بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: خوابوں کی تعبیر کا بیان۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم خواب کا بیان باب: خوابوں کی تعبیر کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 8
حدیث نمبر: 2269 صحیح مسلم
حَاجِبُ بْنُ الْوَلِيدِ ، مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، الزُّبَيْدِيِّ ، الزُّهْرِيُّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، ابْنَ عَبَّاسٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ ، حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي التُّجِيبِيُّ ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ الزُّبَيْدِيِّ ، أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ، أَوْ أَبَا هُرَيْرَةَ ، كَانَ يُحَدِّثُ: أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي التُّجِيبِيُّوَاللَّفْظُ لَهُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ كَانَ يُحَدِّثُ: " أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَرَى اللَّيْلَةَ فِي الْمَنَامِ ظُلَّةً تَنْطِفُ السَّمْنَ وَالْعَسَلَ، فَأَرَى النَّاسَ يَتَكَفَّفُونَ مِنْهَا بِأَيْدِيهِمْ، فَالْمُسْتَكْثِرُ، وَالْمُسْتَقِلُّ، وَأَرَى سَبَبًا وَاصِلًا مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ، فَأَرَاكَ أَخَذْتَ بِهِ فَعَلَوْتَ، ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ مِنْ بَعْدِكَ فَعَلَا، ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَعَلَا، ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَانْقَطَعَ بِهِ، ثُمَّ وُصِلَ لَهُ فَعَلَا، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِأَبِي أَنْتَ، وَاللَّهِ لَتَدَعَنِّي فَلَأَعْبُرَنَّهَا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اعْبُرْهَا، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَمَّا الظُّلَّةُ، فَظُلَّةُ الْإِسْلَامِ، وَأَمَّا الَّذِي يَنْطِفُ مِنَ السَّمْنِ وَالْعَسَلِ، فَالْقُرْآنُ حَلَاوَتُهُ وَلِينُهُ، وَأَمَّا مَا يَتَكَفَّفُ النَّاسُ مِنْ ذَلِكَ، فَالْمُسْتَكْثِرُ مِنَ الْقُرْآنِ وَالْمُسْتَقِلُّ، وَأَمَّا السَّبَبُ الْوَاصِلُ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ، فَالْحَقُّ الَّذِي أَنْتَ عَلَيْهِ تَأْخُذُ بِهِ فَيُعْلِيكَ اللَّهُ بِهِ، ثُمَّ يَأْخُذُ بِهِ رَجُلٌ مِنْ بَعْدِكَ فَيَعْلُو بِهِ، ثُمَّ يَأْخُذُ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَيَعْلُو بِهِ، ثُمَّ يَأْخُذُ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَيَنْقَطِعُ بِهِ، ثُمَّ يُوصَلُ لَهُ فَيَعْلُو بِهِ، فَأَخْبِرْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِأَبِي أَنْتَ، أَصَبْتُ أَمْ أَخْطَأْتُ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَصَبْتَ بَعْضًا، وَأَخْطَأْتَ بَعْضًا، قَالَ: فَوَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَتُحَدِّثَنِّي مَا الَّذِي أَخْطَأْتُ، قَالَ: لَا تُقْسِمْ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن حرب نے یونس زبیدی سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے زہری نے عبیداللہ بن عبداللہ سے خبر دی کہ ابن عباس یا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حدیث سنایا کرتے تھے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور ابن وہب نے ہمیں خبر دی، کہا: مجھے یونس زبیدی نے ابن شہاب سے خبر دی کہ عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے انہیں بغیر شک کے بتایا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما حدیث بیان کیا کرتے تھے کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ یا رسول اللہ! میں نے رات کو خواب میں دیکھا کہ بادل کے ٹکڑے سے گھی اور شہد ٹپک رہا ہے، لوگ اس کو اپنے ہونٹوں سے لیتے ہیں کوئی زیادہ لیتا ہے اور کوئی کم۔ اور میں نے دیکھا کہ آسمان سے زمین تک ایک رسی لٹکی ہے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کو پکڑ کر اوپر چڑھ گئے۔ پھر آپ کے بعد ایک شخص نے اس کو تھاما، وہ بھی چڑھ گیا۔ پھر ایک اور شخص نے تھاما وہ بھی چڑھ گیا۔ پھر ایک اور شخص نے تھاما تو وہ ٹوٹ گئی، پھر جڑ گئی اور وہ بھی اوپر چلا گیا۔ یہ سن کر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یا رسول اللہ! میرا باپ آپ پر قربان ہو مجھے اس کی تعبیر بیان کرنے دیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا بیان کر۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا کہ وہ بادل کا ٹکڑا تو اسلام ہے اور گھی اور شہد سے قرآن کی حلاوت اور نرمی مراد ہے اور لوگ جو زیادہ اور کم لیتے ہیں وہ بھی بعضوں کو بہت قرآن یاد ہے اور بعضوں کو کم اور وہ رسی جو آسمان سے زمین تک لٹکی ہے وہ دین حق ہے جس پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہیں۔ پھر اللہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اسی دین پر اپنے پاس بلا لے گا آپ کے بعد ایک اور شخص (آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا خلیفہ) اس کو تھامے گا وہ بھی اسی طرح چڑھا جائے گا پھر اور ایک شخص تھامے گا اور اس کا بھی یہی حال ہو گا۔ پھر ایک اور شخص تھامے گا تو کچھ خلل پڑے گا لیکن وہ خلل آخر مٹ جائے گا اور وہ بھی چڑھ جائے گا۔ یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں مجھ سے بیان فرمائیے کہ میں نے ٹھیک تعبیر بیان کی؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ تو نے کچھ ٹھیک کہا کچھ غلط کہا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ کی قسم یا رسول اللہ! آپ بیان کیجیے کہ میں نے کیا غلطی کی؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ قسم مت کھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الرُّؤْيَا/حدیث: 5928]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5928 صحیح مسلم
حَاجِبُ بْنُ الْوَلِيدِ ، مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، الزُّبَيْدِيِّ ، الزُّهْرِيُّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، ابْنَ عَبَّاسٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ ، حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي التُّجِيبِيُّ ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ الزُّبَيْدِيِّ ، أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ، أَوْ أَبَا هُرَيْرَةَ ، كَانَ يُحَدِّثُ: أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي التُّجِيبِيُّوَاللَّفْظُ لَهُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ كَانَ يُحَدِّثُ: " أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَرَى اللَّيْلَةَ فِي الْمَنَامِ ظُلَّةً تَنْطِفُ السَّمْنَ وَالْعَسَلَ، فَأَرَى النَّاسَ يَتَكَفَّفُونَ مِنْهَا بِأَيْدِيهِمْ، فَالْمُسْتَكْثِرُ، وَالْمُسْتَقِلُّ، وَأَرَى سَبَبًا وَاصِلًا مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ، فَأَرَاكَ أَخَذْتَ بِهِ فَعَلَوْتَ، ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ مِنْ بَعْدِكَ فَعَلَا، ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَعَلَا، ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَانْقَطَعَ بِهِ، ثُمَّ وُصِلَ لَهُ فَعَلَا، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِأَبِي أَنْتَ، وَاللَّهِ لَتَدَعَنِّي فَلَأَعْبُرَنَّهَا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اعْبُرْهَا، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَمَّا الظُّلَّةُ، فَظُلَّةُ الْإِسْلَامِ، وَأَمَّا الَّذِي يَنْطِفُ مِنَ السَّمْنِ وَالْعَسَلِ، فَالْقُرْآنُ حَلَاوَتُهُ وَلِينُهُ، وَأَمَّا مَا يَتَكَفَّفُ النَّاسُ مِنْ ذَلِكَ، فَالْمُسْتَكْثِرُ مِنَ الْقُرْآنِ وَالْمُسْتَقِلُّ، وَأَمَّا السَّبَبُ الْوَاصِلُ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ، فَالْحَقُّ الَّذِي أَنْتَ عَلَيْهِ تَأْخُذُ بِهِ فَيُعْلِيكَ اللَّهُ بِهِ، ثُمَّ يَأْخُذُ بِهِ رَجُلٌ مِنْ بَعْدِكَ فَيَعْلُو بِهِ، ثُمَّ يَأْخُذُ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَيَعْلُو بِهِ، ثُمَّ يَأْخُذُ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَيَنْقَطِعُ بِهِ، ثُمَّ يُوصَلُ لَهُ فَيَعْلُو بِهِ، فَأَخْبِرْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِأَبِي أَنْتَ، أَصَبْتُ أَمْ أَخْطَأْتُ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَصَبْتَ بَعْضًا، وَأَخْطَأْتَ بَعْضًا، قَالَ: فَوَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَتُحَدِّثَنِّي مَا الَّذِي أَخْطَأْتُ، قَالَ: لَا تُقْسِمْ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن حرب نے یونس زبیدی سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے زہری نے عبیداللہ بن عبداللہ سے خبر دی کہ ابن عباس یا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حدیث سنایا کرتے تھے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور ابن وہب نے ہمیں خبر دی، کہا: مجھے یونس زبیدی نے ابن شہاب سے خبر دی کہ عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے انہیں بغیر شک کے بتایا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما حدیث بیان کیا کرتے تھے کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ یا رسول اللہ! میں نے رات کو خواب میں دیکھا کہ بادل کے ٹکڑے سے گھی اور شہد ٹپک رہا ہے، لوگ اس کو اپنے ہونٹوں سے لیتے ہیں کوئی زیادہ لیتا ہے اور کوئی کم۔ اور میں نے دیکھا کہ آسمان سے زمین تک ایک رسی لٹکی ہے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کو پکڑ کر اوپر چڑھ گئے۔ پھر آپ کے بعد ایک شخص نے اس کو تھاما، وہ بھی چڑھ گیا۔ پھر ایک اور شخص نے تھاما وہ بھی چڑھ گیا۔ پھر ایک اور شخص نے تھاما تو وہ ٹوٹ گئی، پھر جڑ گئی اور وہ بھی اوپر چلا گیا۔ یہ سن کر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یا رسول اللہ! میرا باپ آپ پر قربان ہو مجھے اس کی تعبیر بیان کرنے دیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا بیان کر۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا کہ وہ بادل کا ٹکڑا تو اسلام ہے اور گھی اور شہد سے قرآن کی حلاوت اور نرمی مراد ہے اور لوگ جو زیادہ اور کم لیتے ہیں وہ بھی بعضوں کو بہت قرآن یاد ہے اور بعضوں کو کم اور وہ رسی جو آسمان سے زمین تک لٹکی ہے وہ دین حق ہے جس پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہیں۔ پھر اللہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اسی دین پر اپنے پاس بلا لے گا آپ کے بعد ایک اور شخص (آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا خلیفہ) اس کو تھامے گا وہ بھی اسی طرح چڑھا جائے گا پھر اور ایک شخص تھامے گا اور اس کا بھی یہی حال ہو گا۔ پھر ایک اور شخص تھامے گا تو کچھ خلل پڑے گا لیکن وہ خلل آخر مٹ جائے گا اور وہ بھی چڑھ جائے گا۔ یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں مجھ سے بیان فرمائیے کہ میں نے ٹھیک تعبیر بیان کی؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ تو نے کچھ ٹھیک کہا کچھ غلط کہا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ کی قسم یا رسول اللہ! آپ بیان کیجیے کہ میں نے کیا غلطی کی؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ قسم مت کھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الرُّؤْيَا/حدیث: 5928]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2269 صحیح مسلم
ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
وحَدَّثَنَاه ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْصَرَفَهُ مِنْ أُحُدٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَأَيْتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ فِي الْمَنَامِ ظُلَّةً تَنْطِفُ السَّمْنَ وَالْعَسَلَ بِمَعْنَى حَدِيثِ يُونُسَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان نے زہری سے، انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: احد سے واپسی پر ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: اللہ کے رسول! میں نے آج رات خواب میں بادل کے ایک ٹکڑے کو سایہ فگن دیکھا ہے جو شہد اور گھی ٹپکا رہا تھا، یونس کی حدیث کے مفہوم کے مطابق (حدیث بیان کی)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الرُّؤْيَا/حدیث: 5929]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5929 صحیح مسلم
ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
وحَدَّثَنَاه ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْصَرَفَهُ مِنْ أُحُدٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَأَيْتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ فِي الْمَنَامِ ظُلَّةً تَنْطِفُ السَّمْنَ وَالْعَسَلَ بِمَعْنَى حَدِيثِ يُونُسَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان نے زہری سے، انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: احد سے واپسی پر ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: اللہ کے رسول! میں نے آج رات خواب میں بادل کے ایک ٹکڑے کو سایہ فگن دیکھا ہے جو شہد اور گھی ٹپکا رہا تھا، یونس کی حدیث کے مفہوم کے مطابق (حدیث بیان کی)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الرُّؤْيَا/حدیث: 5929]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2269 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَوْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: كَانَ مَعْمَرٌ أَحْيَانًا، يَقُولُ: عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَحْيَانًا يَقُولُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي أَرَى اللَّيْلَةَ ظُلَّةً بِمَعْنَى حَدِيثِهِمْ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالرزاق نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں معمر نے زہری سے خبر دی انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے (آگے) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما یا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، عبدالرزاق نے کہا کہ معمر کبھی کہتے تھے: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے اور کبھی کہتے تھے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کی: میں نے آج رات ایک بادل کو سایہ فگن دیکھا ہے۔ ان سب کی بیان کردہ حدیث کے مفہوم کے مطابق۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الرُّؤْيَا/حدیث: 5930]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5930 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَوْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: كَانَ مَعْمَرٌ أَحْيَانًا، يَقُولُ: عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَحْيَانًا يَقُولُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي أَرَى اللَّيْلَةَ ظُلَّةً بِمَعْنَى حَدِيثِهِمْ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالرزاق نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں معمر نے زہری سے خبر دی انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے (آگے) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما یا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، عبدالرزاق نے کہا کہ معمر کبھی کہتے تھے: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے اور کبھی کہتے تھے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کی: میں نے آج رات ایک بادل کو سایہ فگن دیکھا ہے۔ ان سب کی بیان کردہ حدیث کے مفہوم کے مطابق۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الرُّؤْيَا/حدیث: 5930]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2269 صحیح مسلم
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، سُلَيْمَانُ وَهُوَ ابْنُ كَثِيرٍ ، الزُّهْرِيِّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ وَهُوَ ابْنُ كَثِيرٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ مِمَّا يَقُولُ لِأَصْحَابِهِ: مَنْ رَأَى مِنْكُمْ رُؤْيَا، فَلْيَقُصَّهَا أَعْبُرْهَا لَهُ، قَالَ، فَجَاءَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَأَيْتُ ظُلَّةً، بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سلمان بن کثیر نے زہری سے، انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم صحابہ رضی اللہ عنہم سے یہ فرمایا کرتے تھے:تم میں سے جس شخص نے خواب دیکھا ہے، وہ بیان کرے، میں اس کی تعبیر بتاؤں گا۔کہا: تو ایک شخص آیا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! میں نے ایک بادل کو سایہ فگن دیکھا۔ جس طرح ان سب (بیان کرنے والوں) کی حدیث ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الرُّؤْيَا/حدیث: 5931]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5931 صحیح مسلم
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، سُلَيْمَانُ وَهُوَ ابْنُ كَثِيرٍ ، الزُّهْرِيِّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ وَهُوَ ابْنُ كَثِيرٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ مِمَّا يَقُولُ لِأَصْحَابِهِ: مَنْ رَأَى مِنْكُمْ رُؤْيَا، فَلْيَقُصَّهَا أَعْبُرْهَا لَهُ، قَالَ، فَجَاءَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَأَيْتُ ظُلَّةً، بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سلمان بن کثیر نے زہری سے، انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم صحابہ رضی اللہ عنہم سے یہ فرمایا کرتے تھے:تم میں سے جس شخص نے خواب دیکھا ہے، وہ بیان کرے، میں اس کی تعبیر بتاؤں گا۔کہا: تو ایک شخص آیا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! میں نے ایک بادل کو سایہ فگن دیکھا۔ جس طرح ان سب (بیان کرنے والوں) کی حدیث ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الرُّؤْيَا/حدیث: 5931]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة