بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے توکل کا بیان۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم انبیائے کرام علیہم السلام کے فضائل باب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے توکل کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 6
حدیث نمبر: 843 صحیح مسلم
عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي سَلَمَةَ ، جَابِرٍ ، أَبُو عِمْرَانَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ ، إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، الزُّهْرِيِّ ، سِنَانِ بْنِ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيِّ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَابِرٍ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو عِمْرَانَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سِنَانِ بْنِ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةً قِبَلَ نَجْدٍ، فَأَدْرَكَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَادٍ كَثِيرِ الْعِضَاهِ، فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ شَجَرَةٍ، فَعَلَّقَ سَيْفَهُ بِغُصْنٍ مِنْ أَغْصَانِهَا، قَالَ: وَتَفَرَّقَ النَّاسُ فِي الْوَادِي يَسْتَظِلُّونَ بِالشَّجَرِ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ رَجُلًا أَتَانِي وَأَنَا نَائِمٌ، فَأَخَذَ السَّيْفَ فَاسْتَيْقَظْتُ، وَهُوَ قَائِمٌ عَلَى رَأْسِي فَلَمْ أَشْعُرْ إِلَّا وَالسَّيْفُ صَلْتًا فِي يَدِهِ، فَقَالَ لِي: مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟ قَالَ، قُلْتُ: اللَّهُ، ثُمَّ قَالَ فِي الثَّانِيَةِ: مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟ قَالَ، قُلْتُ: اللَّهُ، قَالَ: فَشَامَ السَّيْفَ فَهَا هُوَ ذَا جَالِسٌ، ثُمَّ لَمْ يَعْرِضْ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
معمر نے زہری سے، انہوں نے ابوسلمہ سے اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، نیز محمد بن جعفر بن زیاد نے۔ الفاظ انہی کے ہیں۔ ابراہیم بن سعد سے، انہوں نے سنان بن ابی سنان دؤلی سے، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ نجد کی طرف جہاد کو گئے تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ایک وادی میں پایا جہاں کانٹے دار درخت بہت زیادہ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک درخت کے نیچے اترے اور اپنی تلوار ایک شاخ سے لٹکا دی اور لوگ اس وادی میں الگ الگ ہو کر سایہ ڈھونڈھتے ہوئے پھیل گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ ایک شخص میرے پاس آیا، میں سو رہا تھا کہ اس نے تلوار اتار لی اور میں جاگا تو وہ میرے سر پر کھڑا ہوا تھا۔ مجھے اس وقت خبر ہوئی جب اس کے ہاتھ میں ننگی تلوار آ گئی تھی۔ وہ بولا کہ اب تمہیں مجھ سے کون بچا سکتا ہے؟ میں نے کہا کہ اللہ! پھر دوسری بار اس نے یہی کہا تو میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ۔ یہ سن کر اس نے تلوار نیام میں کر لی۔ وہ شخص یہ بیٹھا ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے کچھ بھی نہ کہا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 5950]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5950 صحیح مسلم
عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي سَلَمَةَ ، جَابِرٍ ، أَبُو عِمْرَانَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ ، إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، الزُّهْرِيِّ ، سِنَانِ بْنِ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيِّ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَابِرٍ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو عِمْرَانَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سِنَانِ بْنِ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةً قِبَلَ نَجْدٍ، فَأَدْرَكَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَادٍ كَثِيرِ الْعِضَاهِ، فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ شَجَرَةٍ، فَعَلَّقَ سَيْفَهُ بِغُصْنٍ مِنْ أَغْصَانِهَا، قَالَ: وَتَفَرَّقَ النَّاسُ فِي الْوَادِي يَسْتَظِلُّونَ بِالشَّجَرِ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ رَجُلًا أَتَانِي وَأَنَا نَائِمٌ، فَأَخَذَ السَّيْفَ فَاسْتَيْقَظْتُ، وَهُوَ قَائِمٌ عَلَى رَأْسِي فَلَمْ أَشْعُرْ إِلَّا وَالسَّيْفُ صَلْتًا فِي يَدِهِ، فَقَالَ لِي: مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟ قَالَ، قُلْتُ: اللَّهُ، ثُمَّ قَالَ فِي الثَّانِيَةِ: مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟ قَالَ، قُلْتُ: اللَّهُ، قَالَ: فَشَامَ السَّيْفَ فَهَا هُوَ ذَا جَالِسٌ، ثُمَّ لَمْ يَعْرِضْ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
معمر نے زہری سے، انہوں نے ابوسلمہ سے اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، نیز محمد بن جعفر بن زیاد نے۔ الفاظ انہی کے ہیں۔ ابراہیم بن سعد سے، انہوں نے سنان بن ابی سنان دؤلی سے، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ نجد کی طرف جہاد کو گئے تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ایک وادی میں پایا جہاں کانٹے دار درخت بہت زیادہ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک درخت کے نیچے اترے اور اپنی تلوار ایک شاخ سے لٹکا دی اور لوگ اس وادی میں الگ الگ ہو کر سایہ ڈھونڈھتے ہوئے پھیل گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ ایک شخص میرے پاس آیا، میں سو رہا تھا کہ اس نے تلوار اتار لی اور میں جاگا تو وہ میرے سر پر کھڑا ہوا تھا۔ مجھے اس وقت خبر ہوئی جب اس کے ہاتھ میں ننگی تلوار آ گئی تھی۔ وہ بولا کہ اب تمہیں مجھ سے کون بچا سکتا ہے؟ میں نے کہا کہ اللہ! پھر دوسری بار اس نے یہی کہا تو میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ۔ یہ سن کر اس نے تلوار نیام میں کر لی۔ وہ شخص یہ بیٹھا ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے کچھ بھی نہ کہا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 5950]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 843 صحیح مسلم
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَبُو الْيَمَانِ ، شُعَيْبٌ ، الزُّهْرِيِّ ، سِنَانُ بْنُ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيُّ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ
وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنِي سِنَانُ بْنُ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيُّ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ : أَنّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَخْبَرَهُمَا أَنَّهُ غَزَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةً قِبَلَ نَجْدٍ، فَلَمَّا قَفَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَفَلَ مَعَهُ، فَأَدْرَكَتْهُمُ الْقَائِلَةُ يَوْمًا، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، وَمَعْمَرٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
شعیب نے زہری سے روایت کی، کہا: مجھے سنان بن ابی سنان دؤلی اور ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے حدیث بیان کی کہ حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ نے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابہ میں سے ہیں، ان دونوں کو خبر دی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی معیت میں نجد کی طرف ایک جنگ میں حصہ لیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم واپس ہوئے تو وہ بھی آپ کے ساتھ واپس ہوئے، ایک دن دوپہر کے آرام کا وقت ہو گیا، اس کے بعد انہوں نے ابراہیم بن سعد اور معمر کی حدیث کی طرح بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 5951]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5951 صحیح مسلم
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَبُو الْيَمَانِ ، شُعَيْبٌ ، الزُّهْرِيِّ ، سِنَانُ بْنُ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيُّ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ
وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنِي سِنَانُ بْنُ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيُّ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ : أَنّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَخْبَرَهُمَا أَنَّهُ غَزَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةً قِبَلَ نَجْدٍ، فَلَمَّا قَفَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَفَلَ مَعَهُ، فَأَدْرَكَتْهُمُ الْقَائِلَةُ يَوْمًا، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، وَمَعْمَرٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
شعیب نے زہری سے روایت کی، کہا: مجھے سنان بن ابی سنان دؤلی اور ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے حدیث بیان کی کہ حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ نے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابہ میں سے ہیں، ان دونوں کو خبر دی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی معیت میں نجد کی طرف ایک جنگ میں حصہ لیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم واپس ہوئے تو وہ بھی آپ کے ساتھ واپس ہوئے، ایک دن دوپہر کے آرام کا وقت ہو گیا، اس کے بعد انہوں نے ابراہیم بن سعد اور معمر کی حدیث کی طرح بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 5951]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 843 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ، عَفَّانُ ، أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ، يَحْيَي بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، جَابِرٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِذَاتِ الرِّقَاعِ بِمَعْنَى حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ، وَلَمْ يَذْكُرْ، ثُمَّ لَمْ يَعْرِضْ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یحییٰ بن ابی کثیر نے ابوسلمہ سے، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ (واپس) آئے، یہاں تک کہ جب ہم ذات الرقاع پہنچے، (پھر) زہری کی حدیث کے ہم معنی روایت کی اور یہ نہیں کہا: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے کوئی تعرض نہ فرمایا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 5952]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5952 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ، عَفَّانُ ، أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ، يَحْيَي بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، جَابِرٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِذَاتِ الرِّقَاعِ بِمَعْنَى حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ، وَلَمْ يَذْكُرْ، ثُمَّ لَمْ يَعْرِضْ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یحییٰ بن ابی کثیر نے ابوسلمہ سے، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ (واپس) آئے، یہاں تک کہ جب ہم ذات الرقاع پہنچے، (پھر) زہری کی حدیث کے ہم معنی روایت کی اور یہ نہیں کہا: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے کوئی تعرض نہ فرمایا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 5952]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة