مَنْ تَابَ "، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَلَا أَدْرِي أَمِنَ الْقُرْآنِ هُوَ أَمْ لَا، وَفِي رِوَايَةِ زُهَيْرٍ، قَالَ: فَلَا أَدْرِي أَمِنَ الْقُرْآنِ، لَمْ يَذْكُرْ ابْنَ عَبَّاسٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
مجھے زہیر بن حرب اور ہارون بن عبداللہ نے حدیث سنائی دونوں نے کہا: ہمیں حجاج بن محمد نے ابن جریج سے حدیث بیان کی، کہا: میں نے عطاء سے سنا کہہ رہے تھے میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا کہہ رہے تھے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اگر آدم کے بیٹے کے پاس مال سے بھری ہوئی ایک وادی ہو تو وہ چاہے گا کہ اس کے پاس اس جیسی اور وادی بھی ہو آدمی کے دل کو مٹی کے سوا کچھ اور نہیں بھر سکتا اور اللہ اس پر توجہ فرماتا ہے جو اس کی طرف متوجہ ہو۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا مجھے معلوم نہیں یہ قرآن میں سے ہے یا نہیں اور زہیر کی روایت میں ہے انہوں نے کہا: مجھے معلوم نہیں یہ بات قرآن میں سے ہے (یا نہیں) انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2418]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2418 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَطَاءً ، ابْنَ عَبَّاسٍ
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ مِلْءَ وَادٍ مَالًا، لَأَحَبَّ أَنْ يَكُونَ إِلَيْهِ مِثْلُهُ، وَلَا يَمْلَأُ نَفْسَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ، وَاللَّهُ يَتُوبُ عَلَى مَنْ تَابَ "، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَلَا أَدْرِي أَمِنَ الْقُرْآنِ هُوَ أَمْ لَا، وَفِي رِوَايَةِ زُهَيْرٍ، قَالَ: فَلَا أَدْرِي أَمِنَ الْقُرْآنِ، لَمْ يَذْكُرْ ابْنَ عَبَّاسٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
مجھے زہیر بن حرب اور ہارون بن عبداللہ نے حدیث سنائی دونوں نے کہا: ہمیں حجاج بن محمد نے ابن جریج سے حدیث بیان کی، کہا: میں نے عطاء سے سنا کہہ رہے تھے میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا کہہ رہے تھے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اگر آدم کے بیٹے کے پاس مال سے بھری ہوئی ایک وادی ہو تو وہ چاہے گا کہ اس کے پاس اس جیسی اور وادی بھی ہو آدمی کے دل کو مٹی کے سوا کچھ اور نہیں بھر سکتا اور اللہ اس پر توجہ فرماتا ہے جو اس کی طرف متوجہ ہو۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا مجھے معلوم نہیں یہ قرآن میں سے ہے یا نہیں اور زہیر کی روایت میں ہے انہوں نے کہا: مجھے معلوم نہیں یہ بات قرآن میں سے ہے (یا نہیں) انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2418]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1050 صحیح مسلم
سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، دَاوُدَ ، أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ ، أَبِيهِ ، أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: بَعَثَ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ إِلَى قُرَّاءِ أَهْلِ الْبَصْرَةِ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ ثَلَاثُ مِائَةِ رَجُلٍ، قَدْ قَرَءُوا الْقُرْآنَ، فَقَالَ " أَنْتُمْ خِيَارُ أَهْلِ الْبَصْرَةِ وَقُرَّاؤُهُمْ فَاتْلُوهُ، وَلَا يَطُولَنَّ عَلَيْكُمُ الْأَمَدُ، فَتَقْسُوَ قُلُوبُكُمْ كَمَا قَسَتْ قُلُوبُ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، وَإِنَّا كُنَّا نَقْرَأُ سُورَةً كُنَّا نُشَبِّهُهَا فِي الطُّولِ وَالشِّدَّةِ بِبَرَاءَةَ فَأُنْسِيتُهَا، غَيْرَ أَنِّي قَدْ حَفِظْتُ مِنْهَا لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ مَالٍ لَابْتَغَى وَادِيًا ثَالِثًا، وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ، وَكُنَّا نَقْرَأُ سُورَةً كُنَّا نُشَبِّهُهَا بِإِحْدَى الْمُسَبِّحَاتِ فَأُنْسِيتُهَا، غَيْرَ أَنِّي حَفِظْتُ مِنْهَا يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لا تَفْعَلُونَ سورة الصف آية 2 فَتُكْتَبُ شَهَادَةً فِي أَعْنَاقِكُمْ فَتُسْأَلُونَ عَنْهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوحرب بن ابی اسود کے والد سے روایت ہے انہوں نے کہا: حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے اہل بصرہ کے قاریوں کی طرف (انہیں بلانے کے لیے قاصد) بھیجا تو ان کے ہاں تین سو آدمی آئے جو قرآن پڑھ چکے تھے تو انہوں (ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ) نے کہا: تم اہل بصرہ کے بہترین لوگ اور ان کے قاری ہو اس کی تلاوت کرتے رہا کرو تم پر لمبی مدت (کا وقفہ) نہ گزرے کہ تمہارے دل سخت ہو جائیں جس طرح ان کے دل سخت ہو گئے تھے جو تم سے پہلے تھے ہم ایک سورت پڑھا کرتے تھے جسے ہم لمبائی اور (ڈرانے کی) شدت میں (سورہ) براءت سے تشبیہ دیا کرتے تو وہ مجھے بھلا دی گئی اس کے سوا کہ اس کا یہ ٹکڑا مجھے یاد رہ گیا اگر آدم کے بیٹے کے پاس مال کی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری وادی کا متلاشی ہوگا اور ابن آدم کا پیٹ تو مٹی کے سوا کوئی شے نہیں بھرتی۔ ہم ایک اور سورت پڑھا کرتے تھے جس کو ہم تسبیح والی سورتوں میں سے ایک سورت سے تشبیہ دیا کرتے تھے وہ بھی مجھے بھلا دی گئی ہاں اس میں سے مجھے یہ یاد ہے اے ایمان والو! وہ بات کہتے کیوں ہو جو کرتے نہیں وہ بطور شہادت تمہاری گردنوں میں لکھ دی جائے گی اور قیامت کے دن تم سے اس کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2419]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2419 صحیح مسلم
سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، دَاوُدَ ، أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ ، أَبِيهِ ، أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: بَعَثَ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ إِلَى قُرَّاءِ أَهْلِ الْبَصْرَةِ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ ثَلَاثُ مِائَةِ رَجُلٍ، قَدْ قَرَءُوا الْقُرْآنَ، فَقَالَ " أَنْتُمْ خِيَارُ أَهْلِ الْبَصْرَةِ وَقُرَّاؤُهُمْ فَاتْلُوهُ، وَلَا يَطُولَنَّ عَلَيْكُمُ الْأَمَدُ، فَتَقْسُوَ قُلُوبُكُمْ كَمَا قَسَتْ قُلُوبُ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، وَإِنَّا كُنَّا نَقْرَأُ سُورَةً كُنَّا نُشَبِّهُهَا فِي الطُّولِ وَالشِّدَّةِ بِبَرَاءَةَ فَأُنْسِيتُهَا، غَيْرَ أَنِّي قَدْ حَفِظْتُ مِنْهَا لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ مَالٍ لَابْتَغَى وَادِيًا ثَالِثًا، وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ، وَكُنَّا نَقْرَأُ سُورَةً كُنَّا نُشَبِّهُهَا بِإِحْدَى الْمُسَبِّحَاتِ فَأُنْسِيتُهَا، غَيْرَ أَنِّي حَفِظْتُ مِنْهَا يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لا تَفْعَلُونَ سورة الصف آية 2 فَتُكْتَبُ شَهَادَةً فِي أَعْنَاقِكُمْ فَتُسْأَلُونَ عَنْهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوحرب بن ابی اسود کے والد سے روایت ہے انہوں نے کہا: حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے اہل بصرہ کے قاریوں کی طرف (انہیں بلانے کے لیے قاصد) بھیجا تو ان کے ہاں تین سو آدمی آئے جو قرآن پڑھ چکے تھے تو انہوں (ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ) نے کہا: تم اہل بصرہ کے بہترین لوگ اور ان کے قاری ہو اس کی تلاوت کرتے رہا کرو تم پر لمبی مدت (کا وقفہ) نہ گزرے کہ تمہارے دل سخت ہو جائیں جس طرح ان کے دل سخت ہو گئے تھے جو تم سے پہلے تھے ہم ایک سورت پڑھا کرتے تھے جسے ہم لمبائی اور (ڈرانے کی) شدت میں (سورہ) براءت سے تشبیہ دیا کرتے تو وہ مجھے بھلا دی گئی اس کے سوا کہ اس کا یہ ٹکڑا مجھے یاد رہ گیا اگر آدم کے بیٹے کے پاس مال کی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری وادی کا متلاشی ہوگا اور ابن آدم کا پیٹ تو مٹی کے سوا کوئی شے نہیں بھرتی۔ ہم ایک اور سورت پڑھا کرتے تھے جس کو ہم تسبیح والی سورتوں میں سے ایک سورت سے تشبیہ دیا کرتے تھے وہ بھی مجھے بھلا دی گئی ہاں اس میں سے مجھے یہ یاد ہے اے ایمان والو! وہ بات کہتے کیوں ہو جو کرتے نہیں وہ بطور شہادت تمہاری گردنوں میں لکھ دی جائے گی اور قیامت کے دن تم سے اس کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2419]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة